Main Icon

باب: روزہ کی قضا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2030

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ يَكُونُ عَلَيَّ الصَّوْمُ مِنْ رَمَضَانَ، فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقْضِيَ إِلَّا فِي شَعْبَانَ. قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: تَعْنِي الشُّغْلُ مِنَ النَّبِيِّ، أَوْ بِالنَّبِيِّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن عائشة قالت: كان يكون علي الصوم من رمضان، فما أستطيع أن أقضي إلا في شعبان. قال يحيى بن سعيد: تعني الشغل من النبي، أو بالنبي -صلی اللہ عليه وسلم-. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں مجھ پر رمضان کے روزے ہوتے تھے ۱؎تو میں سوائے شعبان کے قضا نہ کرسکتی تھی۲؎یحیی ابن سعید نے فرمایا آپ کی مراد حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مشغولیت ہے ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎جو نسائی عوارض یا بیماری کی وجہ سے رہ جاتے تھے پہلے معنے زیادہ مناسب ہیں۔
۲
؎یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ حیات شریف میں رمضان کے روزوں کی قضا شعبان سے پہلے نہ کرسکتی تھی شعبان میں قضا کرتی تھی کہ وہ آخری مہینہ ہوتا تھا جس کے بعد دوسرا رمضان ہوتا تھا یا ماہ شعبان میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اکثر روزے رکھتے تھے اس لیے میں فراغت پالیتی تھی۔
۳
؎اس جملہ کا مطلب ہے کہ دس ماہ میں جس وقت حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیار رہتی تھی کہ نہ معلوم حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کس وقت شرف قربت عنایت فرمائیں اس لیے روزہ قضا نہ کرتی تھی۔معلوم ہورہا ہے کہ ام المؤمنین ان دس ماہ میں نفلی روزے بھی نہ رکھتی تھیں جب فرض قضا نہ کرسکتی تھیں تو نفل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ خاوند کو حق ہے کہ ایک عورت کی باری کے دن میں دوسری عورت سے صحبت کرے کیونکہ باری صرف رات کے قیام کی ہوتی ہے نہ کہ صحبت کی۔دوسرے یہ کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت دیگر عبادات سے افضل ہے،دیکھو حضرت عائشہ صدیقہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کے لیے نفلی روزے نہ رکھتی تھیں،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اکثر روزہ دار رہتی تھیں۔تیسرے یہ کہ ام المؤمنین کو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے بتادینے سے معلوم تھا کہ میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں وفات نہ پاؤں گی۔اگر آپ کو اپنی وفات کا ہر دم خطرہ رہتا تو آپ پر قضا بہت جلدکرنا ضروری ہوتا جیسے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے حج فرض ہونے پر پہلے سال حج نہ کیا کیونکہ آپ کو اپنی زندگی کا یقین تھا،ہم پر فرض ہوتے ہی کرلینا ضروری ہے تاخیر گناہ ہے۔چوتھے یہ کہ ایک سال کے رمضان کی قضا دوسرے رمضان آنے سے پہلے ضرورکرلینا چاہئیے شعبان میں ضروری کرلے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2030