- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- ایمان کا بیان
- حدیث نمبر 1
باب : ایمان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1
ایمان کا بیان - جلد 1
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ عُمَرَ ابْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ وَ إِنَّمَا لِإِمْرِئٍ مَا نَوٰى فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهٗ إِلَی اللهِ وَ رَسُولِهٖ فَهِجْرَتُهٗ إِلَى اللهِ وَرَسُولِهٖ وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهٗ إِلٰى دُنْيَا يُصِيْبُهَا أَوْإِمْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهٗ إِلٰى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
عن عمر ابن الخطاب رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلی اللہ عليه وسلم : «إنما الأعمال بالنيات و إنما لإمرئ ما نوى فمن كانت هجرته إلی الله و رسوله فهجرته إلى الله ورسوله ومن كانت هجرته إلى دنيا يصيبها أوإمرأة يتزوجها فهجرته إلى ما هاجر إليه» (متفق عليه)
حدیث ترجمہ
روایت ہے عمر ابن خطاب (راضی ہو اللہ ان پر )سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایانبی صلی اللہ علیہ وسلم نے: کہ اعمال نیّتوں سے ہیں ۲؎ہرشخص کے لئے وُہ ہی ہے جو نیّت کرے ۳؎بس جس کی ہجرت اللہ و رسول کی طرف ہو تو اُس کی ہجرت اللہ ورسول ہی کی طرف ہوگی ۴؎اور جس کی ہجرت دنیاحاصل کرنے یا عورت سے نکاح کرنے کے لئے ہو ۵؎اس کی ہجرت اس طرف ہوگی جس کے لئے کی ۶؎
شرح حدیث
۱؎آپ کا نام شریف عمر ابن خطاب ابن نفیل ہے،کنیت ابو حفص،لقب فاروق اعظم،خطا ب امیر المؤمنین۔آپ قرشی عدوی ہیں،کعب ابن لوی میں حضور سے مل جاتے ہیں،آپ کے فضائل بے حد و بیشمار ہیں۔جلیل القدر صحابی،قدیم الاسلام مؤمن ہیں،آپ کے ایمان سے مسلمانوں کا چالیس کا عدد پورا ہوا،آپ کے ایمان لانے پر فرشتوں میں مبارکباد کی دھوم مچی اور یہ آیت اُتری:"یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ حَسْبُکَ الله وَمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ"ابوبکر صدیق کے بعد ۱۳ ھ میں آپ کی بیعت کی گئی،آپ کے زمانہ میں اسلام بہت پھیلا،بہت ممالک فتح ہوئے،قرآن کریم کی بہت سی آیتیں آپ کی رائے کے مطابق اتریں،دس سال چھ مہینے خلافت کی تریسٹھ سال عمر شریف ہوئی،۲۶ذوالحجہ ۲۳ ھ بدھ کے دن مسجد نبوی محراب النبی میں مصلاءمصطفی پر نماز فجر پڑھاتے ہوئے شہید کیئے گئے،مغیرہ ابن شعبہ کے یہودی غلام ابو لؤلؤ نے خنجر کا وار کیا،آپ کی شہادت پر درو دیوار سے اسلام کے رونے کی آواز آتی تھی کہ آج اسلام و مسلمین یتیم ہوگئے،حضرت صہیب نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی،گنبد خضری میں پہلوئے مصطفےٰ میں دفن ہوئے،آپ کی روایتیں پانچ سوسینتیس ۵۳۷ ہیں۔رضی اللہ تعالٰی عنہ
۲؎نیت ارادۂ عمل کو بھی کہتے ہیں اور اخلاص کو بھی،یعنی الله رسول کو راضی کرنے کا ارادہ،یہاں دوسرے معنی میں ہے یعنی اعمال کا ثواب اخلاص سے ہے،جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے،اس صورت میں یہ حدیث اپنے عموم پر ہے،کوئی عمل اخلاص کے بغیر ثواب کا باعث نہیں،خواہ عبادات محضہ ہوں جیسے نماز،روزہ وغیرہ یا عبادات غیر مقصودہ جیسے وضو،غسل،کپڑا،جگہ،بدن کا پاک کرنا وغیرہ کہ ان پر ثواب اخلاص سے ہی ملے گا۔صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ اخلاص اور نیتِ خیر ایسی نعمتیں ہیں کہ ان کے بغیر عبادات محض عادتیں بن جاتی ہیں،اور اس کی بر کت سے کفر شکر بن جاتا ہے،اور گناہ و معصیت اطاعت۔حضرت ابوامیہ ضمیری نے ایک موقعہ پر کفریہ الفاظ بول لیئے،حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ہجرت کی رات غار ثور میں ایک قسم کی خودکشی کرلی،سیدنا علی المرتضی نے خندق میں عمدًا نماز عصر چھوڑ دی،مگر چونکہ نیتیں خیرتھیں،اس لیئے ان حضرات کے یہ کام ثواب کا باعث بنے۔مولانا فرماتے ہیں۔شعر؎ہرچہ گیرد عِلَّتی عِلّت شود کفر گیر د مِلَّتی مِلّت شود
شوافع کہتے ہیں کہ یہاں نیت پہلے معنی میں ہے،یعنی ارادۂ فعل ان کے نزدیک جو بغیر ارادہ وضو اعضاء دھولے تو اس سے وضو نہ ہوگا جیسے بلا ارادہ نماز نہیں ہوتی مگر یہ تفسیر مقصد حدیث کے خلاف ہے اور پھر حدیث کا عموم باقی نہیں رہتاکیونکہ آگے ہجرت کا ذکر ہے۔جو دنیوی غرض سے ہجرت کرے شرعًا مہاجر ہوگا اگرچہ ثواب نہ ہوگا۔نیز جو بغیر ارادہ جو از نماز،گندا کپڑا،گندا جسم،گندی زمین دھو ڈالے تو ان کے ہاں بھی یہ چیزیں پاک ہوجاتی ہیں،اور نماز اس سے جائز ہوتی ہے یہ معنی ان کے بھی خلاف ہیں۔خیال رہے کہ ارکان اسلام یعنی کلمہ،نماز،روزہ،حج،زکوۃ میں نیت یعنی ارادہ فعل فرض ہے،باقی جہاد،ہجرت وضوء وغیرہ میں یہ نیت فرض نہیں۔ہاں اخلاص کے بغیر ان میں ثواب نہ ملے گا۔لہذا احناف کے معنی نہایت صحیح ہیں اور حدیث نہایت جامع۔نماز میں زبان سے نیت کے الفاظ کہنا بدعت حسنہ ہے کیونکہ حضور نے کل ۳۰ ہزار نمازیں پڑھیں ہیں مگر کبھی زبان سے نیت نہ کی،بعض علماء نے نماز کو حج پر قیاس کیا اور فرمایا کہ جیسے احرام کے وقت زبان سے حج کی نیت کی جاتی ہے ایسے ہی نماز میں کرنی چاہیئے مگر یہ صحیح نہیں۔دیکھو مرقات۔
۳؎ہجرت کے لغوی معنی ہیں چھوڑنا۔شریعت میں رب کو راضی کرنے کے لیئے وطن چھوڑنے کا نام ہجرت ہے۔ہجرت بوقت ضرورت اعلٰی درجہ کی عبادت ہے،اسلامیسنہحضور کی ہجرت کی یادگار ہے۔
۴؎یعنی جو ہجرت میں اللہ رسول کی خوشنودی کی نیت کرے،اس کی ہجرت واقعی اللہ رسول کی طرف ہی ہوگی لہذا حدیث میں دور نہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ عبادات میں رضاءِ رب کے ساتھ حضور کی رضا کی نیت شرک نہیں بلکہ عبادت کو کامل کرتی ہے۔دیکھو ہجرت عبادت ہے،مگر فرمایا گیا:"اِلیَ اللّٰہِ ِوَرَسُوْلِہٖ"۔یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور کے پاس جانا اللہ کے دربار میں حاضری ہے کہ مہاجرین مدینہ جاتے تھے،جہاں حضور تشریف فرما تھے،وہاں جانے کو اللہ کے پاس جانا قرار دیا۔یہ بھی معلوم ہوا کہ ہر جگہ حضور ہی کے دم کی بہار ہے،ان کے بغیر اجڑا دیا رہے۔دیکھو مکہ معظمہ میں رہنا عبادت ہے،مگر جب حضور وہاں سے مدینہ منورہ چلے گئے تو اگرچہ وہاں کعبہ وغیرہ سب کچھ رہا مگر وہاں رہنا گناہ قرار پایا،وہاں سے ہجرت ضروری ہوگئی،پھر جب وہاں حضور کی تجلی ہوگئی،پھر وہاں رہنا عبادت قرار پایا۔۵؎انصارِ مدینہ نے مہاجرین کی ایسی دائمی شاندار مہمانی کی کہسبحان الله!انہیں اپنے گھروں،باغوں،زمینوں میں برابر کا حصہ دار بنالیا،حتی کہ اگر کسی انصار ی کی دو بیویاں تھیں تو ایک کو طلاق دے کر مہاجر بھائی کے نکاح میں دے دی،اندیشہ تھا کہ کوئی زمین،مکان یا عورت کی لالچ میں ہجر ت کرے اسی لیئے حضورنے یہ ارشاد فرمایا۔اس مضمون سے معلوم ہوا کہ یہاںاَلنِّیَّا تمیں نیت بمعنی ارادہ فعل نہیں ہے بلکہ بمعنی اخلاص ہے۔ریا کار مہاجر بھی مہاجر کہلائے گا مگر ثواب نہ پائے گا جیسا کہھِجرَتُہٗسے معلوم ہورہا ہے۔
۶؎صاحب ِ مشکوٰۃ ولی الدین محمد علیہ الرحمۃ نے شروع کتاب میں یہ حدیث ہم کو سمجھانے کے لیئے لکھی کہ میری کتاب اخلاص سے پڑھنا،محض دنیا کمانے کے لیے نہ پڑھنا،اپنی دلی کیفیت پر ہم کو مطلع فرمایا کہ میں نے یہ کتاب اخلاص سے لکھی ہے،شہرت یامال مقصود نہ تھا،یہ حدیث میرے پیش نظرتھی۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 1