Main Icon

باب:سر منڈانے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2651

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ وَيَوْمَ النَّحْرِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالبَيْتِ بِطِيبٍ فِيهِ مِسْكٌ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عائشة قالت: كنت أطيب رسول الله صلى الله عليه وسلم قبل أن يحرم ويوم النحر قبل أن يطوف بالبيت بطيب فيه مسك(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں میں رسول صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو احرام باندھنے سے پہلے اور بقر عید کے دن بیت اللّٰه کے طواف سے پہلے وہ خوشبو ملتی تھی جس میں مشک ہوتا تھا ۱؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ا م المؤمنین اس میں ان لوگوں کی تردید فرمارہی ہیں جو کہتے تھے کہ بقر عید کے دن طواف زیارت سے پہلے حاجی کو خوشبو لگانا حلال نہیں طواف کے بعد حلال ہوگی،فرماتی ہیں کہ میں نے خود حضور انور کے کپڑوں میں طواف زیارت سے پہلے خوشبو ملی ہے۔معلوم ہوا کہ حاجی کو قربانی یا حلق سے ناقص تحلل حاصل ہوجاتا ہے ۔جس سے بجز بیوی کے تمام چیزیں حلال ہو جاتی ہیں اور طواف زیارت سے تحلل تام ہوجاتا ہےجس سے بیوی بھی حلال ہوجاتی ہے۔خیال رہے کہ حضور انور نے حج تو صرف ایک ہی کیا مگر عمرہ چار کیے ہیں لہذا ام المؤمنین کا فرمانا کہ خوشبو ملتی تھی مجموعہ کے لحاظ سے ہے،لہذا حدیث واضح ہے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔علما فرماتے ہیں کہ بہترین خوشبو مشک و گلاب ہے کہ اس میں مہک اچھی ہوتی ہے مگر رنگت نہیں ہوتی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2651