Main Icon

باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3380

نکاح کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعنهُ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: إِنَّ زَوْجِي يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِابْنِي، وَقَدْ سَقَانِي وَنَفَعَنِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "هَذَا أَبُوكَ وَهَذِهِ أُمُّكَ،فَخُذْ بِيَدِ أَيِّهِمَا شِئْتَ" فَأَخَذَ بِيَدِ أُمِّهِ فَانْطَلَقَتْ بِهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ.

وعنه قال: جاءت امرأة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم - فقالت: إن زوجي يريد أن يذهب بابني، وقد سقاني ونفعني، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : "هذا أبوك وهذه أمك،فخذ بيد أيهما شئت" فأخذ بيد أمه فانطلقت به. رواه أبو داود والنسائي والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں ایک عورت رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آئی بولی کہ میرا خاوند ۱؎میرے بچے کو لے جانا چاہتا ہے یہ بچہ مجھے پانی پلاتا ہے،مجھے نفع پہنچاتا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا یہ تیرا باپ ہے اور یہ تیری ماں ہے ان میں سے جس کا چاہے ہاتھ پکڑ لے تو بچے نے اپنی ماں کا ہاتھ پکڑ لیا وہ اسے لے گئی ۲؎(ابوداؤد،نسائی،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں خاوند مجازی معنے میں ہے یعنی جو میرا خاوند تھا ورنہ اب تو یہ عورت مطلقہ ہوچکی تھی۔
۲
؎اس کی تحقیق ابھی ہوچکی کہ یہ حدیث امام شافعی و احمد کی دلیل ہے کہ ہوش مند بچہ کو ان کے ہاں اختیارملتا ہے ماں باپ میں سے جس کے پاس چاہے رہے،ہمارے ہاں نہیں بلکہ چھوٹا جو محتاج پرورش ہو ماں کو ملے گا سمجھ دار بچہ جو حد پرورش سے نکل چکا ہو اور تعلیم و تربیت کا حاجت مند ہو باپ کو ملے گا کیونکہ پرورش ماں اچھی کرتی ہے تربیت باپ،یہ حدیث یا منسوخ ہے اس حدیث سے جو ابھی مذکور ہوئی یا یہ خصوصی حکم ہے،بہرحال امام اعظم کا قول قوی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3380