Main Icon

باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5551

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-:"إِنَّ اللَّهَ يُدْنِي الْمُؤمِنَ فَيَضَعُ عَلَيْهِ كَنَفَهُ وَيَسْتُرُهُ فَيَقُولُ: أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا؟ أَتَعْرِفُ ذَنْب كَذَا؟ فَيَقُول: نَعَمْ أَيْ رَبِّ، حَتَّى قَرَّرَهُ بِذُنُوبِهِ، وَرَأى فِي نَفْسِهِ أَنَّهُ قَدْ هَلَكَ. قَالَ: سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا، وَأَنَا أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ، فَيُعْطَى كِتَابَ حَسَنَاتِهِ، وَأَمَّا الْكُفَّارُ وَالْمُنَافِقُونَ فَيُنَادَى بِهِمْ عَلَى رُؤُوْسِ الْخَلَائِقِ: {هَؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ أَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ} ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن ابن عمر قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-:"إن الله يدني المؤمن فيضع عليه كنفه ويستره فيقول: أتعرف ذنب كذا؟ أتعرف ذنب كذا؟ فيقول: نعم أي رب، حتى قرره بذنوبه، ورأى في نفسه أنه قد هلك. قال: سترتها عليك في الدنيا، وأنا أغفرها لك اليوم، فيعطى كتاب حسناته، وأما الكفار والمنافقون فينادى بهم على رؤوس الخلائق: {هؤلاء الذين كذبوا على ربهم ألا لعنة الله على الظالمين} ". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ابن عمر رضی اللہ عنھما سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ الله تعالٰی مسلمانوں کو قریب کرے گاتو اس پر اپنا پردہ رکھے گا ۱∞؎اور اسے چھپائے گا۲؎پھر فرمائے گا کیا تو فلاں گناہ پہچانتا ہے، کیا تو فلاں گناہ پہچانتا ہے وہ کہے گا ہاں یارب۳؎حتی کہ اس سے اس کے سارے گناہوں کا اقرار کرالے گا اور وہ اپنے دل میں سمجھے گا کہ ہلاک ہوا۴؎رب فرمائے گا کہ میں نے یہ عیوب دنیا میں چھپالیے تھے۵؎اور آج انہیں بخشتا ہوں۶؎پھر اس کی نیکیوں کی تحریر اسے دی جاوے گی۷؎لیکن کفارومنافقین انہوں کو مخلوق کے سامنے پکارا جاوے گا کہ یہ وہی لوگ ہیں جو اپنے رب پر جھوٹ بولے آگاہ رہو! کہ ظالموں پر الله کی لعنت ہے ۸؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎کنفکے کئی معنی ہیں: پردہ،حفاظت،پناہ،نگہبانی،سایہ،پرندے کے بازو جن سے وہ اڑتا ہے،یہاں پردہ کے معنی ہیں۔(اشعہ)چونکہ پرندہ انہیں بازوؤں پروں سے اپنے انڈوں بچوں کو چھپاتا بھی ہے ان کی حفاظت بھی کرتا ہے اس لیے اسےکنفکہتے ہیں۔۲؎یعنی مؤمن کو گناہوں کے حساب کے وقت محشر والوں سے چھپایا جاوے گا کسی کو خبر نہ ہوگی کہ رب نے کیا حساب لیا اور بندے نے کیا حساب دیا۔۳؎اس فرمان عالی سے دو باتیں معلوم ہوئیں: ایک یہ کہ مؤمن اپنے گناہوں کا فورًا اقرار کرے گا وہاں بہانے نہ بنائے گا،کفار جھوٹ بولیں گے"وَاللہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِیۡنَدوسرے یہ کہ مؤمنوں کی نیکیوں کا حساب علانیہ ہوگا گناہوں کا حساب خفیہ ہوگا بلکہ نیکیوں کی نیکی چہروں پر نمودار ہوگی کہ ان کے منہ چمکتے ہوں گے مگر بدوں کی برائیاں چہروں پر ظاہر نہ ہوں گی ان کے منہ نہ بگڑیں گے، کیوں نہ ہو کہ یہ لوگ پردہ پوش لجپال محبوب صلی الله علیہ و سلم کی امت ہیں ان کی پردہ پوشی دنیا میں بھی ہے آخرت میں بھی ہوگی۔۴؎یعنی اب میں پکڑا گیا عذاب میں گرفتار ہوا وہ شخص دل میں یہ سوچتا ہوگا کسی سے کہے گا نہیں اس لیےفی نفسہفرمایا گیا،رب بھی اس کے عیب چھپائے گا بندہ بھی خاموش رہے گا۔۵؎اس فرمان عالی سے ہی معلوم ہورہا ہے کہ یہاں دنیا کے چھپے گناہوں کو بندہ خود ہی علانیہ کرتا رہا ہو ان کا وہاں بھی اعلان ہوگا لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ غدار کے چوتڑوں پر اس کی غداری کے مطابق جھنڈا لایا جائے گا جس سے وہ سارے محشر میں مشہور ہوگا،وہ غداری بھی علانیہ تھی اس لیے اس کی سزا بھی علانیہ ہوئی۔۶؎مؤمن کی بخشش ضرور ہوگی کسی کی اول ہی سے،کسی کی کچھ سزا دے کر،کسی کی شفاعت کے پانی سے گناہ دھو کر،کسی کی بخشش دوزخ کی آگ میں کچھ روز تپا کر۔بہرحال ہر گنہگار کی بخشش یقینی ہے کیوں نہ ہو کہ محبوب کی امت تو ہے۔اعلٰی حضرت نے کیا خوب فرمایا؎واعظ ان کا میں گنہگار وہ میرے شافع اتنی نسبت مجھے کیا کم ہے تو سمجھا کیا ہے
۷
؎یہ تحریر گویا جنت کا پروانہ وہاں کا ویزا ہوگا اس میں اس بندے کی نیکیوں کا ذکر تو ہوگا مگر گناہوں کا تذکرہ نہ ہوگا کہ وہ تو معاف کردیئے گئے۔۸؎یعنی کفارومنافقین کی نیکیوں کا ذکر تک نہ ہوگا کیونکہ وہ سب رد ہوچکیں بغیر ایمان کوئی صدقہ وغیرہ قبول نہیں،نیز وہ لوگ ان نیکیوں کی عوض دنیا میں الله کی نعمتیں استعمال کرچکے،ہاں ان کے گناہوں کا اعلان بھی ہوگا اور حساب علانیہ بھی کیونکہ وہ پردہ پوش نبی کے دامن سے دور رہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5551