Main Icon

باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5560

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّهَا ذَكَرَتِ النَّارَ فَبَكَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "مَا يُبْكِيكِ؟ ". قَالَتْ: ذَكَرْتُ النَّارَ فَبَكَيْتُ، فَهَلْ تَذْكُرُونَ أَهْلِيكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "أَمَّا فِي ثَلَاثَةِ مَوَاطِنَ فَلَا يَذْكُرُ أَحَدٌ أَحَدًا: عِنْدَ الْمِيزَانِ حَتَّى يَعْلَمَ أَيَخِفُّ مِيزَانُهُ أَمْ يَثْقُلُ؟ وَعِنْدَ الْكِتَابِ حِينَ يُقَالُ: {هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ} حَتَّى يَعْلَمَ أَيْنَ يَقَعُ كِتَابُهُ أَفِي يَمِينِهِ أم فِي شِمَاله؟ أم مِنْ وَرَاءَ ظَهْرِهِ؟ وَعِنْدَ الصِّرَاطِ إِذَا وُضعَ بينَ ظَهْري جَهَنَّم". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن عائشة: أنها ذكرت النار فبكت، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "ما يبكيك؟ ". قالت: ذكرت النار فبكيت، فهل تذكرون أهليكم يوم القيامة؟ فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "أما في ثلاثة مواطن فلا يذكر أحد أحدا: عند الميزان حتى يعلم أيخف ميزانه أم يثقل؟ وعند الكتاب حين يقال: {هاؤم اقرءوا كتابيه} حتى يعلم أين يقع كتابه أفي يمينه أم في شماله؟ أم من وراء ظهره؟ وعند الصراط إذا وضع بين ظهري جهنم". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ انہیں دوزخ یاد آگئی تو رونے لگیں تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا تمہیں کون سی چیز رلاتی ہے بولیں مجھے آگ یاد آگئی تو میں رو پڑی ۱∞؎اے مردو! کیا تم قیامت میں اپنے گھر والوں کو یاد کرو گے ۲؎تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ تین موقعوں میں کوئی کسی کو یاد نہ کرے گا: میزان کے پاس حتی کہ جان لے کہ اس کا وزن ہلکا ہے یا بھاری اور نامہ اعمال ملنے کے وقت جب کہا جاوے آؤ اپنا نامہ اعمال پڑھو حتی کہ جان لے کہ اس کا نامہ اعمال کہاں پڑتا ہے اس کے داہنے ہاتھ میں یا بائیں میں پیٹھ کے پیچھے اور پلصراط کے نزدیک جب کہ وہ دوزخ کے کناروں کے درمیان رکھا جاوے گا ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں ذکر سے مراد زبان سے ذکر کرنا نہیں بلکہ دل میں سوچنا مراد ہے۔یہ ہیبت کمال ایمان کی دلیل ہے ورنہ آپ کے جنتی ہونے پر آیات قرآنیہ احادیث نبویہ دال ہیں آپ یقینًا جنتی ہیں مگر خوف خدا رُلا رہا ہے۔۲؎اس میں خطاب عام خاوندوں سے ہے یعنی اے خاوندوں! تم لوگ قیامت میں اپنے بال بچوں کو بخشواؤ گے یا نہیں۔اس خطاب سے حضور صلی الله علیہ و سلم علیحدہ ہیں،حضور کی شفاعت تو ہر مسلمان کو پہنچنے گی چہ جائیکہ خاص اپنے گھر والے لہذامطلب واضح ہے اس سے شفاعت کا انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔۳؎یعنی کوئی خاوند اس وقت تک اپنے بیوی بچوں کو یاد نہ کرے گا جب تک اسے اپنے متعلق ان تین باتوں کا اطمینان نہ ہو جائے: وزن کے وقت نیکیوں کا پلہ بھاری ہوجائے،نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں مل جائے،پلصراط سے بخیریت پار لگ جائے ان تین منزلوں سے گزرکر مطمئن ہوکر اپنے بال بچوں کو یادکرے گا۔جواب شریف سے معلوم ہو رہا ہے کہ یہ ان خاوندوں کے متعلق ہے جن کو یہ تین الجھنیں ہوں انہیں اپنی فکریں ہوں،حضور سید عالم صلی الله علیہ و سلم کو اس دن گنہگاروں کی فکر ہوگی اپنی فکر نہ ہوگی۔حضرت انس نے حضور انور سے سوال کیا تھا کہ یارسول الله قیامت میں آپ کے ملنے کے مقامات کون کون سے ہیں وہاں آپ کو کہاں ڈھونڈھوں تو حضور نے اپنے ملنے کے یہ ہی مقامات بیان فرمائے : میزان، حوض کوثر،پلصراط۔غرضکہ یہ سوال و جواب عوام کے متعلق ہے نہ کے حضور کے متعلق۔خیال رہے کہ قیامت میں پلصراط دوزخ پر رکھی جاوے گی جس پرگزرنا ہر ایک کے لیے ضروری ہے،کفار وہاں ہی گرجائیں گے مؤمن بخیریت گزر جائیں گے،وہاں سے گزرنا ضروری ہے کہ جنت کے راستہ میں یہ پل ہے "وَ اِنۡ مِّنۡکُمْ اِلَّا وَارِدُھَا

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5560