Main Icon

باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2728

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: مَا كَتَبْنَا عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الْقُرْآنَ وَمَا فِي هٰذِهِ الصَّحِيفَةِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمَدِينَةُ حَرَامٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلٰى ثَوْرٍ فَمَنْ أَحْدَثَ فِيْهَا حَدَثًا أَوْ آوٰى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ ذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَ يَسْعٰى بِهَا أَدْنَاهُمْ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ وَمَنْ وَالٰى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ »(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا: «مَنِ ادَّعٰى إِلٰى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ تَوَلّٰى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ »

عن علي رضي الله عنه قال: ما كتبنا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا القرآن وما في هذه الصحيفة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «المدينة حرام ما بين عير إلى ثور فمن أحدث فيها حدثا أو آوى محدثا فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل منه صرف ولا عدل ذمة المسلمين واحد يسعى بها أدناهم فمن أخفر مسلما فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل منه صرف ولا عدل ومن والى قوما بغير إذن مواليه فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل منه صرف ولا عدل »(متفق عليه) وفي رواية لهما: «من ادعى إلى غير أبيه أو تولى غير مواليه فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل منه صرف ولا عدل »

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے سوائے قرآن کے اور اس کے جو اس کتاب میں ہے کچھ اور نہ لکھا ۱؎فرمایا کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم فرماتے ہیں مدینہ منورہ عیر سے ثور تک کے درمیان حرم ہے ۲؎تو جو اس میں کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعتی کو پناہ دے تو اس پر اللّٰه کی اور فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ۳؎اس کے نہ فرائض قبول ہوں نہ نفل ۴؎مسلمانوں کا ذمہ ایک ہے کہ ان کا ادنی آدمی بھی کوشش کرسکتا ہے ۵؎جوکسی مسلمان کی عہد شکنی کرے اس پر اللّٰہ،فرشتوں اور سارے انسانوں کی لعنت ہے نہ اس کے فرض قبول نہ نفل ۶؎جو اپنے کو اپنے دوستوں کی بغیر اجازت کسی قوم سے عقد دوستی باندھے اس پر اللّٰه کی فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے نہ اس کے فرض قبول ہوں نہ نفل ۷؎(مسلم، بخاری)انہی کی دوسری روایت میں یوں ہے کہ جو اپنے کو ا پنے غیر باپ کی طرف منسوب کرے ۸؎یا اپنے غیرمولاؤں سے ولاءکرے تو اس پر اللّٰه کی،فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے نہ اس کے فرض قبول ہوں اور نہ نفل ۹؎

شرح حدیث

۱∞؎حضرت علی کے زمانہ خلافت میں رفض اور خروج کی جڑیں قائم ہوئیں چھپے منافق ان گروہوں کی شکل میں نمودار ہوئے،روافض نے مشہور کیا کہ حضرت علی کے پاس نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کا خصوصی وصیت نامہ اور خلافت نامہ ہے جس میں لکھا ہے کہ آپ اسلام کے خلیفہ اول ہیں لہذا گزشتہ خلافتیں باطل تھیں اور یہ کہ آپ کے پاس کوئی خاص چھپا ہوا قرآن ہے اور وہی اصلی ہے اس لیے بعض لوگ آپ سے اس کے متعلق سوال کرتے تھے اور جناب علی مرتضٰی یہ جواب دیتے تھے،بعض روافض کو آپ نے زندہ جلوادیا جیسا کہ مشکوٰۃکتاب الحدودمیں آئے گا مگر یہ دبی چنگاری سلگتی ہی رہی۔صحیفہ ایک کاغذ تھا جس میں کچھ شرعی احکام لکھے ہوئے تھے جو جناب علی کی تلوار کے پرتلہ میں رہتا تھا جو آپ لوگوں کو دکھایا بھی کرتے تھے اور سناتے بھی تھے،وہی واقعہ یہاں بیان ہورہا ہے آپ فرمارہے ہیں کہ ہمارے پاس کوئی اور قرآن نہیں یہی قرآن ہے اور حضور انور کی کوئی خاص وصیت یا تحریر نہیں صرف یہ ورق ہے جس میں کچھ احکام لکھے ہوئے ہیں۔
۲
؎عیرو ثورکے متعلق شارحین کے بہت اقوال ہیں۔حضرت شیخ نے اشعہ میں فرمایا کہ یہ دونوں پہاڑ ہیں جو مدینہ منورہ کے کناروں پر واقع ہیں،بعض نے فرمایا کہ یہ دونوں پہاڑ مکہ معظمہ میں ہیں۔ثور پہاڑ وہ ہے جس کے غار میں ہجرت کی رات حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم مع صدیق اکبر چھپے تھے اس لیے اسے غار ثور کہتے ہیں اور حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جتنا فاصلہ مکہ کے دو پہاڑوں عیرو ثور کے درمیان ہے اتنا فاصلہ مدینہ منورہ کا حرم ہے،بعض نے فرمایا کہ عیر تو مدینہ منورہ میں ہے اور ثور مکہ معظمہ میں،بعض کے خیال میں ہے کہ عیر و ثور پہاڑ نہیں بلکہ اطراف مدینہ کے دو میدانوں کا نام ہے جنہیں حرّتین کہتے ہیں،بعض روایات میں عیر و اُحد ہے راوی نے غلطی سے بجائے احد کے ثور کہا،بہرحال مدینہ منورہ کے حدود مراد ہیں۔
۳
؎یہ فرمان امام اعظم کی قوی دلیل ہیں کہ حدود مدینہ میں شکار حرام نہیں بلکہ یہ چیزیں حرام ہیں جو حضرت علی نے بیان فرمائیں یعنی یہاں بدعتیں ایجاد کرنا بدعتیوں کو مدینہ میں جگہ دینا سخت گناہ ہے کہ اس میں مدینہ منورہ کی بے حرمتی بھی ہے اور دین میں فسادبھی۔خیال رہے کہ بدعت و بدعتی سے عقیدہ کی بدعتیں و بدعتی مراد ہیں جیسے رفض و خوارج،وہابیت وغیرہ نہ کہ عملی بدعتیں کہ وہ تو کبھی فرض واجب بھی ہوتی ہیں جیسے کتب حدیث کا جمع کرنا یا قرآن کریم کے تیس پارے اور علم فقہ وغیرہ،اگرچہ ہر جگہ ہی بدعتیں بری ہیں مگر مدینہ پاک میں زیادہ بری۔
۴
؎صَرفسے مراد فرائض ہیں یا شفاعت یا توبہ اور عدل سے مراد نوافل ہیں یا فدیہ گناہ کہ صرف کے معنے ہیں پھیرنا فرائض کی ادا یا شفاعت یا
توبہ سے عذاب الٰہی پھر جاتا ہے،لوٹ جاتا ہے،عدل کے معنے ہیں برابری نفل کبھی فرض کی کمی پوری کرکے کامل فرض کے برابر کردیتے ہیں یا فدیہ اصل فوت شدہ کے برابر ہوتا ہے۔
۵
؎یعنی اگر معمولی درجے کا مسلمان کسی کافر کو امان یا ذمہ یا پناہ دے دے تو تمام مسلمانوں پر اس کا پورا کرنا لازم ہے اسے توڑنا حرام ہے اور باعث مذمت،سارے مسلمان ایک جسم کے اعضاء کی طرح ہیں کہ روح سب کی ایک ہے کوشش کرنے سے مراد والی یا متولی یا ذمہ دار ہوتاہے۔
۶
؎یعنی جو مسلمان دوسرے مسلمان کے ذمہ یا اس کی دی ہوئی امان توڑے یا اس کے کیے ہوئے وعدوں کے خلاف کرے اس پر لعنت ہے۔
۷
؎ولاء دو قسم کی ہے ولاء مولات اور ولاء عتاقۃ،ولاء مولات قوموں کے معاہدے کو کہتے ہیں کہ چند قومیں کسی معاہدے میں شریک ہوکر ایک دوسرے کے معاون و مددگار بن جائیں،ان میں سے ہر ایک بغیر دوسرے ساتھیوں سے مشورہ کیے کسی اور قوم سے معاہدہ نہ کرے کہ اس میں عہدشکنی ہے جو حرام ہے یا یہ مطلب ہے کہ آزاد کردہ غلام اپنے آزاد کرنے والے مولٰی کا عتاقہ ہے کہ اسے اس غلام کی میراث کا حق پہنچتا ہے،یہ غلام دوسرے کو اپنا مولٰی نہ بتائے جس کا معتق ہے اسی کا رہے یا یہ مطلب ہے کہ کوئی مسلمان بھائی،بھائی مسلمان کو ستانے کے لیے کافر سے دوستی نہ کرے ورنہ لعنت کا مستحق ہوگا۔غرضکہ اس جملہ کی تین شرحیں ہیں۔اس کلام سے معلوم ہوا کہ علم لکھ لینا سنت صحابہ ہے،یہ بھی معلوم ہوا کہ روافض کا یہ قول غلط محض ہے کہ حضور انور نے اہل بیت کو خلافت کی وصیت کی یا کوئی خاص قرآن دیا یا انہیں قرآن کے ایسے خاص اسرار لکھائے جو دوسروں سے چھپائے۔نعوذ بِاللّٰهِ !۸؎اس طرح کہ غیر باپ کو اپنا باپ بتائے کہ فلاں کا بیٹا ہوں یا اپنے کو غیر قوم کی طرف نسبت کرے،سید نہ ہو مگر کہے کہ میں سید ہوں اس میں ماں کو گالی دینا ہے اور سخت لعنت و عذاب کا استحقاق۔
۹
؎اس فرمان عالی سے آج کل کے وہ لوگ عبرت پکڑیں جنہیں سیدیا شیخ یا پٹھان بننے کا شوق ہے،اس بیماری میں بہت مسلمان گرفتار ہیں رب تعالٰی اس مرض سے شفا بخشے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2728