Main Icon

باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5562

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ فِي بَعْضِ صَلَاتِهِ: "اللهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا". قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! مَا الْحِسَابُ الْيَسِيرُ؟ قَالَ: "أَنْ يَنْظُرَ فِي كِتَابِهِ فَيُتَجَاوَزَ عَنْهُ، إِنَّهُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَوْمَئِذٍ يَا عَائِشَة! هَلَكَ". رَوَاهُ أَحْمَدُ

وعنها قالت: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول في بعض صلاته: "اللهم حاسبني حسابا يسيرا". قلت: يا نبي الله! ما الحساب اليسير؟ قال: "أن ينظر في كتابه فيتجاوز عنه، إنه من نوقش الحساب يومئذ يا عائشة! هلك". رواه أحمد

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو اپنی بعض نمازوں میں فرماتے سنا الٰہی مجھ سے آسان حساب لے ۱∞؎میں نے عرض کیا یا نبی الله ! آسان حساب کیا چیز ہے ۲؎فرمایا یہ ہے کہ اس کے نامہ اعمال پر نظر کرادی جاوے پھر اسے معافی دے دی جاوے۳؎جس سے حساب میں اس دن جرح کرلی گئی اے عائشہ وہ ہلاک ہوجاوے گا۴؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎یہ دعا اس آیت کریمہ کی طرف اشارہ کررہی ہے"فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیۡرًا"حضرت ام المؤمنین کے سوال نے یہ آیت حل کرادی۔خیال رہے کہ حضور انور کی یہ دعا اُمت کی تعلیم کے لیے ہے ورنہ حضور انور کا حساب نہ ہوگا ان محبوب عظیم کی شان تو بہت ارفع و اعلٰی ہے،ان کے خاص غلام بے حساب بخشے جائیں گے جیساکہ ہماری پیش کردہ آیت اور دوسری احادیث سے ثابت ہے۔۲؎یعنی جس حساب یسیر کی آپ دعا ہم کو سکھا رہے ہیں اور رب تعالٰی اپنے کلام میں خبر دے رہا ہے یہ حساب یسیر ہے کیا چیز۔اپنے فرمان عالی کی شرح اور رب کی آیت کی تفسیر حضور ہی فرما دیں۔۳؎یعنی جرم دکھانا اور معافی دے دینا حساب یسیر ہے اور جرم دکھانا اور ان پر جرح فرمانا کہ تم نے یہ گناہ کیوں کیے یہ سخت حساب ہے۔۴؎یعنی جرموں پر جرح ہی اس سے کی جاوے گی جس کو سزا دینا ہوگی جسے بخشنا ہوگا اسے دکھاکر معافی دے دی جائے گی،بعض وہ بندے بھی ہوں گے جن کا حساب مطلقًا نہ ہوگا نہ جرح کا نہ پیشی کا بلاحساب جنت میں بھیج دیئے جائیں گے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5562