Main Icon

باب:روزے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1968

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَنَّهُ قَالَ: "يُغْفَرُ لأُمَّتِهِ فِي آخِرِ لَيْلَةٍ فِي رَمَضَانَ" قِيلَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! أَهِيَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ؟ قَالَ: "لَا، وَلَكِنَّ الْعَامِلَ إِنَّمَا يُوَفَّى أَجْرَهُ إِذَا قَضَى عَمَلَهُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.

وعن أبي هريرة عن النبي -صلی اللہ عليه وسلم- أنه قال: "يغفر لأمته في آخر ليلة في رمضان" قيل: يا رسول الله! أهي ليلة القدر؟ قال: "لا، ولكن العامل إنما يوفى أجره إذا قضى عمله". رواه أحمد.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ آپ نے فرمایا کہ میری امت کی بخشش رمضان کی آخری رات میں ہوتی ہے عرض کیا گیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا وہ شبِ قدر ہے تو فرمایا نہیں لیکن مزدور کو مزدوری جب ملتی ہے جب وہ اپنا کام پورا کرلیتاہے ۱؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی رمضان کی انتیسویں یا تیسویں رات کو روزہ داروں کی بخشش کا فرشتوں میں اعلان ہوجاتا ہے کہ ان کے روزے،تراویح، اعتکاف،شبِ قدر کی عبادتیں قبول فرمالی گئیں اور ان کی بخشش کا فیصلہ کردیا گیا،یہ ہی رات بندوں کے عمل سے فراغت کی رات ہے،رب تعالٰی کی عطاء کی رات بھی۔حسن اتفاق ہے کہ یہ گنہگار بندہ احمد یار آج انتیسویں رمضان دو شنبہ ۱۳۷۹ھ کو یہ شرح لکھ رہا ہے،خدا کرے اس رات میں اس گنہگار کی معافی بھی ہوگئی ہو اور جو مسلمان بھائی میری مغفرت کی دعا کرے اللہ اس کی مغفرت فرمادے۔آمین!
وَصَلَّی اللهُ تعالٰی عَلیٰ خَیْرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّآلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلَّم

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1968