Main Icon

باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5549

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "لَيْسَ أَحَدٌ يُحَاسَبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا هَلَكَ". قُلْتُ: أَوَ لَيْسَ يَقُولُ اللَّهُ: {فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا} فَقَالَ: "إِنَّمَا ذَلِكَ الْعَرْضُ، وَلَكِنْ مَنْ نُوقِشَ فِي الْحِسَاب يَهْلِكُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن عائشة أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "ليس أحد يحاسب يوم القيامة إلا هلك". قلت: أو ليس يقول الله: {فسوف يحاسب حسابا يسيرا} فقال: "إنما ذلك العرض، ولكن من نوقش في الحساب يهلك". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ نہیں ہے کوئی جس کا قیامت کے دن حساب لیا جاوے گا ۱∞؎مگر وہ ہلاک ہوجاوے گا میں نے عرض کیا کہ کیا الله تعالٰی یہ نہیں فرماتا کہ اس کا حساب آسان لیا جاوے گا۲؎فرمایا یہ تو صرف پیشی ہوگی لیکن جس سے حساب میں جرح کرلی گئی۳؎وہ ہلاک ہوجاوے گا۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎میزان یعنی اعمال تولنے کی ترازو حق ہے،اس کا ثبوت قرآنی آیات اور احادیث سے ہے،اس پر بھی ایمان لانا ضروری ہے۔اس کے دو پلڑے ڈنڈی،زبان سب کچھ ہے،دو پلڑوں کا فاصلہ اتنا ہے جتنا مشرق و مغرب میں فاصلہ ہے۔اعمال نامے یا خود اعمال اس میں وزن کیے جائیں گے۔حضرات انبیاءکرام اور بعض اولیاء کے اعمال کا وزن نہ کیا جائے گا،وہاں وزنی پلڑا اونچا ہوگا ہلکا پلڑا نیچے کیونکہ نور اوپر کو اٹھتا ہے نیچے نہیں جھکتا،وہاں وزن باٹ سے نہ ہوگا بلکہ نیکیوں کا گناہوں سے ہوگا۔۲؎حساب سے مراد ہے جرح والا حساب تو نے کیا کیا اور گناہ کیوں کیے۔ہلاکت سے مراد ہے عذاب میں گرفتاری جس سے کیوں پوچھ لیا وہ گیا۔۳؎یعنی حضور کا یہ فرمان عالی قرآن مجید کی اس آیت کے مطابق کیونکر ہوا کہ جب حساب آسان ہوگا تو سزا کیسے ہوسکتی ہے۔۴؎یعنی ہمارے فرمان عالی میں حساب سے مراد ہے تحقیق و جرح والا حساب جس میں ہرعمل کی پوچھ گچھ ہو،کوئی گناہ نظر انداز نہ کیا جاوے،پھر وجہ گناہ بھی پوچھی جاوے۔اور قرآن مجید میں حساب سے مراد صرف پیشی کا حساب ہے جس میں بعض موٹے موٹے گناہ پیش ہوں اور اکثر نظر انداز کردیئے جاویں،ان پیش فرمودہ اعمال کو دکھاکر اقرار کرا کر معاف کردیا جاوے وہاں بخشش ہی بخشش ہے۔اعلٰی حضرت نے عرض کیا شعر
صدقہ پیارے کی حیا کا کہ نہ لے میرا سے حساب بخش بے پوچھے لجائے کو لجانا کیا ہے

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5549