Main Icon

باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2758

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِوَادِي الْعَقِيقِ يَقُولُ: أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتٍ مِنْ رَبِّي فَقَالَ: صَلِّ فِي هٰذَا الْوَادِي الْمُبَارَكِ وَقُلْ: عُمْرَةٌ فِي حَجَّةٍ ". وَفِي رِوَايَةٍ: "وَقُلْ عُمْرَةٌ وَحَجَّةٌ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن ابن عباس قال: قال عمر بن الخطاب: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو بوادي العقيق يقول: أتاني الليلة آت من ربي فقال: صل في هذا الوادي المبارك وقل: عمرة في حجة ". وفي رواية: "وقل عمرة وحجة". رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا حضرت عمر ابن خطاب نے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا جب کہ آپ عقیق کے میدان میں تھے ۱؎کہ میرے پاس میرے رب کی طرف سے کوئی آنے والا آیا اس نے کہا کہ آپ اس مبارک جنگل میں نماز پڑھیں اور فرمائیں عمرہ حج میں ہے ۲؎ایک روایت میں یوں ہے کہ فرمایئے عمرہ اور حج۔(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎وادی عقیق مدینہ منورہ کے قریب ذوالحلیفہ سے متصل ایک میدان ہے بہت متبرک یہ واقعہ حجۃ الوداع کا ہے اور وادی عقیق ذات عرق کے پاس ایک جنگل کا بھی نام ہے وہ یہاں مراد نہیں۔
۲
؎اگر یہ واقعہ سفر حج کا ہے تو نماز سے مراد کوئی اور نفل نماز ہے نہ کہ احرام کی نماز کیونکہ حضور انور نے وادی عقیق سے احرام نہ باندھا تھا بلکہ ذوالحلیفہ سے اورقُلالخ سے تلبیہ فرمانا ہے یعنی آپ اس جنگل میں نفل نماز بھی پڑھیں اور تلبیہ بھی کہیں جس میں یہ الفاظ ہوں کہ یہ عمرہ مع حج کے ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ تمتع اور افراد سے قران افضل ہے اور اگر کسی اور سفر کا واقعہ ہے تو مطلب یہ ہوگا کہ آپ یہاں نماز پڑھیں اور لوگوں سے فرمادیں کہ یہاں کی نماز حج و عمرہ کے برابر ثواب رکھتی ہے جب بھی قران کی افضلیت ثابت ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2758