Main Icon

باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5554

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- فَضَحِكَ فَقَالَ: "هَلْ تَدْرُونَ مِمَّا أَضْحَكُ؟ ". قَالَ: قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "مِنْ مُخَاطَبَةِ الْعَبْدِ رَبَّهُ يَقُولُ: يَا رَبِّ! أَلَمْ تُجِرْنِي مِنَ الظُّلْمِ؟ "قَالَ: "يَقُولُ: بَلَى"، قَالَ: "فَيَقُولُ: فَإِنِّي لَا أُجِيزُ عَلَى نَفْسِي إِلَّا شَاهِدًا مِنِّي". قَالَ: "فَيَقُولُ: كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ شَهِيدًا وَبِالْكِرَامِ الْكَاتِبِينَ شُهُودًا". قَالَ: "فَيُخْتَمُ عَلَى فِيهِ فَيُقَالُ لِأَرْكَانِهِ: انْطِقِي". قَالَ: "فَتَنْطِقُ بِأَعْمَالِهِ ثُمَّ يُخَلَّى بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَلَامِ". قَالَ: "فَيَقُولُ: بُعْدًا لَكُنَّ وَسُحْقًا، فَعَنْكُنَّ كُنْتُ أُنَاضِلُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أنس قال: كنا عند رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فضحك فقال: "هل تدرون مما أضحك؟ ". قال: قلنا: الله ورسوله أعلم. قال: "من مخاطبة العبد ربه يقول: يا رب! ألم تجرني من الظلم؟ "قال: "يقول: بلى"، قال: "فيقول: فإني لا أجيز على نفسي إلا شاهدا مني". قال: "فيقول: كفى بنفسك اليوم عليك شهيدا وبالكرام الكاتبين شهودا". قال: "فيختم على فيه فيقال لأركانه: انطقي". قال: "فتنطق بأعماله ثم يخلى بينه وبين الكلام". قال: "فيقول: بعدا لكن وسحقا، فعنكن كنت أناضل". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں ہم رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے پاس تھے تو حضور ہنسے پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ میں کس چیز سے ہنستا ہوں فرماتے ہیں ہم نے عرض کیا الله اور اس کا رسول خوب جانیں ۱∞؎فرمایا بندے کے اپنے رب سے عرض معروض کرنے پر عرض کرے گا اے رب کیا تو نے مجھے ظلم سے امان نہیں دی فرمائے گا ہاں فرمایا تو بندہ کہے گا کہ میں اپنی ذات پر کوئی گواہی روا نہیں رکھتا مگر اپنے میں سے گواہ ۲؎فرمایا کہ رب فرمائے گا آج تو ہی اپنے نفس پر کافی گواہ ہے اورکرامًا کاتبین فرشتے گواہ ہیں۳؎فرمایا پھر اس کے منہ پر مہر کردی جائے گی۴؎پھر اس کے اعضاء سے کہا جاوے گا بولو فرمایا وہ اس کے اعمال کے متعلق کلام کریں گے۵؎پھر بندے اور اس کے کلام کے درمیان خلوت کردی جائے گی۶؎فرمایا کہ وہ کہے گا کہ تمہیں دوری اور ہلاکت ہو میں تمہیں سے دفع کرتاتھا ۷؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ہم کو خبر نہیں کہ حضور انور کس چیز سے ہنس رہے ہیں اس مجلس میں کوئی ہنسی کی بات تو ہو نہیں رہی ہے اس کی حقیقت حضور کو معلوم ہے نہ معلوم کیا خیال آگیا کہ حضور ہنس پڑے۔۲؎یہ بندہ کافر ہوگا اور کافر بھی وہ جو اپنے کفر و گناہوں کا انکار کرے گا کہ میں نہ مشرک و کافر تھا نہ گنہگار،میں تو نہایت ہی نیک اعمال والا مؤمن تھا،تیرے فرشتوں نے میرے نامۂ اعمال غلط بھرے ان میں غلط اندراج کیا ہے، یعنی سخت ڈھیٹ کافر ہوگا کہے گا مجھے تو میرے جسم میں سے گواہ چاہیں،میں تو ان کی گواہی مانوں گا مجھے انہیں کا اعتبار ہے۔۳؎رب تعالٰی فرمائے گا کہ ہم تیرے ان ہی اعضاء سے گواہی لے لیتے ہیں جن سے تو گناہ کرتا تھا اور اس گواہی کی تائید میں کرامًا کاتبین فرشتوں کی تحریریں پیش کرتے ہیں تو اپنے ان اعضاء کا بیان سن اور وہ تحریریں دیکھ دونوں کو یکساں پائے گا۔سبحان الله!کون ہے جو رب کے حساب پر جرح کرسکے یا بہانہ بنا سکے رب تعالٰی رحم فرمائے۔شعر
صدقہ پیارے کی حیا کا کہ نہ لے میرا حساب بخش بے پوچھے لجائے کو لجانا کیا ہے
۴
؎اس طرح کہ اس کے دونوں ہونٹ ملا کر ان پر مہر لگادی جائے گی تاکہ ہونٹ ہل نہ سکیں اور بندہ بول نہ سکے۔معلوم ہوا کہ کافر انسان کی زبان بڑی ہی بے حیا ہے،رب تعالٰی کی بارگاہ میں بھی جھوٹ بولنے دھوکہ دینے کی کوشش سے باز نہ آوے گی،سارے اعضاء سچ بول دیں گے مگر زبان جھوٹ ہی بولتی رہے گی۔رب کی پناہ!
۵
؎یعنی اسکا ہر عضو اپنے اعمال کی خبر اور دوسرے عضو کے اعمال کی گواہی دے گا لہذا یہ ہی اعضاء زبان کے کفر و شرک جھوٹ غیبت کی بھی گواہی دیں گے لہذا اس فرمان عالی پر یہ اعتراض نہیں کہ زبان کے گناہوں کی گواہی کون دے گا۔بہرحال سارے گناہ سامنے آجائیں گے۔سائیں بلّے شاہ فرماتے ہیں؎جندڑی تینوں یار دے اگے نچنا پیناں جندڑیئے گھنڈ چک کے
۶
؎یعنی اعضاء کی ان گواہیوں کے بعد اسے تنہا چھوڑ دیا جائے گا کہ وہ اپنے اعضاء سے باتیں کرے،اسے کلام کا موقعہ دیا جائے گا جہاں کوئی دوسرا نہ ہو۔۷؎یعنی تمہارا بیڑا غرق ہو میں تمہاری ہی مدد سے تو گناہ کرتا تھا لوگوں کو دفع کرتا تھا اور تم نے ہی میرے خلاف گواہی دے دی تم نے یہ کیا کیا،یا میں تم سے لوگوں کی تکالیف دور کرتا تھا تم کو ہر شر اور ہر تکلیف سے بچاتا تھا مگر تم نے مجھ سے دشمنی کی مجھے نہ بچایا بلکہ پھنسا دیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5554