Main Icon

باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3376

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: عُرِضْتُ عَلَى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ أُحُدٍ، وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَرَدَّنِي ثُمَّ عُرِضْتُ عَلَيْهِ عَامَ الْخَنْدَقِ، وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَأَجَازَنِي. فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: هَذَا فَرْقُ مَا بَين الْمُقَاتِلَةِ وَالذُّرِّيَّةِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن ابن عمر قال: عرضت على رسول الله صلى الله عليه وسلم عام أحد، وأنا ابن أربع عشرة سنة، فردني ثم عرضت عليه عام الخندق، وأنا ابن خمس عشرة سنة، فأجازني. فقال عمر بن عبد العزيز: هذا فرق ما بين المقاتلة والذرية. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سےفرماتے ہیں کہ میں رسول اصلی اللہ علیہ و سلم پر احد کے سال پیش کیا گیاجب کہ میں چودہ سال کا تھا تو مجھے قبول نہ فرمایا ۱؎پھر خندق کے سال پیش کیا گیاجب کہ میں پندرہ برس کا تھا تو مجھے قبول فرمالیا ۲؎حضرت عمر ابن عبد العزیز نے فرمایا کہ یہ ہی غازیوں اور بچوں کے درمیان فرق ہے ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ۳ھ؁ ∞ میں غزوہ احد ہوا مجھے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں بھرتی کے لیے پیش کیا گیا کہ میرا نام بھی غازیوں کی فہرست میں ہو اور مجھے سپاہیانہ حیثیت سے غزوہ میں جانے کی اجازت ملے تو حضور نے انکار فرمادیا کہ ابھی یہ نابالغ بچے ہیں۔
۲
؎یعنی ۴ھ؁ ∞ میں غزوہ خندق ہوا تب میری عمر پندرہ سال ہوچکی تھی تب میں اسلامی فوج میں بھرتی کے لیے پیش ہوا تو مجھے بھرتی کرلیا گیا۔
۲
؎خیال رہے کہ لڑکی کے بلوغ کی عمر کم از کم نو سال ہے اور زیادہ سے زیادہ پندرہ سال اور لڑکے کے بلوغ کی عمر کم از کم بارہ سال زیادہ سے زیادہ اٹھارہ سال ہے مگر ایک روایت میں اس کی انتہائی عمر پندرہ سال ہے فتویٰ اسی پر ہے، یہ تو سن کے لحاظ سے بلوغ کا ذکر تھا،علامت بلوغ لڑکی کے لیے حیض ہوجانا یا زیر ناف بال آجانا یا احتلام ہے،لڑکے کے لیے علامات بلوغ احتلام، حاملہ کردینا، زیر ناف بال ہیں، یہاں بلوغ کی انتہائی عمر کا ذکر ہے لہذا حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ اس عمر سے پہلے لڑکا بالغ ہوسکتا ہی نہیں،مطلب یہ ہے کہ اگر پندرہ سال کی عمر میں بھی یہ کوئی علامت ظاہر نہ ہو تو لڑکا بالغ مانا جائے گا۔(مرقات و اشعہ وغیرہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3376