Main Icon

باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5565

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَسمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "يُحْشَرُ النَّاسُ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ يَوْمَ الْقِيَامَة فَيُنَادِي مُنَادٍ فَيَقُولُ: أَيْنَ الَّذِينَ كَانَتْ تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ؟ فَيَقُومُونَ وَهُمْ قَلِيلٌ،فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ، ثمَّ يُؤمَرُ لِسَائِر النَّاسِ إِلَى الْحِسَابِ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".

وعن أسماء بنت يزيد عن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: "يحشر الناس في صعيد واحد يوم القيامة فينادي مناد فيقول: أين الذين كانت تتجافى جنوبهم عن المضاجع؟ فيقومون وهم قليل،فيدخلون الجنة بغير حساب، ثم يؤمر لسائر الناس إلى الحساب". رواه البيهقي في "شعب الإيمان".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت اسماء بنت یزید سے وہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے راوی فرمایا لوگ قیامت کے دن ایک میدان میں جمع کیے ۱∞؎جاویں گے توپکارنے والا پکارے گا کہ وہ لوگ کہاں ہیں جن کے پہلو اپنی خواب گاہوں سے الگ رہتے تھے۲؎پس وہ لوگ کھڑے ہوجائیں گے اور وہ تھوڑے ہوں گے۳؎تو وہ جنت میں بغیر حساب داخل ہوں گے۴؎پھر باقی تمام لوگوں کو حساب کی طرف جانے کا حکم دیا جاوے گا ۵؎(بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎صعیدچٹیل سفیدہ ہموار زمین کو کہتے ہیں،یہ زمین شام یا زمین فلسطین ہوگی جہاں قیامت قائم ہوگی،اس جگہ سب اچھے برے اکٹھے ہوں گے یعنی سارے مؤمن ،رہے کفار تو وہ پہلے ہی چھانٹ دیئے گئے ہوں گے"وَامْتٰزُوا الْیَوْمَ اَیُّہَا الْمُجْرِمُوۡنَ"فرماکر۔۲؎یعنی پابندی سے نما تہجد پڑھنے والے مسلمان پہلے حاضر ہوں جن کا حال یہ تھا کہ رات کے آخری حصہ میں جب سب سوتے ہیں تویہ مصلوں پر روتے تھے۔بعض لوگوں نے کہا کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو عشاء اور فجر جماعت سے پڑھتے ہیں مگر پہلا قول قوی ہے کیونکہ تہجد والے لوگ تھوڑے ہوں گے یہاں ارشاد ہےوھم قلیل۔۳؎یعنی مسلمانوں میں تہجد پر پابند تھوڑے ہی ہوں گے،رب فرماتاہے:"قَلِیۡلًا مِّنَ الَّیۡلِ مَا یَہۡجَعُوۡنَ"اور فرماتاہے:"وَ قَلِیۡلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّکُوۡرُ"اور فرماتا ہے:"اِلَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ قَلِیۡلٌ مَّا ہُمْ(مرقات)۴؎اس سے معلوم ہوا کہ تہجد کی نماز پر پابندی ذریعہ ہے قیامت کے حساب سے بچنے کا،رب فرماتاہے:"اِنَّمَا یُوَفَّی الصّٰبِرُوۡنَ اَجْرَہُمۡ بِغَیۡرِ حِسَابٍخیال رہے کہ یہ لوگ اس وقت جنت کے دروازے پر توپہنچ جائیں گے مگر ابھی وہاں داخلہ نہ ہوں گا کیونکہ جنت کا دروازہ پہلے حضور کے لیے کھولا جائے گا اور حضور گنہگاروں کو بخشوا کر حساب دلوا کر جنت کی طرف روانہ ہوں گے۔یدخلونکے معنی ہیںدخولکے مستحق ہوجائیں گے لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں۔۵؎یعنی تہجد والوں کو یہ حکم روانگی سناکر پھر دوسروں کا حساب شروع ہوگا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5565