Main Icon

باب:روزے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1956

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِذَا دَخَلَ شَهَرُ رَمَضَانَ فُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ" وَفِي رِوَايَةٍ: "فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ، وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ وَفِي رِوَايَةٍ: "فُتِحَتْ أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "إذا دخل شهر رمضان فتحت أبواب السماء" وفي رواية: "فتحت أبواب الجنة، وغلقت أبواب جهنم، وسلسلت الشياطين وفي رواية: "فتحت أبواب الرحمة". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب رمضان آتا ہے ۱؎تو آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور ایک روایت میں ہے کہ جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ۲؎اور دوزخ کے دروازے بندکردیئے جاتے ہیں شیاطین زنجیروں میں جکڑ دیئے جاتے ہیں ۳؎ایک روایت میں ہے کہ رحمت کے دروازے کھولے جاتے ہیں(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎رمضانرمضسے بنا بمعنی گرمی یا گرم،چونکہ بھٹی گندے لوہے کو صاف کرتی ہے اور صاف لوہے کو پرزہ بنا کر قیمتی کردیتی ہے اورسونے کو محبوب کے پہننے کے لائق بنادیتی ہے اسی طرح روزہ گنہگاروں کے گناہ معاف کراتا ہے،نیک کار کے درجے بڑھاتا ہے اور ابرار کا قرب الٰہی زیادہ کرتا ہے اس لیے اسے رمضان کہتے ہیں،نیز یہ اللہ کی رحمت،محبت،ضمان،امان اور نورلے کر آتا ہے اس لیے رمضان کہلاتا ہے۔خیال رہے کہ رمضان یہ پانچ ہی نعمتیں لاتا ہے اور پانچ ہی عبادتیں:روزہ،تراویح،اعتکاف،شبِ قدر میں عبادات اور تلاوت قرآن،اسی مہینہ میں قرآن کریم اترا اور اسی مہینہ کا نام قرآن شریف میں لیا گیا ماہ رمضان کے تفصیل وار فضائل ہماری کتاب"تفسیرنعیمی"جلد دوم میں دیکھو۔
۲
؎حق یہ ہے کہ ماہ رمضان میں آسمانوں کے دروازے بھی کھلتے ہیں جن سے اللہ کی خاص رحمتیں زمین پر اترتی ہیں اور جنتوں کے دروازے بھی جس کی وجہ سے جنت والے حور و غلمان کو خبر ہوجاتی ہے کہ دنیا میں رمضان آگیا اور وہ روزہ داروں کے لیے دعاؤں میں مشغول ہوجاتے ہیں حدیث اپنے ظاہر پر ہےکسی تاویل کی ضرورت نہیں۔
۳
؎یہ جملہ بھی اپنے ظاہری معنے پر ہی ہے کہ ماہ رمضان میں واقعی دوزخ کے دروازے ہی بند ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے اس مہینہ میں گنہگاروں بلکہ کافروں کی قبروں پر بھی دوزخ کی گرمی نہیں پہنچتی۔وہ جومسلمانوں میں مشہور ہے کہ رمضان میں عذابِ قبر نہیں ہوتا اس کا یہی مطلب ہے اورحقیقت میں ابلیس مع اپنی ذریتوں کے قیدکردیا جاتا ہے۔اس مہینہ میں جو کوئی بھی گناہ کرتا ہے وہ اپنے نفس امارہ کی شرارت سے کرتا ہے نہ کہ شیطان کے بہکانے سے۔فقیر کی اس تقریر سے اس حدیث کے متعلق بہت سے اعتراضات دفع ہوگئے مثلًا یہ کہ جب ابھی جنت میں کوئی جا ہی نہیں رہا تو اس کے دروازے کھلنے سے کیا فائدہ یا یہ کہ جب دوزخ کے دروازے بند ہوگئے تو رمضان میں گرمی کہاں سے آتی ہے یا یہ کہ جب شیطان بند ہوگیا تو اس مہینہ میں گناہ کیسے ہوتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1956