Main Icon

باب:سر منڈانے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2646

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَقَ رَأْسَهٗ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَأُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهٖ وَقَصَّرَ بَعْضُهُمْ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن ابن عمر: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم حلق رأسه في حجة الوداع وأناس من أصحابه وقصر بعضهم(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اور کچھ صحابہ نے حجۃ الوداع میں سر منڈائے اور بعض نے بال کٹوائے ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی حجۃ الوداع کے موقع پرحضور انورصلی اللّٰہ علیہ و سلم اور بعض صحابہ کرام نے سر مبارک منڈائے اور بعض صحابہ نے بال کٹوائے عمرہ میں حضور نےبھی بال کٹوائے جیساکہ اگلی حدیث میں آرہا ہے لہذا سر منڈوانا اور کتروانا دونوں جائز ہیں، رب تعالٰی فرماتا ہے: "مُحَلِّقِیۡنَ رُءُوۡسَکُمْ وَ مُقَصِّرِیۡنَ"مگر منڈانا افضل ہے سارا سر منڈانا یا کتروانا چاہیےکہ بعض سرمنڈانا کتروانا قزع کہلاتا ہے جو شرعًا مکروہ ہے،امام مالک کے ہاں پورا سر منڈانا یا کتروانا فرض ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2646