- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- کتاب ارکان حج
- حدیث نمبر 2728
باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2728
کتاب ارکان حج - جلد 4
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: مَا كَتَبْنَا عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الْقُرْآنَ وَمَا فِي هٰذِهِ الصَّحِيفَةِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمَدِينَةُ حَرَامٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلٰى ثَوْرٍ فَمَنْ أَحْدَثَ فِيْهَا حَدَثًا أَوْ آوٰى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ ذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَ يَسْعٰى بِهَا أَدْنَاهُمْ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ وَمَنْ وَالٰى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ »(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا: «مَنِ ادَّعٰى إِلٰى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ تَوَلّٰى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ »
عن علي رضي الله عنه قال: ما كتبنا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا القرآن وما في هذه الصحيفة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «المدينة حرام ما بين عير إلى ثور فمن أحدث فيها حدثا أو آوى محدثا فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل منه صرف ولا عدل ذمة المسلمين واحد يسعى بها أدناهم فمن أخفر مسلما فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل منه صرف ولا عدل ومن والى قوما بغير إذن مواليه فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل منه صرف ولا عدل »(متفق عليه) وفي رواية لهما: «من ادعى إلى غير أبيه أو تولى غير مواليه فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل منه صرف ولا عدل »
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے سوائے قرآن کے اور اس کے جو اس کتاب میں ہے کچھ اور نہ لکھا ۱؎فرمایا کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم فرماتے ہیں مدینہ منورہ عیر سے ثور تک کے درمیان حرم ہے ۲؎تو جو اس میں کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعتی کو پناہ دے تو اس پر اللّٰه کی اور فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ۳؎اس کے نہ فرائض قبول ہوں نہ نفل ۴؎مسلمانوں کا ذمہ ایک ہے کہ ان کا ادنی آدمی بھی کوشش کرسکتا ہے ۵؎جوکسی مسلمان کی عہد شکنی کرے اس پر اللّٰہ،فرشتوں اور سارے انسانوں کی لعنت ہے نہ اس کے فرض قبول نہ نفل ۶؎جو اپنے کو اپنے دوستوں کی بغیر اجازت کسی قوم سے عقد دوستی باندھے اس پر اللّٰه کی فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے نہ اس کے فرض قبول ہوں نہ نفل ۷؎(مسلم، بخاری)انہی کی دوسری روایت میں یوں ہے کہ جو اپنے کو ا پنے غیر باپ کی طرف منسوب کرے ۸؎یا اپنے غیرمولاؤں سے ولاءکرے تو اس پر اللّٰه کی،فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے نہ اس کے فرض قبول ہوں اور نہ نفل ۹؎
شرح حدیث
۱∞؎حضرت علی کے زمانہ خلافت میں رفض اور خروج کی جڑیں قائم ہوئیں چھپے منافق ان گروہوں کی شکل میں نمودار ہوئے،روافض نے مشہور کیا کہ حضرت علی کے پاس نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کا خصوصی وصیت نامہ اور خلافت نامہ ہے جس میں لکھا ہے کہ آپ اسلام کے خلیفہ اول ہیں لہذا گزشتہ خلافتیں باطل تھیں اور یہ کہ آپ کے پاس کوئی خاص چھپا ہوا قرآن ہے اور وہی اصلی ہے اس لیے بعض لوگ آپ سے اس کے متعلق سوال کرتے تھے اور جناب علی مرتضٰی یہ جواب دیتے تھے،بعض روافض کو آپ نے زندہ جلوادیا جیسا کہ مشکوٰۃکتاب الحدودمیں آئے گا مگر یہ دبی چنگاری سلگتی ہی رہی۔صحیفہ ایک کاغذ تھا جس میں کچھ شرعی احکام لکھے ہوئے تھے جو جناب علی کی تلوار کے پرتلہ میں رہتا تھا جو آپ لوگوں کو دکھایا بھی کرتے تھے اور سناتے بھی تھے،وہی واقعہ یہاں بیان ہورہا ہے آپ فرمارہے ہیں کہ ہمارے پاس کوئی اور قرآن نہیں یہی قرآن ہے اور حضور انور کی کوئی خاص وصیت یا تحریر نہیں صرف یہ ورق ہے جس میں کچھ احکام لکھے ہوئے ہیں۔
۲؎عیرو ثورکے متعلق شارحین کے بہت اقوال ہیں۔حضرت شیخ نے اشعہ میں فرمایا کہ یہ دونوں پہاڑ ہیں جو مدینہ منورہ کے کناروں پر واقع ہیں،بعض نے فرمایا کہ یہ دونوں پہاڑ مکہ معظمہ میں ہیں۔ثور پہاڑ وہ ہے جس کے غار میں ہجرت کی رات حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم مع صدیق اکبر چھپے تھے اس لیے اسے غار ثور کہتے ہیں اور حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جتنا فاصلہ مکہ کے دو پہاڑوں عیرو ثور کے درمیان ہے اتنا فاصلہ مدینہ منورہ کا حرم ہے،بعض نے فرمایا کہ عیر تو مدینہ منورہ میں ہے اور ثور مکہ معظمہ میں،بعض کے خیال میں ہے کہ عیر و ثور پہاڑ نہیں بلکہ اطراف مدینہ کے دو میدانوں کا نام ہے جنہیں حرّتین کہتے ہیں،بعض روایات میں عیر و اُحد ہے راوی نے غلطی سے بجائے احد کے ثور کہا،بہرحال مدینہ منورہ کے حدود مراد ہیں۔
۳؎یہ فرمان امام اعظم کی قوی دلیل ہیں کہ حدود مدینہ میں شکار حرام نہیں بلکہ یہ چیزیں حرام ہیں جو حضرت علی نے بیان فرمائیں یعنی یہاں بدعتیں ایجاد کرنا بدعتیوں کو مدینہ میں جگہ دینا سخت گناہ ہے کہ اس میں مدینہ منورہ کی بے حرمتی بھی ہے اور دین میں فسادبھی۔خیال رہے کہ بدعت و بدعتی سے عقیدہ کی بدعتیں و بدعتی مراد ہیں جیسے رفض و خوارج،وہابیت وغیرہ نہ کہ عملی بدعتیں کہ وہ تو کبھی فرض واجب بھی ہوتی ہیں جیسے کتب حدیث کا جمع کرنا یا قرآن کریم کے تیس پارے اور علم فقہ وغیرہ،اگرچہ ہر جگہ ہی بدعتیں بری ہیں مگر مدینہ پاک میں زیادہ بری۔
۴؎صَرفسے مراد فرائض ہیں یا شفاعت یا توبہ اور عدل سے مراد نوافل ہیں یا فدیہ گناہ کہ صرف کے معنے ہیں پھیرنا فرائض کی ادا یا شفاعت یا
توبہ سے عذاب الٰہی پھر جاتا ہے،لوٹ جاتا ہے،عدل کے معنے ہیں برابری نفل کبھی فرض کی کمی پوری کرکے کامل فرض کے برابر کردیتے ہیں یا فدیہ اصل فوت شدہ کے برابر ہوتا ہے۔
۵؎یعنی اگر معمولی درجے کا مسلمان کسی کافر کو امان یا ذمہ یا پناہ دے دے تو تمام مسلمانوں پر اس کا پورا کرنا لازم ہے اسے توڑنا حرام ہے اور باعث مذمت،سارے مسلمان ایک جسم کے اعضاء کی طرح ہیں کہ روح سب کی ایک ہے کوشش کرنے سے مراد والی یا متولی یا ذمہ دار ہوتاہے۔
۶؎یعنی جو مسلمان دوسرے مسلمان کے ذمہ یا اس کی دی ہوئی امان توڑے یا اس کے کیے ہوئے وعدوں کے خلاف کرے اس پر لعنت ہے۔
۷؎ولاء دو قسم کی ہے ولاء مولات اور ولاء عتاقۃ،ولاء مولات قوموں کے معاہدے کو کہتے ہیں کہ چند قومیں کسی معاہدے میں شریک ہوکر ایک دوسرے کے معاون و مددگار بن جائیں،ان میں سے ہر ایک بغیر دوسرے ساتھیوں سے مشورہ کیے کسی اور قوم سے معاہدہ نہ کرے کہ اس میں عہدشکنی ہے جو حرام ہے یا یہ مطلب ہے کہ آزاد کردہ غلام اپنے آزاد کرنے والے مولٰی کا عتاقہ ہے کہ اسے اس غلام کی میراث کا حق پہنچتا ہے،یہ غلام دوسرے کو اپنا مولٰی نہ بتائے جس کا معتق ہے اسی کا رہے یا یہ مطلب ہے کہ کوئی مسلمان بھائی،بھائی مسلمان کو ستانے کے لیے کافر سے دوستی نہ کرے ورنہ لعنت کا مستحق ہوگا۔غرضکہ اس جملہ کی تین شرحیں ہیں۔اس کلام سے معلوم ہوا کہ علم لکھ لینا سنت صحابہ ہے،یہ بھی معلوم ہوا کہ روافض کا یہ قول غلط محض ہے کہ حضور انور نے اہل بیت کو خلافت کی وصیت کی یا کوئی خاص قرآن دیا یا انہیں قرآن کے ایسے خاص اسرار لکھائے جو دوسروں سے چھپائے۔نعوذ بِاللّٰهِ !۸؎اس طرح کہ غیر باپ کو اپنا باپ بتائے کہ فلاں کا بیٹا ہوں یا اپنے کو غیر قوم کی طرف نسبت کرے،سید نہ ہو مگر کہے کہ میں سید ہوں اس میں ماں کو گالی دینا ہے اور سخت لعنت و عذاب کا استحقاق۔
۹؎اس فرمان عالی سے آج کل کے وہ لوگ عبرت پکڑیں جنہیں سیدیا شیخ یا پٹھان بننے کا شوق ہے،اس بیماری میں بہت مسلمان گرفتار ہیں رب تعالٰی اس مرض سے شفا بخشے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2728