Main Icon

باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2751

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: آخِرُ قَرْيَةٍ مِنْ قُرَى الْإِسْلَامِ خَرَابًا الْمَدِينَةُ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: آخر قرية من قرى الإسلام خرابا المدينة . رواه الترمذي وقال: هذا حديث حسن غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ اسلام کی بستیوں میں سے آخری بستی جو ویران ہوگی وہ مدینہ پاک ہے ۱؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن ہے غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث میں دو باتیں فرمائی گئیں:ایک یہ کہ قریب قیامت بڑی بڑی بستیاں ویران ہوجائیں گی مگر مدینہ منورہ آباد رہے گا،یہ بالکل قیامت سے متصل ویران ہوگا۔دوسرے یہ کہ عالم کی آبادی مدینہ پاک کی آبادی سے وابستہ ہے جب یہ اجڑ گیا دنیا اجڑ جائے گی قیامت آجائے گی۔ (اشعہ،مرقاۃ)خیال رہے کہ یہاںقریۃبمعنی بستی ہے جو شہر و گاؤں سب کو شامل ہے بمعنی گاؤں نہیں،عربی میں گاؤں کو قریہ،قصبہ کو بلد،اس سے بڑی بستی کو مدینہ،اس سے بڑی کو مصر کہتے ہیں،بعض نے بلد اور مدینہ کو یکساں کہا ہے مگر کبھی قریہ بمعنی مطلقًا بستی میں آجاتا ہے چھوٹی ہو یا بڑی۔(اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2751