Main Icon

باب:مختلف مضامین کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2076

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ: "هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟ " فَقُلْنَا: لَا، قَالَ: "فَإِنِّي إِذًا صَائِمٌ". ثُمَّ أَتَانَا يَوْمًا آخَرَ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ،فَقَالَ: "أَرِينِيهِ فَلَقَدْ أَصْبَحْتُ صَائِمًا" فَأَكَلَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

عن عائشة قالت: دخل علي النبي -صلی اللہ عليه وسلم- ذات يوم فقال: "هل عندكم شيء؟ " فقلنا: لا، قال: "فإني إذا صائم". ثم أتانا يوما آخر فقلنا: يا رسول الله! أهدي لنا حيس،فقال: "أرينيه فلقد أصبحت صائما" فأكل. رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو فرمایا کیا تمہارے پاس کچھ ہے ہم نے عرض کیا نہیں ۱؎فرمایا تو اچھا ہمارا روزہ ہے ۲؎پھر دوسرے اور دن تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ہمیں حیس ہدیۃ آیا ہے ۳؎فرمایا مجھے دکھاؤ میں نے تو آج روزہ دار ہو کر صبح کی تھی پھر آپ نے کھالیا ۴؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ سوال تمام ازواج پاک سے تھا اور یہ جواب بھی سب کی طرف سے ہوا یعنی نو ازواج میں سے کسی کے گھر میں کھانے کی کوئی چیز نہیں جو مالک کونین ہے ان کے اپنے گھر کا یہ حال ہے۔شعر
مالک کونین ہیں گو پاس کچھ رکھتے نہیں دو جہاں کی نعمتیں ہیں ان کے خالی ہاتھ میں
حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فقر و فاقہ اختیاری ہے،فرماتے ہیں اگر میں چاہوں تو میرے ساتھ سونے کے پہاڑ چلیں۔
۲
؎یعنی چونکہ آج گھر میں کچھ کھانے کو نہیں لہذا ہم اب اس وقت سے روزہ نفلی کی نیت کرتے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ روزے نفل کی نیت ضحوی کبرےٰ یعنی نصف نہارشرعی سے پہلے پہلے ہوسکتی ہے رات سے ہونا ضروری نہیں۔مصنف اسی مقصد کے لیے یہ حدیث یہاں لائے۔
۳
؎یعنی کسی شخص نے کھجور کا حلوہ بطور ہدیہ بھیجا ہے حضور ملاحظہ فرمائیں۔عربی میںحیسکے معنی ہیں خلط یا مخلوط چیز۔اصطلاح میں یہ ایک حلوہ ہے جو مکھن،پنیر،کھجور سے یا آٹے،مکھن اور گھی سے تیار کیا جاتا ہے۔حریسہ اس سے اعلیٰ درجہ کا ہوتا ہے۔فقیر نے مدینہ طیبہ میں حیس بھی کھایا ہے اور حریسہ بھی۔
۴
؎یہ صورت پہلے کا عکس ہوئی کہ وہاں تو گھر میں کھانا نہ ہونے کی وجہ سے روزے کی نیت کرلی گئی تھی اور یہاں کھانا دیکھ کر رکھا ہوا نفلی روزہ توڑ دیا گیا،ہمارے امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا مذہب یہ ہے کہ نفلی روزہ یا نماز شروع کرنے سے واجب ہوجاتے ہیں کہ ان کا پورا کرنا ضروری ہوتاہے کیونکہ رب تعالٰی نے فرمایاہے: "لَا تُبْطِلُوۡۤا اَعْمٰلَکُمْ"اور فرماتاہے:"فَمَا رَعَوْھَا حَقَّ رِعَایَتِہَا"یعنی اہل کتاب نے نیک اعمال شروع کیے انہیں نبھایا نہیں۔معلوم ہوا کہ نیکی شروع کرکے پوری کرنا واجب ہے۔اگر کوئی شخص نفلی روزہ شروع کرکے توڑ دے تو اس کی قضاء واجب ہے ان دو گزشتہ آیتوں کی وجہ سے اور اس حدیث کی وجہ سے جو بروایت حضرت عائشہ صدیقہ آگے آرہی ہیں اور نفلی حج و عمرہ پر قیاس کی وجہ سے کہ یہ دونوں چیزیں احرام باندھتے ہی واجب ہوجاتی ہیں کہ اگر انہیں پورا نہ کرسکے تو قضاءکرنا واجب ہے۔خیال رہے کہ نفلی روزہ اور نمازیں بلا عذر توڑنا ناجائز ہیں، دعوت اور مہمان کی آمدبھی عذر ہیں یہ حدیث حنفیوں کے خلاف نہیں کہ یہاں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ روزہ توڑنا عذرًا تھا یعنی کئی روز سے کھانا ملاحظہ نہ فرمایا اور اس میں یہ ذکر نہیں کہ آپ نے اس روزے کی قضا نہ کی لہذا یہ حدیث نہ شافعیوں کی دلیل ہے نہ مالکیوں کی اور نہ حنفیوں کے خلاف۔
نوٹ:شوافع کے ہاں نفلی روزہ توڑنے سے مطلقًا قضاء واجب نہیں اور مالکیوں کے ہاں اگر بلاعذر توڑا ہو تو قضاء واجب ہے،ہمارے ہاں مطلقًا قضا واجب۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2076