Main Icon

باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5557

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يُعْرَضُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلَاثَ عَرَضَاتٍ: فَأَمَّا عَرْضَتَانِ فَجِدَالٌ وَمَعَاذِيرُ، وَأَمَّا الْعَرْضَةُ الثَّالِثَةُ فَعِنْدَ ذَلِكَ تَطِيرُ الصُّحُفُ فِي الأَيْدِي فَآخِذٌ بِيَمِينِهِ وَآخِذٌ بِشِمَالِهِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ،وَقَالَ: لَا يَصِحُّ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ قِبَلِ أَنَّ الْحَسَنَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.

وعن الحسن عن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "يعرض الناس يوم القيامة ثلاث عرضات: فأما عرضتان فجدال ومعاذير، وأما العرضة الثالثة فعند ذلك تطير الصحف في الأيدي فآخذ بيمينه وآخذ بشماله". رواه أحمد والترمذي،وقال: لا يصح هذا الحديث من قبل أن الحسن لم يسمع من أبي هريرة.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حسن سے ۱∞؎وہ حضرت ابوہریرہ سے راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ قیامت کے دن لوگوں کی تین پیشیاں ہوں گی دو پیشیاں تو بحث اور معذرت کی ہیں۲؎اور رہی تیسری پیشی تو اس وقت نامہ اعمال ہاتھوں میں اڑ کر پہنچ جائیں گے۳؎بعض داہنے ہاتھوں میں لیں گے بعض بائیں ہاتھوں میں۴؎(احمد،ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث اس وجہ سے صحیح نہیں کہ حسن رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوہریرہ سے سنا نہیں ۵؎

شرح حدیث

۱∞؎حسن سے مراد حضرت خواجہ حسن بصری ہیں،آپ تابعی ہیں،آپ کی والدہ حضرت ام سلمہ کی خادمہ تھیں،ایک بار آپ رو رہے تھے آپ کی ماں ام سلمہ کا کام کررہی تھی،ام المؤمنین نے آپ کو گود میں لے کر اپنا پستان آپ کے منہ میں دیا،اس پستان شریف کی برکت تھی کہ آپ علوم کے دریا بے پایاں ہوگئے تمام طریقت کے سلسلوں کے مرکز ہیں رضی الله عنہ۔۲؎جدالسے مراد کفار و منافقین کا اپنے جرموں سے انکار کردینا پھر ان کے اعضاء کی گواہی ان کے خلاف۔معاذیرسے مراد ہے اپنے گناہوں کا اقرار کرنا ساتھ ہی اپنی مجبوری و معذوری پیش کرنا کہ میں نے فلاں مجبوری سے یہ گناہ کیا تھا،پہلے گناہوں کا انکار کریں گے پھر اقرار مع ان بہانوں کے مگر گنہگار مسلمان بغیر حیل و حجت اپنے گناہوں کا اقرار کرلے گا اس پر رحمت ہوگی۔۳؎یعنی اس بار سب کے نامہ اعمال نہایت تیزی سے اچانک تقسیم ہوجائیں گے گویا اڑ کر ہاتھوں میں پہنچ گئے پل بھر میں تقسیم ہوگی۔۴؎یعنی نامہ اعمال بعض کو داہنے ہاتھ میں دیئے جائیں گے وہ بائیں میں نہ پڑ سکیں گے یہ مؤمنین ہوں گے، بعض کو بائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے یہ داہنے میں نہ لے سکیں گے یہ کفار منافقین ہوں گے،اس سے ہی مؤمنین و کفار کی پہچان ہوجائے گی۔جو کہے کہ حضور انور کو اپنے پرائے کی پہچا ن نہ ہوگی وہ جھوٹا ہے۔۵؎لہذا یہ حدیث منقطع ہے اس میں کوئی راوی رہ گیا ہے۔خیال رہے کہ بخاری نے تین حدیثیں عن الحسن عن ابی ہریرہ روایت کیں، مسلم نے روایت نہیں کیں۔بخاری کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ خواجہ حسن بصری کی ملاقات حضرت ابوہریرہ سے ہے یہ تو سب مانتے ہیں کہ آپ نے حضرت ابوہریرہ کا زمانہ پایا ہے غالب ہے کہ ملاقات بھی کی ہو۔(مرقات،اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5557