Main Icon

باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2755

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ الْخَطَّابِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ زَارَنِي مُتَعَمِّدًا كَانَ فِي جِوَارِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ سَكَنَ الْمَدِينَةَ وَصَبَرَ عَلٰى بَلَائِهَا كُنْتُ لَهٗ شَهِيدًا وَشَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ مَاتَ فِي أَحَدِ الْحَرَمَيْنِ بَعَثَهُ اللّٰهُ مِنَ الْآمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

وعن رجل من آل الخطاب عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من زارني متعمدا كان في جواري يوم القيامة ومن سكن المدينة وصبر على بلائها كنت له شهيدا وشفيعا يوم القيامة ومن مات في أحد الحرمين بعثه الله من الآمنين يوم القيامة

حدیث ترجمہ

روایت ہے اولاد خطاب کے ایک مرد سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا جو قصدًا میری زیارت کرے وہ قیامت کے دن میری امان میں ہوگا ۱؎اور جو مدینہ منورہ میں رہے اور یہاں کی تکالیف پر صبر کرے میں قیامت کے دن اس کا شفیع اور گواہ ہوں گا ۲؎اور جو دونوں حرم سے کسی حرم میں مر جائے وہ قیامت کے دن امن والوں سے ہوگا۳؎

شرح حدیث

۱∞؎اس جملہ کے علماء نے اور معنے کیے ہیں عشاق نے کچھ اور۔علماء فرماتے ہیں کہ جو مدینہ منورہ صرف روضہ رسول صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی زیارت کی نیت سے جائے،نام نمود یا کوئی تجارتی کاروبار دنیاوی کام مقصود نہ ہو وہ قیامت میں حضور کا پڑوسی اور حضور کی امان میں ہوگا۔ مسجد نبوی کی زیارت بقیع اور مسجد قبا کی حاضری اسی کے تابع ہو،اصل مقصود حاضری بارگاہ عالی ہو جیسے نفل نماز میں اصل مقصود رضاءالٰہی ہے مگر کبھی قضاء حاجات اداءشکر،تحیۃ الوضو وغیرہ بھی اس سے ادا ہوجاتے ہیں مگر تبعًا لیکن عشاق کہتے ہیں کہ مدینہ پاک کی حاضری میں مسجد نبوی شریف جنت البقیع وغیرہ کی حاضری کی بھی نیت نہ کرے بلکہ بعض عشاق تو حج کے سفر میں مدینہ پاک حاضر نہ ہوئے بلکہ مدینہ کے لیے علیحدہ مستقل علیحدہ سفر کیا اور اس حدیث کو بالکل ظاہری معنے پر محمول فرمایا۔مدینہ پاک کی حاضری صرف زیارت کے لیے ہو۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو کہتے ہیں کہ وہاں کی حاضری صرف مسجد نبوی کی نماز کی نیت سے ہو،زیارت کی نیت نہ ہومعاذ اللّٰہ !مسجدیں تو دنیا میں ہزار ہا ہیں اس مسجد کی عظمت زیادہ کیوں ہے ؟صرف حضور کے دم قدم سے۔اس سے معلوم ہوا کہ قیامت میں حضور کی امان ہی کام آئے گی۔اس سے وہ عبرت پکڑیں جو کہتے ہیں کہ خدا کے سوا کسی کی امان نہیں۔(از مرقات ولمعات وا شعہ)
۲
؎یعنی تا قیامت اور خصوصًا میرے حیات شریف کے زمانہ میں جو مدینہ پاک کی ظاہر تکالیف پر صبر کرجائے اسے کل قیامت میں میری خاص شفاعت میسر ہوگی جو دوسروں کو نصیب نہ ہوگی۔
۳
؎یعنی مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ میں مرنے والا قیامت کی بڑی گھبراہٹ جسے فزع اکبر کہتے ہیں،اس سے محفوظ رہے گا مگر یہ فوائد مسلمانوں کے لیے ہیں لہذا اس پر یہ اعتراض نہیں کہ ابوجہل وغیرہ کفار بھی وہاں ہی مرے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2755