- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- حدیث نمبر 5555
باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5555
فتنوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَن أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَة؟ قَالَ: "فَهَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ فِي الظَّهِيرَةِ لَيْسَتْ فِي سَحَابَةٍ؟ " قَالُوا: لَا، قَالَ: "فَهَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ فِي سَحَابَةٍ؟ " قَالُوا: لَا، قَالَ:"فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ إِلَّا كَمَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا". قَالَ: "فَيَلْقَى الْعَبْدَ فَيَقُولُ: أَيْ فُلْ!أَلَمْ أُكْرِمْكَ وَأُسَوِّدْكَ وَأُزَوِّجْكَ وَأُسَخِّرْ لَكَ الْخَيْلَ وَالإِبِلَ، وَأَذَرْكَ تَرْأَسُ وَتَرْبَعُ؟ فَيَقُولُ: بَلَى"، قَالَ: "فَيَقُولُ: أَفَظَنَنْتَ أَنَّكَ مُلَاقِيَّ؟ فَيَقُولُ: لَا، فَيَقُولُ: فَإِنِّي قَدْ أَنْسَاكَ كَمَا نسَيتَنِي، ثُمَّ يَلْقَى الثَّانِيَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ، ثُمَّ يَلْقَى الثَّالِثَ فَيَقُولُ لَهُ مثل ذَلِك، فَيَقُول: يَا رَبِّ! آمَنْتُ بِكَ وَبِكِتَابِكَ وَبِرُسُلِكَ، وَصَلَّيْتُ وَصُمْتُ وَتَصَدَّقْتُ،ويُثْنِي بِخَيْرِ مَا اسْتَطَاعَ، فَيَقُول: هَاهُنَا إِذًا، ثم يُقَالُ: الآنَ نَبْعَثْ شَاهِدًا عَلَيْكَ، وَيَتَفَكَّرُ فِي نَفْسِهِ: مَنْ ذَا الَّذِي يَشْهَدُ عَلَيَّ؟ فَيُخْتَمُ عَلَى فِيهِ، وَيُقَالُ لِفَخِذِهِ: انْطِقِي، فَتَنْطِقُ فَخِذُهُ وَلَحْمُهُ وَعِظَامُهُ بِعَمَلِهِ، وَذَلِكَ لِيُعْذِرَ مِنْ نَفْسِهِ، وَذَلِكَ الْمُنَافِقُ، وَذَلِكَ الَّذِي سخطَهُ اللَّهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وذُكِرَ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ: "يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ" فِي "بَابِ التَّوَكُّلِ" بِرِوَايَةِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
وعن أبي هريرة قال: قالوا: يا رسول الله! هل نرى ربنا يوم القيامة؟ قال: "فهل تضارون في رؤية الشمس في الظهيرة ليست في سحابة؟ " قالوا: لا، قال: "فهل تضارون في رؤية القمر ليلة البدر ليس في سحابة؟ " قالوا: لا، قال:"فوالذي نفسي بيده لا تضارون في رؤية ربكم إلا كما تضارون في رؤية أحدهما". قال: "فيلقى العبد فيقول: أي فل!ألم أكرمك وأسودك وأزوجك وأسخر لك الخيل والإبل، وأذرك ترأس وتربع؟ فيقول: بلى"، قال: "فيقول: أفظننت أنك ملاقي؟ فيقول: لا، فيقول: فإني قد أنساك كما نسيتني، ثم يلقى الثاني فذكر مثله، ثم يلقى الثالث فيقول له مثل ذلك، فيقول: يا رب! آمنت بك وبكتابك وبرسلك، وصليت وصمت وتصدقت،ويثني بخير ما استطاع، فيقول: هاهنا إذا، ثم يقال: الآن نبعث شاهدا عليك، ويتفكر في نفسه: من ذا الذي يشهد علي؟ فيختم على فيه، ويقال لفخذه: انطقي، فتنطق فخذه ولحمه وعظامه بعمله، وذلك ليعذر من نفسه، وذلك المنافق، وذلك الذي سخطه الله". رواه مسلم. وذكر حديث أبي هريرة: "يدخل من أمتي الجنة" في "باب التوكل" برواية ابن عباس.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں لوگوں نے عرض کیا یارسول الله کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے ۱∞؎فرمایا کیا تم دوپہری میں جب کہ سورج بادل میں نہ ہو اس کے دیکھنے میں کچھ تردد کرتے ہو لوگ بولے نہیں ۲؎تو کیا تم چودھویں رات چاند کے دیکھنے میں شک کرتے ہو جب کہ وہ بادل میں نہ ہو عرض کیا نہیں،فرمایا تو اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم اپنے رب کے دیکھنے میں نہیں شک کرو گے مگر جیساکہ شک کرتے ہو تم۳؎ان دونوں میں سے ایک کے دیکھنے میں،فرمایا رب بندے سے ملے گا ۴؎فرمائے گا اے فلاں کیا میں نے تجھے عزت نہیں دی،تجھے سردار نہیں بنایا،تجھے بیوی نہیں دی،گھوڑے اونٹ کو تیرا فرمانبردار نہیں کیا اور تجھے نہ کہاکہ تو سردار بنے چہارم غنیمت سے وہ کہے گا ۵؎ہاں پھر فرمائے گا کیا تجھے یقین تھا کہ تو مجھ سے ملے گا عرض کرے گا نہیں ۶؎فرمائے گا میں تجھے بھولا ہوا چھوڑتا ہوں ۷؎جیسے تو نے مجھے بھلا دیا تھا پھر دوسرے بندے سے ملے گا اس طرح ذکر فرمایا ۸؎پھر تیسرے بندے سے ملے گا اس کی مثل فرمائے گا وہ عرض کرے گا الٰہی میں تجھ پر تیری کتاب پر تیرے رسولوں پر ایمان لایا تھا میں نے نمازیں پڑھی ہیں روزہ رکھے خیرات کی جہاں تک ہوسکے گا اپنی تعریفیں کرے گا ۹؎تو رب فرمائے گا اچھا تو تو یہاں ہی ٹھہر۱۰؎پھر فرمایا جاوے گا اب ہم تجھ پر گواہ لائیں گے وہ اپنے دل میں سوچے گا کہ ایسا کون ہے جو میرے خلاف گواہی دے گا ۱۱∞؎تب اس کے منہ پر مہر کردی جاوے گی اور اس کی ران سے کہا جاوے گا کہ تو بول،اس کی ران اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں اس کے اعمال بتائیں گی۱۲؎یہ اس لیے ہوگا تاکہ بندہ کے عذر دور کر دے۱۳؎یہ بندہ منافق ہوگا،یہ وہ ہوگا جس سے الله ناراض ہے۱۴؎(مسلم)اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی میری امت میں سے جنت میں جائیں گے باب توکل میں بروایت حضرت ابن عباس روایت کردی گئی ۱۵؎
شرح حدیث
۱∞؎دیدار الٰہی قیامت میں بھی ہوگا اور جنت میں بھی،قیامت میں تو ہر کافر و مؤمن دیکھے گا مگر کافر کو دیدار غضب و قہر والا ہوگا جیساکہ ابھی کچھ پہلے گزر چکا،مؤمن کو رحمت والا،یہاں محشر والے دیدار کے متعلق یہ سوال ہے۔۲؎سبحان الله!کیسا پیارا پاکیزہ جواب ہے کہ سورج جیسی چمک دار چیز جب حجاب میں نہ ہو تو اس کے دیدار میں کوئی تردد نہیں ہوتا اسی طرح وہاں دیدار میں کوئی شک و شبہ نہ ہوگا۔۳؎یعنی جیسے تم ان حالات میں سورج اور چاند کو دیکھنے میں شک نہیں کرتے ایسے ہی رب تعالٰی کا دیدار کرو گے کہ تمہیں اس میں کسی قسم کا تردد نہ ہوگا یقین سے دیکھو گے۔خیال رہے کہتضاروناگر ر کے شد سے ہے تو یہضرربمعنی نقصان سے بنا ہے اور اگر ر پرپیش سے ہے تو خبر بمعنی مضائقہ و مناظرہ سے بنا ہے۔معنی یہ ہیں کہ تم لوگ رب تعالٰی کے دیدار میں تم ایک دوسرے سے جھگڑو گے نہیں سب مان لیں گے کہ واقعی رب کا دیدار ہوا۔∞مطلب یہ ہی ہے کہ اس دیدار میں کسی کو شک نہ ہوگا،شک سے ہی تو مناظرے اور جھگڑے ہوتے ہیں۔چودھویں کے چاند دوپہر کے سورج میں کوئی مناظرہ نہیں کرتا سب مان لیتے ہیں۔سبحان الله!کیا نفیس تشبیہ ہے۔۴؎ظاہر یہ ہے کہ اس بندہ سے مراد بندہ کافر و مشر ک ہے جیساکہ اگلے مضمون سے واضح ہے اور ملنے سے مراد ہے رب تعالٰی کو دیکھنا، قیامت میں رب کا دیدار اس سے ہم کلام کفار بھی ہوں گے مگر یہ دیدار و کلام غضب کے ہوں گے نہ کہ رحمت کے،دوزخ میں پہنچ کر نہ انہیں رب کا دیدا ر ہو گا نہ اس سے کلام۔مسلمانوں کو یہ دونوں چیزیں قیامت میں بھی میسر ہوں گی دیدار و کلام رحمت والا میسر ہوگا اور جنت میں میسر ہوا کرے گا لہذا یہ حدیث نہ تو اس آیت کیخلاف ہے"اِنَّہُمْ عَنۡ رَّبِّہِمْ یَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوۡبُوۡنَ"اور نہ اس فرمان کے خلاف ہے "لَا یُکَلِّمُہُمُ اللہُ وَلَا یَنۡظُرُ اِلَیۡہِمْ"قرآن کریم میں رحمت کے دیدار و کلام کی نفی ہے یہاں غضب کے دیدار وکلام کا ثبوت ہے یا قرآن مجید میں دوزخ میں پہنچنے کے بعد دیدار و کلام کی نفی ہے یہاں قیامت میں دیدار و کلام کا ثبوت دونوں برحق ہیں۔۵؎زمانہ جاہلیت میں سرداران قوم جنگوں میں اگرچہ شریک نہ ہوتے مگر وہاں کے لوٹے ہوئے مال میں سے چہارم حصہ خود لیتے تھے اپنی سرداری کا حق،یہاں اسی کا ذکر ہے یعنی ہم نے تجھ کو دنیا میں عمومی نعمتیں بھی عطا کی تھیں اور خصوصی نعمتیں بھی۔خیال رہے کہ اسلام میں صرف حضور صلی الله علیہ و سلم کو غنیمت کا پانچواں حصہ پیش کیا جاتا تھا اور حضور انور اس میں سے بھی بقدر ضرورت خود لےکر باقی مسلمانوں کی ضرورتوں میں خرچ فرمادیتے تھے لہذا اس چہارم اور اس خمس میں بڑا فرق ہے۔۶؎اس سے معلوم ہورہا ہے کہ یہ کلام کافر سے ہے جو قیامت کا منکر تھا۔۷؎یہ فرمان اس آیت کی شرح ہے "وَکَذٰلِکَ الْیَوْمَتُنۡسٰی∞"یہاں بھولنے سے مراد ہے چھوڑ دینا کیونکہ الله تعالٰی بھول چوک سے پاک ہے۔۸؎یعنی اس دوسرے کافر بندے سے بھی وہ ہی سوال ہوگا اور وہ بندہ وہی جواب دے گا یعنی اپنے کفر و عناد کا اقرار کرے گا۔۹؎یہ تیسرا بندہ بھی کافر بلکہ منافق ہوگا مگر ڈھیٹ کافر کہ اپنے کفر و شرک اور تمام گناہوں کا انکار کردے گا اور اپنے تقویٰ و طہارت کے دعویٰ کرے گا رب تعالٰی سے بھی شرم نہ کرے گا۔۱۰؎پچھلے دونوں بندوں کو دوزخ میں بھیج دیا جاوے گا مگر ان کا عذاب اس ڈھیٹ سے ہلکا ہوگا کیونکہ عدالت کو دھوکا دینا جرم ہے یہ جرم اس تیسرے نے کیا ان دونوں نے نہیں کیا اسے اس دھوکے کی سزا بھی ملے گی۔یعنی جب تو یہ کہتا ہے تو ٹھہر جا تیرا فیصلہ گواہی وغیرہ کے بعد ہوگا کیونکہ تو اپنے جرموں کا انکاری ہے جرم کے اقراری پر گواہ قائم نہیں کیے جاتے۔ھہناسے پہلے وقف پوشیدہ ہے یعنی تو اسی حساب کی جگہ ٹھہرا رہے۔۱۱∞؎کیونکہ میں نے کفر و شرک اور صدہا گناہ لوگوں سے چھپ کرکئے تھے میرے خلاف گواہی کون دے سکتا ہے، گواہ باخبر چاہیے لوگ بے خبر ہیں لوگوں کو تو میرے کلمہ نمازوں کی خبر ہے۔۱۲؎یعنی اس کے سارے اعضاء جن سے اس نے گناہ کئے تھے وہ اپنے عمل کا اقرار کریں گے اور دوسرے اعضاء اس پر گواہ ہوں گے مثلًا آنکھ کان کے خلاف گواہ اور کان آنکھ کے خلاف گواہ۔۱۳؎لیعذرباب افعال کا مضارع ہے،اس کا مصدراعذارہے بمعنی دفع عذر،یعنی رب تعالٰی بندے کے سارے عذر ختم کرکے پھر سزا کا فیصلہ سنائے گا۔۱۴؎اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ یہ بندہ اپنی دانست میں سچ کہے گا واقعی وہ دنیا میں ریا کاری کے لیے نماز وغیرہ ادا کرتا تھا،منافقت سے کلمہ پڑھتا تھا مگر اس کے یہ اعمال قابل قبول نہ تھے اس لیے ردہوگئے،خفیہ طور پر کفر و فسق کرتا تھا ان پر پکڑا گیا۔۱۵؎یعنی صاحب مصابیح امام بغوی نے وہ حدیث یہاں روایت کی تھی بروایت ابوہریرہ اورباب التوکلمیں بھی بیان کی تھی بروایت حضرت ابن عباس گویا مکرر بیان کی تھی۔ہم نے یہاں سے ابوہریرہ والی روایت حذف کردی اورباب التوکلمیں بروایت ابن عباس نقل کردی۔(مرقات)اس عبارت میں بظاہر اشکال دور ہوگیا کہ حدیث ایک ہے مگر دو راویوں سے دو جگہ مصابیح میں ذکر کی گئی تھی۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5555