Main Icon

باب: کون شخص صدقہ واپس نہ لے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1955

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- إِذْ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَت: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِجَارِيَةٍ، وَإِنَّهَا مَاتَتْ، قَالَ: "وَجَبَ أَجَرُكِ، وَرَدَّهَا عَلَيْكِ الْمِيرَاثُ". قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنَّهُ كَانَ عَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ أفأَصُومُ عَنْهَا؟ قَالَ: "صُوْمِي عَنْهَا". قَالَتْ:إِنَّهَا لَمْ تَحُجَّ قَطُّ، أَفَأَحُجُّ عَنْهَا؟ قَالَ: "نَعَمْ، حُجِّي عَنْهَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن بريدة قال: كنت جالسا عند النبي -صلی اللہ عليه وسلم- إذ أتته امرأة فقالت: يا رسول الله! إني تصدقت على أمي بجارية، وإنها ماتت، قال: "وجب أجرك، وردها عليك الميراث". قالت: يا رسول الله! إنه كان عليها صوم شهر أفأصوم عنها؟ قال: "صومي عنها". قالت:إنها لم تحج قط، أفأحج عنها؟ قال: "نعم، حجي عنها". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا تھا کہ ایک عورت حاضر ہوئی بولی یارسول اللہ میں نے اپنی ماں کو ایک لونڈی صدقہ میں دی تھی اور ماں فوت ہوگئی ۱؎فرمایا تمہارا ثواب پورا ہوگیا اور میراث نے تمہیں لونڈی واپس دے دی ۲؎عرض کیا یارسول اللہ میری ماں پر ایک مہینہ کے روزے تھے کیا میں اس کی طرف سے روزے رکھ دوں فرمایا رکھ دو ۳؎بولی اس نے حج نہ کیا تھا کیا میں کروں فرمایا ہاں اس کی طرف سے حج کردو۴؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اوروہ لونڈی بطور میراث مجھے مل رہی ہے آیا اسے لوں یا نہ لوں کسی اور کو خیرات دے دوں۔ اس جملہ سے معلوم ہوا کہ غریب ماں باپ کو صدقہ نفلی دے سکتے صدقہ فرض نہیں دے سکتے ہیں۔اس کی تحقیق پہلے کی جاچکی اور ہوسکتا ہے کہ ان بی بی نے اپنی ماں کو لونڈی ہدیۃً دی ہو اور صدقہ سے ہدیہ مراد لیا ہو۔
۲
؎اس حدیث نے تصریح کردی کہ بطور میراث اگر اپنا صدقہ لوٹ آئے تو اس کا لینا جائز ہے۔بعض علماء نے فرمایا کہ دوسرے فقیر کو دے دےکیونکہ یہ حق اللہ بن چکا ہے مگر یہ قیاس حدیث کے مقابل ہے لہذا رد ہے۔
۳
؎امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی بنا پر فرمایا کہ میت کے قضا روزے وارث رکھ سکتا ہےلیکن امام ابوحنیفہ و شافعی و مالک علیہم الرحمۃ و الرضوان فرماتے ہیں نہیں رکھ سکتا کیونکہ روزہ خالص بدنی عبادت ہے جس میں نیابت ناجائز ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"لَّیۡسَ لِلْاِنۡسٰنِ اِلَّا مَا سَعٰی"اور فرماتاہے:"لَہَا مَا کَسَبَتْ"اور فرماتاہے:"وَعَلَی الَّذِیۡنَ یُطِیۡقُوۡنَہٗ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیۡنٍ"۔حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں نہ کوئی کسی کی طرف سے نماز پڑھے،نہ روزے رکھے یہاں روزوں کا کفارہ دینا مراد ہے یعنی تم اپنی ماں کے روزوں کا فدیہ دے دو جو حکمًا روزہ ہے۔
۴
؎خواہ انہوں نے وصیت کی ہو یا نہ کی ہو اگر ان پر حج فرض تھا تو ان کی طرف سے تم کردو۔تمام علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ قریب الغنا بیمار یا بوڑھے کی طرف سے اور میت کی طرف سے حج بدل کرنا جائز ہے کیونکہ حج خالص بدنی عبادت نہیں بلکہ بدنی اور مالی کا مجموعہ ہے جو سخت مجبوری اور معذوری کی حالت میں دوسرے کے ادا کردینے سے ادا ہوسکتا ہے لہذا یہ حدیث ان تمام بزرگوں کی دلیل ہے ۔عبادات تین قسم کی ہیں:محض بدنی،محض مالی،بدنی و مالی کا مجموعہ۔محض بدنی عبادات میں نیابت مطلقًا ناجائز ہے جیسے روزہ،نماز اور محض مالی میں مطلقًا جائز جیسے زکوۃ اور صدقہ فطر وغیرہ اور مجموعہ میں دائمی عذر میں جائز ویسے ناجائز۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1955