- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- ایمان کا بیان
- حدیث نمبر 2
باب : ایمان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2
ایمان کا بیان - جلد 1
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَجُلٌ شَدِيدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعْرِ لَا يُرٰى عَلَيْهِ أَثَرُ السَّفَرِ وَلَا يَعْرِفُهُ مِنَّا أَحَدٌ حَتَّى جَلَسَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فأسند رُكْبَتَيْهِ إِلَى رُكْبَتَيْهِ وَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ وَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِسْلَامِ قَالَ:الْإِسْلَامُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ وَتَصُومَ رَمَضَانَ وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ سَبِيلًا. قَالَ: صَدَقْتَ. فَعَجِبْنَا لَهُ يَسْأَلُهُ وَيُصَدِّقُهُ. قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ الْإِيمَانِ. قَالَ: «أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ» . قَالَ صَدَقْتَ. قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ الْإِحْسَانِ. قَالَ: «أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ» . قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ السَّاعَةِ. قَالَ: «مَا الْمَسْؤُوْلُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ» . قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنْ أَمَارَاتِهَا. قَالَ: «أَنْ تَلِدَ الْأَمَةُ رَبَّتَهَا وَأَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ الشَّاءِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ» . قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقَ فَلَبِثْتُ مَلِيًّا ثُمَّ قَالَ لِي: «يَا عُمَرُ أَتَدْرِي مَنِ السَّائِلُ» قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «فَإِنَّهُ جِبْرَئِيْلُ أَتَاكُم يُعَلِّمُكُمْ دِيْنَكُمْ» . رَوَاهُ مُسلم
عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال: بينما نحن عند رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم إذ طلع علينا رجل شديد بياض الثياب شديد سواد الشعر لا يرى عليه أثر السفر ولا يعرفه منا أحد حتى جلس إلى النبي صلى الله عليه وسلم فأسند ركبتيه إلى ركبتيه ووضع كفيه على فخذيه وقال: يا محمد أخبرني عن الإسلام قال:الإسلام أن تشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله وتقيم الصلاة وتؤتي الزكاة وتصوم رمضان وتحج البيت إن استطعت إليه سبيلا. قال: صدقت. فعجبنا له يسأله ويصدقه. قال: فأخبرني عن الإيمان. قال: «أن تؤمن بالله وملائكته وكتبه ورسله واليوم الآخر وتؤمن بالقدر خيره وشره» . قال صدقت. قال: فأخبرني عن الإحسان. قال: «أن تعبد الله كأنك تراه فإن لم تكن تراه فإنه يراك» . قال: فأخبرني عن الساعة. قال: «ما المسؤول عنها بأعلم من السائل» . قال: فأخبرني عن أماراتها. قال: «أن تلد الأمة ربتها وأن ترى الحفاة العراة العالة رعاء الشاء يتطاولون في البنيان» . قال: ثم انطلق فلبثت مليا ثم قال لي: «يا عمر أتدري من السائل» قلت: الله ورسوله أعلم. قال: «فإنه جبرئيل أتاكم يعلمكم دينكم» . رواه مسلم
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب( رضی اللہ عنہ) سے فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرتھے کہ ایک صاحب ہمارے سامنےنمودارہوئے ۱؎ جن کے کپڑے بہت سفیداور بال خوب کالے تھے۲؎ اُن پر آثارِ سفر ظاہر نہ تھے اور ہم سےکوئی اُنہیں پہچانتا بھی نہ تھا۳؎ یہاں تک کہ حضور( صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس بیٹھے اور اپنے گھٹنے حضور(صلی اللہ علیہ وسلم) کےگھٹنوں شریف سے مَس کر دیئے۴؎ اور اپنے ہاتھ اپنے زانو پر رکھے۵؎ اور عرض کیا اَےمحمد(صلی اللہ علیہ وسلم)مجھے اسلام کے متعلق بتائیے۶؎ فرمایا کہ اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اللہ کےسواءکوئی معبودنہیں اورمحمداللہ کے رسول ہیں۷؎ اور نماز قائم کرو،زکوۃ دو،رمضان کے روزے رکھو،کعبہ کا حج کرو اگر وہاں تک پہنچ سکو ۸؎ عرض کیا کہ سچ فرمایا ہم کو ان پرتعجب ہوا کہ حضور سے پوچھتےبھی ہیں اورتصدیق بھی کرتے ہیں۹؎عرض کیا کہ مجھے ایمان کے متعلق بتائیے فرمایاکہ اللہ اور اس کے فرشتوں ،کتابوں اور اس کے رسولوں اور آخری دن کو مانو۱۰؎ اور اچھی بُری تقدیرکو مانو۱۱؎ عرض کیا آپ سچے ہیں عرض کیامجھےاحسان کے متعلق بتائیے۱۲؎ فرمایا اللہ کی عبادت ایسے کرو کہ گویا اُسے دیکھ رہے ہو۱۳؎ اگر یہ نہ ہوسکے تو خیال کرو کہ وہ تمہیں دیکھ رہاہے۱۴؎ عرض کیا کہ قیامت کی خبر دیجئے۱۵؎ فرمایا کہ جس سے پوچھ رہے ہو وہ قیامت کے بارے میں سائل سے زیادہ خبردارنہیں ۱۶؎ عرض کیا کہ قیامت کی کچھ نشانیاں ہی بتادیجئے ۱۷؎ فرمایا کہ لونڈی اپنے مالک کوجنے گی۱۸؎ اور ننگے پاؤں ننگے بدن والے فقیروں،بکریوں کے چرواہوں کومحلوں میں فخر کرتےدیکھو گے ۱۹؎ راوی فرماتے ہیں کہ پھرسائل چلے گئے میں کچھ دیر ٹھہرا حضور(صلی اللہ علیہ وسلم) نے مجھے فرمایا اےعمرجانتے ہو یہ سائل کون ہیں مَیں نےعرض کی اللہ اوررسول جانیں۲۰؎ فرمایا یہ حضرت جبریل تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے ۲۱؎ (مسلم)
شرح حدیث
۱؎ یہ حضرت جبریل علیہ السلام تھے،جو شکل انسانی میں حاضرہوئے تھے،جیسے بی بی مریم کے پاس مرد کی شکل میں گئے۔فرشتہ وہ نورانی مخلوق ہے جو مختلف شکلیں اختیار کرسکتی ہے۔جن وہ آتشی مخلوق ہے جو ہرقسم کی شکل بن جاتی ہے مگر روح وہ ہی رہتی ہے لہذا یہ اواگون نہیں۔
۲؎ یعنی وہ مسافر نہ تھے ورنہ ان کے بال و لباس غبار میں اٹے ہوتے۔خیال رہے کہ حضرت جبریل کے بال کالے،کپڑے سفید(چٹے) ہونا شکل بشری کا اثرتھا ورنہ وہ خودنوری ہیں،لباس اورسیاہ بالوں سے بری۔ہاروت ماروت فرشتے شکل انسانی میں آکر کھاتے پیتے بلکہ صحبت بھی کرسکتے تھے۔عصاموسوی سانپ کی شکل میں ہو کرسب کچھ نگل گیا تھا،ایسے ہی ہمارے حضور نوری بشر میں کھانا،پینا،نکاح اس بشریت کے احکام تھے،روزہ وصال میں نورانیت کی جلوہ گری ہوتی تھی،بغیر کھائے پیئے عرصۂ دراز گزار لیتے تھے،آج صد ہا سال سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام بغیر کھائے پیئے آسمان پر جلوہ گر ہیں یہ نورانیت کا ظہور ہے۔
۳؎ یعنی وہ مدینہ کے باشندے نہ تھے ورنہ ہم انہیں پہچانتے ہوتے،حضور تو انہیں خوب پہچانتے تھے جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔
۴؎ یعنی حضور سے بہت قریب بیٹھے معلوم ہوتا ہے کہ حضور نے حضرت جبریل کو پہچان لیا تھا ورنہ پوچھتے کہ تم کون ہو اور اس طرح ملکر مجھ سے کیوں بیٹھتے ہو۔
۵؎ جیسے نمازی التحیات میں دوزانو بیٹھتا ہے۔آج کل زائرین روضۂ مطہرہ پر نماز کی طرح کھڑے ہو کر سلام عرض کرتے ہیں اس ادب کی اصل یہ حدیث ہے۔حضرت جبریل نے قیامت تک کے مسلمانوں کو حضور کی بارگاہ میں حاضری کا ادب سکھادیا اور بتادیا کہ نماز کی طرح یہاں کھڑا ہونا یا بیٹھنا حرام نہیں،ہاں سجدہ یا رکوع حرام ہے۔
۶؎ اسلام کبھی ایمان کے معنی میں ہوتا ہے،کبھی اس کے علاوہ یہاں دوسرے معنی میں ہے،یعنی ظاہر کا نام اسلام ہے،باطنی عقائد کا نام ایمان اسی لیے یہاں شہادۃ و اعمال کا ذکر ہوا۔خیال رہے کہ اب حضور کو صرف "یا محمد" کہہ کر پکارنا حرام ہے،رب فرماتا ہے:"لَا تَجْعَلُوۡا دُعَآءَ الرَّسُوۡلِ"الخ۔واقعہ غالبًا اس آیت کے نزول سے پہلے ہوایافرشتے اس آیت سےعلیحدہ ہیں۔(مرقاۃ)
۷؎ کلمہ پڑھنے سے مراد سارے اسلامی عقائد کا مان لینا ہے جیسے کہا جاتا ہے کہ نماز میں"الحمد"پڑھنا واجب ہے یعنی پوری سورۃ فاتحہ لہذا اس حدیث کی بنا پراب یہ نہیں کہا جاسکتا کہ تمام اسلامی فرقے مرزائی،چکڑالوی وغیرہ مسلمان ہیں کیونکہ یہ لوگ اسلامی عقائد سے ہٹ گئے۔
۸؎ اس میں بظاہرحضرت جبریل سے خطاب ہے اوردرحقیقت مسلمان انسانوں سے ورنہ فرشتوں پر نماز،روزہ،حج وغیرہ اعمال فرض نہیں، رب فرماتاہے:"وَلِلہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیۡتِ"۔خیال رہے کہ یہ اعمال اسلام کا جزو نہیں کہ ان کا تارک کافر ہوجائے، یہاں کمال اسلام کا ذکر ہے،تارکِ اعمال مسلمان تو ہے مگر کامل نہیں۔
۹؎ کیونکہ پوچھنا نہ جاننے کی علامت ہے اورتصدیق کرنا جاننے کی علامت۔اس سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم گزشتہ تمام آسمانی کتابوں سے واقف ہیں کہ رب نے حضور کے بارے میں فرمایا:"مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ"۔
۱۰؎ خیال رہے کہ عن الایمان میں ایمان اصطلاحی مراد ہے،اور ان تؤمن میں ایمان لغوی یعنی ماننا،لہذا یہتعریف الشی بنفسہبھی نہیں اور اسمیں دور بھی نہیں۔تمام فرشتوں،نبیوں،کتابوں پر اجمالی ایمان کافی ہے،گو قرآن اور صاحبِ قرآن صلی اللہ علیہ وسلم پر تفصیلی ایمان لازم ہے۔
۱۱؎ اس طرح کہ ہربری بھلی بات جوہم کررہے ہیں،اﷲ کے علم میں پہلے ہی سے ہے اور اس کی تحریر ہوچکی ہے،تقدیرکےمعنی ہیں۔ اندازہ۔تقدیردوقسم کی ہے:مبرم اورمعلق،مبرم میں تبدیلی نہیں ہوسکتی،معلق دعاء،اعمال وغیرہ سے بدل سکتی ہے،ابلیس کی دعا سے اس کی عمر بڑھ گئی"فَاِنَّکَ مِنَ الْمُنۡظَرِیۡنَ" حضرت آدم علیہ السلام کی دعا سے داؤد علیہ السلام کی عمر بجائے ساٹھ سال کے سو برس ہوگئی۔تقدیر کی پوری بحث ہماری تفسیر نعیمی تیسرے پارے میں ملاحظہ کریں۔
۱۲؎ یعنی رب نے فرمایا:"لِلَّذِیۡنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰی"وغیرہ ان آیات میں احسان سے کیا مراد ہے جواب ملاکہ اخلاص عمل۔
۱۳؎ اگر تو خداکودیکھتا ہے توتیرے دل میں کس درجہ اس کاخوف ہوتااورکس طرح توسنبھال کرعمل کرتا،ایسے ہی خوف کیسا تھ دل لگا کر درست عمل کر۔
۱۴؎ یوں تو ہر وقت ہی سمجھو کہ رب تمہیں دیکھ رہا ہے مگر عبادت کی حالت میں تو خاص طور پر خیال رکھو،تو ان شاءاﷲ عبادت آسان ہوگی،دل میں حضور وعاجزی پیدا ہوگی،آنکھوں میں آنسو آئیں گے،اﷲ ہم سب کو نصیب کرے۔آمین !
۱۵؎ کہ کس دن کس تاریخ اورکس مہینہ کس سال ہوگی۔معلوم ہوتا ہے کہ جبرئیل امین کا یہ عقیدہ ہے کہ حضور کو اﷲ تعالٰی نے قیامت کا علم دیا ہےکیونکہ جاننے والے سے ہی پوچھا جاتا ہے۔یہاں جبرئیل امین حضور کے امتحان یا اظہار عجز کے لیے تو سوال کر نہیں رہے ہیں،بلکہ یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت کا علم تو ہے مگر اس کا اظہار نہ فرمایا۔خیال رہے کہ حضورنے دوسرے موقعوں پرقیامت کا دن بھی بتادیا مہینہ بھی تاریخ بھی کہ فرمایاجمعہ کو ہوگی،دسویں تاریخ محرم کے مہینہ میں ہوگی۔
۱۶؎ یہاں علم کی نفی نہیں ورنہ فرمایا جاتا"لا اعلمُ"میں نہیں جانتا بلکہ زیادتی علم کی نفی ہے،یعنی اس کا مجھے تم سے زیادہ علم نہیں،مقصد یہ ہے کہ اے جبرائیل!یہاں لوگوں کا مجمع ہے اور قیامت کا علم اسرارالہیہ میں سے ہے یہ راز مجھ سے کیوں فاش کراتے ہو۔حق یہ ہے کہ اﷲتعالٰی نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت کا علم بھی دیا(تفسیرصاوی وغیرہ)اسی لیے حضرت جبرئیل نے حضورسے یہ سوال کیا،علم قیامت کی تحقیق ہماری کتاب "جاء الحق"حصہ اول میں ملاحظہ کرو،حضور کے اس جواب سے معلوم ہوا کہ حضور نے یہاں حضرت جبرئیل کو پہچان لیا تھا۔
۱۷؎ یعنی اگرقیامت کی خبر دینا خلاف مصلحت ہے تو اس کی خصوصی علامت ہی بتادیجئے۔اس سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت کا علم تھا،علامتیں واقف ہی سے پوچھی جاتی ہیں۔
۱۸؎ یعنی اولاد نافرمان ہوگی،بیٹا ماں سے ایساسلوک کرے گا جیسا کوئی لونڈی سےتو گویا ماں اپنے مالک کو جنے گی،اس کی اوربھی تفسیریں ہیں۔
۱۹؎ یعنی دنیا میں ایسا انقلاب آوے گا کہ ذلیل لوگ عزت والے بن جائیں گے اور عزیر لوگ ذلیل ہوجائیں گےجیسا آج دیکھا جارہا ہے۔سکندر ذوالقرنین نے حکم دیا تھا کہ کوئی پیشہ ور اپنا موروثی پیشہ نہیں چھوڑسکتا تاکہ عالم کا نظام نہ بگڑ جائے۔(اشعۃ اللمعات)معلوم ہوا کہ کمینوں کا اپنا پیشہ چھوڑکر اونچا بن جاناعلامت قیامت ہے۔اور اس سے نظام عالم کی تباہی ہے۔
۲۰؎ یہ صحابہ کا ادب ہے کہ علم اللہ اور رسول کے سپردکرتے ہیں۔اس سے دو مسئلےمعلوم ہوئے: ایک یہ کہ حضور کا ذکراﷲ کےساتھ ملاکرکرناشرک نہیں بلکہ سنتِ صحابہ ہے،یہ کہہ سکتے ہیں کہ اﷲاوررسول جانیں،اﷲ اور رسول فضل کریں،اﷲ اور رسول رحم فرما دیں،اﷲ اور رسول بھلاکرے۔دوسرے یہ کہ حضورکو خبرتھی کہ یہ سائل جبریل تھے ورنہ آپ فرمادیتے کہ مجھےبھی خبر نہیں یہ کون تھے۔
۲۱؎ یعنی اس لیے آئے تھے کہ تمہارے سامنے مجھ سے سوالات کریں تم جوابات سن کر دین سیکھ لو۔اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان پر حضور کی اطاعت واجب ہے نہ کہ جبریل کی کہ یہاں جبریل نے حاضرین سے خود نہ کہہ دیا کہ لوگو! میں جبریل ہوں مجھ سے فلاں فلاں بات سیکھ لو بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہلوایا تاکہ لوگوں کےلیےقابل قبول ہو۔جبریل کے معنی ہیں " عبداﷲ" جبربمعنی عبد،ایل اﷲ بزبان عبرانی۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 2