Main Icon

باب:روزے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1957

روزے کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "فِي الْجَنَّةِ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابٍ، مِنْهَا بَابٌ يُسَمَّى الرَّيَّانَ لَا يَدْخُلُهُ إِلَّا الصَّائِمُونَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن سهل بن سعد قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "في الجنة ثمانية أبواب، منها باب يسمى الريان لا يدخله إلا الصائمون". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سہل ابن سعد سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جنت میں آٹھ دروازے ہیں ۱؎جن میں سے ایکباب الریانہے جس میں صرف روزہ دار داخل ہوں گے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یا اس طرح کہ جنت میں آٹھ طبقے ہیں ہر طقبہ کا ایک دروازہ یا اس طرح کہ جنت کی پہلی ہی دیوار میں آٹھ دروازے ہیں تاکہ ہرقسم کے نیک لوگ اپنے اپنے الگ دروازے سے داخل ہوں۔
۲
؎ریانبروزنفعلانریٌسے بنا،بمعنی تروتازگی،سیرابی و سبزی۔چونکہ روزہ دار روزوں میں بھوکے پیاسے رہتے تھے اور بمقابلہ بھوک کے پیاس کی زیادہ تکلیف اٹھاتے تھے اس لیے ان کے داخلے کے لیے وہ دروازہ منتخب ہوا جہاں پانی کی نہریں بے حساب، سبزہ،پھل فروٹ اور سیرابی ہے،اس کا حسن آج نہ ہمارے وہم و گمان میں آسکتا ہے نہ بیان میںان شاء اللهدیکھ کر ہی پتہ لگے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ روزہ چور اور روزہ توڑ مسلمان اگرچہ رحمت خداوندی اور شفاعت مصطفوی کی برکت سے بخش بھی دیئے جائیں اور جنت میں داخل بھی ہوجائیں مگر اس دروازے سے نہیں جاسکتے کہ یہ دروازہ تو روزہ داروں کے لیے مخصوص ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1957