Main Icon

باب:مختلف مضامین کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2082

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: دَخَلَ بِلَالٌ عَلَى رَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- وَهُوَ يَتَغَدَّى، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "الْغَدَاءَ يَا بِلَالُ". قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ يَا رَسُولَ اللّٰهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "نَأْكُلُ رِزْقَنَا، وَفَضْلُ رِزْقِ بِلَالٍ فِي الْجَنَّةِ، أَشْعَرْتَ يَا بِلَالُ أَن الصَّائِم يُسَبِّحُ عِظَامُهُ، وَيَسْتَغْفِرُ لَهُ المَلَائِكَةُ مَا أُكِلَ عِنْدَهُ؟ ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".

عن بريدة قال: دخل بلال على رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- وهو يتغدى، فقال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "الغداء يا بلال". قال: إني صائم يا رسول الله، فقال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "نأكل رزقنا، وفضل رزق بلال في الجنة، أشعرت يا بلال أن الصائم يسبح عظامه، ويستغفر له الملائكة ما أكل عنده؟ ". رواه البيهقي في "شعب الإيمان".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت بریدہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ حضرت بلال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جب کہ حضور ناشتہ کررہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے بلال ناشتہ کرلو عرض کیا یارسول اللہ میں روزہ دار ہوں ۲؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم اپنی روزی کھارہے ہیں اور بلال کی بہتر روزی جنت میں ہے ۳؎ا ے بلال کیا تمہیں خبر ہے کہ جب تک روزے دار کے سامنے کچھ کھایا جائے تب تک اس کی ہڈیاں تسبیح کرتی ہیں اسے فرشتے دعائیں دیتے ہیں ۴؎(بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱؎آپ مشہور صحابی ہیں،اسلمی ہیں،سحمی ہیں،زمانہ نبوی اور زمانہ خلفائے راشدین میں آپ نے اسلام کی شاندار خدمات کیں،جنگ جمل و صفین میں جناب علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، یزید پلید کے زمانہ میں۶۲∞ ہجری میں مقام مرو میں وفات ہوئی،وہیں آپ کا مزار ہے جس سے لوگ برکتیں حاصل کرتے ہیں۔
۲
؎اس سے معلوم ہوا کہ اگر کھانا کھاتے میں کوئی آجائے تو اسے بھی کھانے کے لیے بلانا سنت ہے مگر دلی ارادہ سے بلائے جھوٹی تواضع نہ کرے اور آنے والابھی جھوٹ بول کر یہ نہ کہے کہ مجھے خواہش نہیں تاکہ بھوک اور جھوٹ کا اجتماع نہ ہوجاے بلکہ اگر کھانا کم دیکھے تو کہہ دےبَارَكَ الله،یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی عبادات نہیں چھپانی چاہئے بلکہ ظاہرکردی جائیں تاکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اس پر گواہ بن جائیں یہ اظہار ریاءنہیں۔
۳
؎یعنی آج کی روزی ہم تو اپنی یہیں کھائے لیتے ہیں اور بلال اس کے عوض جنت میں کھائیں گے،وہ عوض اس سے بہتر بھی ہوگا اور زیادہ بھی۔
۴
؎حدیث بالکل اپنے ظاہری معنی پر ہے،واقعی اس وقت روزہ دار کی ہر ہڈی و جوڑ بلکہ رگ رگ تسبیح کرتی ہے جس کا روزہ دار کو پتہ نہیں ہوتا مگر سرکار سنتے ہیں یہ تسبیح اگرچہ بغیر اختیار ہے مگر اس پر ثواب بے شمار،جب سبزہ کی تسبیح سے میت کو فائدہ پہنچ جاتا ہے تو ان ہڈیوں کی تسبیح سے خود روزہ دار بلکہ اس کے پاس بیٹھنے والوں کو بھی ثواب ملے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2082