Main Icon

باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2742

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ مِنْ بَلَدٍ إِلَّا سَيَطَؤهُ الدَّجَّالُ إِلَّا مَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ، لَيْسَ نَقَبٌ مِنْ أَنِقَابِهَا إِلَّا عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ صَافِّينَ يَحْرُسُونَهَا فَيَنْزِلُ السَّبْخَةَ فَتَرْجُفُ الْمَدِينَةُ بِأَهْلِهَا ثَلَاثَ رَجْفَاتٍ فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ كُلُّ كَافِرٍ وَمُنَافِقٍ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ليس من بلد إلا سيطؤه الدجال إلا مكة والمدينة، ليس نقب من أنقابها إلا عليه الملائكة صافين يحرسونها فينزل السبخة فترجف المدينة بأهلها ثلاث رجفات فيخرج إليه كل كافر ومنافق»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ ایسا کوئی شہر نہیں جسے دجّال روند نہ ڈالے سوائے مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کے ۱؎اس کے راستوں میں سے ایسا کوئی راستہ نہیں جس میں صف بستہ فرشتے نہ ہوں جو اس کی حفاظت کرتے ہیں ۲؎چنانچہ وہ زمین شور میں اترے گا پھر مدینہ اپنے باشندوں پر تین بار کانپے گا۳؎تو دجّال کی طرف ہر کافر و منافق نکل جائے گا۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی دجّال تمام دنیا کے سارے شہروں گاؤں میں پہنچ کر فساد پھیلادے گا مگر حرمین طیبین میں داخل نہ ہوسکے گا اور یہاں پہنچ کر فساد نہ پھیلا سکے گا۔صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ جسم پاک مصطفٰے صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی وجہ سے مدینہ منورہ دجّال سے محفوظ ہے تو جس دل پر حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی نگاہ کرم ہوجائے وہ بھی یقینًا شیطان سے محفوظ ہوجاتا ہے۔
۲
؎دجّال مدینہ منورہ میں داخل ہونا چاہے گا مگر ان فرشتوں کو دیکھ کر آگے نہ بڑھ سکے گا جیسے شیطان فرشتوں کو دیکھ لیتا ہے ایسے ہی وہ بھی دیکھ لے گا۔
۳
؎سبخہ شورستان یعنی کھاری زمین کو کہتے ہیں اور مدینہ منورہ سے قریب ایک جگہ کا نام بھی ہے ۔باھلہامیںبیا سببیہ ہے یا صلہ کی، پہلی صورت میں اہل سے مراد وہاں کے منافق و کافر باشندے ہیں،دوسری صورت میں سارے اہل مدینہ مراد ہیں یعنی زمین مدینہ وہاں کے بے دینی باشندوں کی وجہ سے یا تمام باشندوں پر تین بار کانپے گی یعنی زلزلہ آئے گا تاکہ بے دین نکل کر دجّال کے پاس پہنچ جائیں اور مخلصین یہیں رہ جائیں،مخلصین کسی مصیبت میں بھی مدینہ پاک نہیں چھوڑتے،یہ زلزلے کھروں کھوٹوں میں چھانٹ کے لیے ہوں گے ان سے وہاں کے مکانات نہ گریں گے صرف انسانوں کو جھٹکے محسوس ہوں گے اسی لیےباھلھافرمایا۔
۴
؎معلوم ہواکہ اس زمانہ میں مدینہ طیبہ میں کفار ہوں گے چھپے یا کھلے یا وہ لوگ جو اسلام کا دعویٰ کریں گے مگر ہوں گے کافر،مشرک نہ ہوں گے لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ جزیرہ عرب میں شیطان کی عبادت نہیں ہوسکتی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2742