- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- ایمان کا بیان
- حدیث نمبر 39
باب : ایمان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 39
ایمان کا بیان - جلد 1
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كُنَّا قُعُودًا حَوْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله ُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ و مَعنا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي نَفَرٍ فَقَامَ رَسُولُ الله ِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فَأَبْطَأَ عَلَيْنَا وَخَشِيَنَا أَنْ يُقْتَطَعَ دُونَنَا وَفَزِعْنَا فَقُمْنَا فَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ فَزِعَ فَخَرَجْتُ أَبْتَغِي رَسُولَ الله ِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَيْتُ حَائِطًا لِلْأَنْصَارِ لِبَنِي النَّجَّارِ فَدُرْتُ بِهِ هَلْ أَجِدُ لَهُ بَابًا فَلَمْ أَجِدْ فَإِذَا رَبِيعٌ يَدْخُلُ فِي جَوْفِ حَائِطٍ مِنْ بِئْرٍ خَارِجَةٍ وَالرَّبِيعُ الْجَدْوَلُ قَالَ فَاحْتَفَزْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ مَا شَأْنُكَ قُلْتُ كُنْتَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فَقُمْتَ فَأَبْطَأْتَ عَلَيْنَا فَخَشِينَا أَنْ تُقْتَطَعَ دُونَنَا فَفَزِعْنَا فَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ فَزِعَ فَأَتَيْتُ هَذَا الْحَائِطَ فَاحْتَفَزْتُ كَمَا يَحْتَفِزُ الثَّعْلَبُ وَهَؤُلَاءِ النَّاسُ وَرَائِيْ فَقَالَ يَا أَبَا هُرَيْرَة وَأَعْطَانِي نَعْلَيْه فَقَالَ اذْهَبْ بِنَعْلَيْ هَاتَيْنِ فَمَنْ لَقِيْکَ مِنْ وَرَاء هَذَا الْحَائِط يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ فَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ فَكَانَ أَوَّلُ مَنْ لَقِيتُ عُمَرَ فَقَالَ مَا هَاتَانِ النَّعْلَانِ يَا أَبَا هُرَيْرَة قلت هَاتَانِ نَعْلَا رَسُولِ الله ِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنِي بِهِمَا مَنْ لَقِيتُ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ بَشَّرْتُهٗ بِالْجَنَّةِ فَضَرَبَ عُمَرُبَيْنَ ثَدْيَيَّ فَخَرَرْتُ لِاسْتِي فَقَالَ ارْجِعْ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ الله صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَجْهَشْتُ بِالْبُکَاءِ وَرَكَبَنِيْ عُمَرُ وإِذا هُوَ عَلى أَثَرِيْ فَقَالَ لِي رَسُولُ الله ِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَك يَا أَبَا هُرَيْرَة قُلْتُ لَقِيْتُ عُمَرَ فَأَخْبَرْتُهٗ بِالَّذِيْ بَعَثْتَنِيْ بِهِ فَضَرَبَ بَيْنَ ثَدْيَيَّ ضَرْبَةً خَرَرْتُ لِاسْتِي فقَالَ ارْجع فَقَالَ رَسُول ُ اللهِ يَا عُمَرُ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ قَالَ يَا رَسُولَ اللهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَبَعَثْتَ أَبَا هُرَيْرَةَ بِنَعْلَيْكَ مَنْ لَقِيَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ بَشَّرَهُ بِالْجَنَّةِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَلَا تَفْعَلْ فَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَتَّكِلَ النَّاسُ عَلَيْهَا فَخَلَّهُمْ يَعْمَلُونَ فقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَلَّهُمْ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
وعن أبي هريرة قال: كنا قعودا حول رسول الله صلى الله عليه وسلم و معنا أبو بكر وعمر رضي الله عنهما في نفر فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم من بين أظهرنا فأبطأ علينا وخشينا أن يقتطع دوننا وفزعنا فقمنا فكنت أول من فزع فخرجت أبتغي رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى أتيت حائطا للأنصار لبني النجار فدرت به هل أجد له بابا فلم أجد فإذا ربيع يدخل في جوف حائط من بئر خارجة والربيع الجدول قال فاحتفزت فدخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال أبو هريرة فقلت نعم يا رسول الله قال ما شأنك قلت كنت بين أظهرنا فقمت فأبطأت علينا فخشينا أن تقتطع دوننا ففزعنا فكنت أول من فزع فأتيت هذا الحائط فاحتفزت كما يحتفز الثعلب وهؤلاء الناس ورائي فقال يا أبا هريرة وأعطاني نعليه فقال اذهب بنعلي هاتين فمن لقيک من وراء هذا الحائط يشهد أن لا إله إلا الله مستيقنا بها قلبه فبشره بالجنة فكان أول من لقيت عمر فقال ما هاتان النعلان يا أبا هريرة قلت هاتان نعلا رسول الله صلى الله عليه وسلم بعثني بهما من لقيت يشهد أن لا إله إلا الله مستيقنا بها قلبه بشرته بالجنة فضرب عمربين ثديي فخررت لاستي فقال ارجع يا أبا هريرة فرجعت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فأجهشت بالبکاء وركبني عمر وإذا هو على أثري فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم ما لك يا أبا هريرة قلت لقيت عمر فأخبرته بالذي بعثتني به فضرب بين ثديي ضربة خررت لاستي فقال ارجع فقال رسول الله يا عمر ما حملك على ما فعلت قال يا رسول الله بأبي أنت وأمي أبعثت أبا هريرة بنعليك من لقي يشهد أن لا إله إلا الله مستيقنا بها قلبه بشره بالجنة قال نعم قال فلا تفعل فإني أخشى أن يتكل الناس عليها فخلهم يعملون فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم فخلهم . رواه مسلم
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آس پاس بیٹھے تھے۔ہمارے ساتھ ابوبکروعمر رضی اللہ عنہمابھی تھے ۱؎کہ اچانک ہمارے درمیان سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھ گئے واپسی میں دیر لگائی ہم ڈر گئے کہ مبادا حضورکو ہماری غیر حاضری میں کوئی ایذا پہنچے ۲؎ہم گھبراکر اٹھ کھڑے ہوئے گھبرانے والا پہلا میں تھا میں حضور کو ڈھونڈھنے نکل کھڑا ہوایہاں تک کہ انصار بنی نجار کے ایک باغ میں پہنچا ۳؎باغ کے اردگرد گھوما ۴؎کہ کوئی دروازہ ملے مگر نہ ملا ۵؎ایک نالی تھی جو بیرونی کنوئیں سے باغ میں جاتی تھی ۶؎فرماتے ہیں کہ میں سکڑ کر نالی میں گھس کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگیا ۷؎حضور نے فرمایا کیا ابوہریرہ ہیں ۸؎میں نے کہا ہاں یارسول اللہ فرمایا تمہارا کیا حال ہے ۹؎میں نے عرض کیا کہ حضور ہم میں تشریف فرما تھے اچانک اٹھ آئے اور واپسی میں دیر ہوئی ہم ڈر گئے کہ مبادا حضور کو ہماری غیر موجودگی میں ایذا پہنچے تو ہم گھبرا گئے پہلے میں ہی گھبرایا ۱۰؎تو اس باغ میں آیا اور میں لومڑی کی طرح سکڑ گیا۱۱؎اور باقی یہ لوگ میرے پیچھے ہی ہیں ۱۲؎حضور نے فرمایا اے ابوہریرہ اور مجھے اپنے نعلین شریف عطا کئے ۱۳؎فرمایا ہمارے نعلین لے جاؤ جو تمہیں اس باغ کے پیچھے یقین دل سے یہ گواہی دیتا ملے ۱۴؎کہ اللہ کے سواء کوئی معبود نہیں اسے جنت کی بشارت دے دو ۱۵؎پہلے جن سے ملاقات ہوئی وہ عمر تھے ۱۶؎وہ بولے اے ابوہریرہ یہ جو تے کیسے ہیں میں نے کہا کہ یہ حضور کے نعلین پاک ہیں مجھے یہ دیکر حضور نے اس لیے بھیجا ہے کہ جو مجھے یقین دل سے گواہی دیتا ملے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اسے جنت کی بشارت دے دوں جناب عمر نے میرے سینہ پر ہاتھ مارا۱۷؎کہ میں چت گر گیا اور فرمایا لوٹ چلو ابو ہریرہ ۱۸؎تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور رو رو کر فریاد کی ۱۹؎ا ور مجھ پر عمر کی ہیبت سوار ہوگئی تھی ۲۰؎دیکھا تو وہ میرے پیچھے ہی تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوہریرہ کیا حال ہے میں نے کہا کہ میں جناب عُمر سے ملا اور انہیں وہ ہی پیغام سنایا جو دے کر حضور نے مجھے بھیجا تھا تو انہوں نے میرے سینے پر ایسا مارا کہ میں چت گر گیا اور فرمایا کہ لوٹو ۲۱؎حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عمر اس کام پر۲۲؎تمہیں کس خیال نے ابھارا وہ عرض کرنے لگے میرے ماں باپ آپ پر قربان یارسول اللہ کیا آپ نے ابوہریرہ کو نعلین پا ک دے کر اس لیے بھیجا ۲۳؎کہ جو انہیں یقین دل سے یہ گواہی دیتا ملے کہ اللہ کے سوا ء کوئی معبود نہیں اسے جنت کی بشارت دے دیں فرمایا ہاں۲۴؎عرض کیا ایسا نہ کیجئے ۲۵؎میں خوف کرتا ہوں کہ لوگ اس پر بھروسہ کر بیٹھیں گے ۲۶؎انہیں چھوڑ دیں کہ عمل کرتے رہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا چھوڑ دو ۲۷؎(مسلم)
شرح حدیث
۱؎جماعت صحابہ میں یہ دونوں بزرگ ایسا درجہ رکھتے ہیں جیسے تاروں میں چاند و سورج اسی لیے اکثر جگہ ان کا ذکر خصوصیّت سے ہوتا ہے۔خیال رہے کہ صحابہ کے شیخین ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما ہیں،محدثین کے شیخین بخاری ومسلم،فقہاء کے شیخین امام ابوحنیفہ و ابو یوسف رضی اللہ عنہم،منطق کے شیخین بو علی سینا وفارابی ہیں۔
۲؎اس طرح کہ ہم خدمت میں حاضر نہ ہوں حضور کہیں اکیلے ہوں اور کوئی دشمن آپ کو ایذا پہنچائےکیونکہ عرب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت دشمن ہیں،یہ گھبراہٹ اسباب کے لحاظ سے ہے،ورنہ الله ہمیشہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔
۳؎بنی نجار انصار کا ایک بڑا قبیلہ ہے۔حائطوہ باغ کہلاتا ہے جس کے آس پاس دیوار ہو اور ایک دروازہ۔بستانہر باغ کو کہہ سکتے ہیں دیوار سے گھر ا ہویا نہ ہو۔
۴؎اس لیے کہ اندازے سے مجھے پتا لگا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس باغ میں ہیں۔شیخ عبدالحق فرماتے ہیں کہ نسیم جمال نے بوئے محبوب عاشق کے دماغ محبت میں پہنچائی،جیسے بوئے یوسفی مصر سے کنعان پہنچ گئی،مگر عشاق کے حال مختلف ہوتے ہیں کبھی قبض،کبھی بسط۔
۵؎یعنی دروازہ موجود تھا مگر نظر نہ آیا وارفتگئی عشق محبوب کی وجہ سے۔
۶؎وہ نظر آگئی پیاروں کے حال نیارے ہوتے ہیں،ان کی کیفیات عقل سے وراء ہیں،دیکھو رب کی شان کہ دروازہ نظر نہ آیا اور نالی سوجھ گئی،یہ واردات ان لوگوں پرگزرتی ہیں جنہیں عشق سے حصّہ ملا ہو۔
۷؎معلوم ہوتا ہے کہ نالی بہت تنگ تھی جس میں حضرت ابوہریرہ بتکلف داخل ہوئے۔خیال رہے کہ بغیر اجازت نالیوں کے ذریعہ کسی کے گھر یا باغ میں چلا جانا ازروئے قانون ممنوع ہے،مگر یہ عشق کا کرشمہ تھا خود کو آتشِ نمرود میں ڈالنا،بے قصور فرزند کو ذبح کرنا سب عشق کی جلوہ گری ہے،قانون اس سے کوسوں دُور ہے۔
۸؎یہ سوال تعجب کی بنا پر ہے کہ دروازہ ہوتے ہوئے نالی کے رستہ پہنچے یا دروازہ بند تھا اور آگئے۔
۹؎یعنی پریشان کیوں ہو،ہانپ کیوں رہے ہو۔
۱۰؎اس میں الله کی نعمت کا اظہار ہے نہ کہ فخر و ریا،یعنی مجھے الله نے حضور کا ایسا عشق دیا ہے کہ آپ کے بغیر صبر نہیں کرسکتا۔
۱۱؎اس میں اظہار معذرت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس گھبراہٹ میں آداب دربار بجا نہ لاسکا،بغیر اذن آگیا،سلام بھی کرنا بھول گیا،حالانکہ یہ دونوں حکم قرآنی ہیں مگر ہوش میں جو نہ ہو وہ کیا نہ کرے۔
۱۲؎یعنی شعر
نہ تنہا من دریں میخانہ مستم ازیں مے ہمچومن بسارشد مستعایک میں ہی نہیں عالم ہے طلبگار تیرا
۱۳؎کیوں عطا کئے،عاقل تو یہ کہتے ہیں کہ نشانی کے طور پر تاکہ معلوم ہو کہ حضور کے بھیجے ہوئے ہیں۔عاشق کہتے ہیں نہیں صحابی سچے ہیں ان کی ہر بات بغیر نشانی مانی جاتی ہے۔منشاء یہ ہے کہ آگے صرف"لاالٰہ الاللّٰہ"کا ذکر ہے،ابوہریرہ کو کفش بردار بنا کر یہ بتایا کہ کلمہ اور توحید اس کا معتبر ہے جو ہمارا کفش بردار ہو،اس میں تبلیغ قولی کے ساتھ تبلیغ عملی بھی ہے،عشق کی تفسیر سے حدیث پر کوئی اعتراض نہ رہا،کفش برداری میں سارے عقائد و اعمال آگئے،ان کا نعلین بردار یقینًا جنتی ہے۔
۱۴؎سبحان اللّٰہ! کیا لطیف اشارہ ہے یعنی یہ بشارت ہر شخص کو نہ دینا کہ ہر کوئی یہ راز سمجھے گا نہیں،صرف جناب عمر کو بتانا جو تمہیں اس باغ کے پیچھے ہی مل جائیں گے،جو ہمارے راز دار ہیں۔
۱۵؎یعنی ان سے کہہ دو کہ تم جنتی ہو۔یقینًااس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضور کو یہ خبر تھی کہ حضرت ابوہریرہ کو پہلے حضرت عمر ہی ملیں گے۔دوسرے یہ کہ حضرت عمر یقینی لازمی جنتی ہیں۔تیسرے یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کی سعادت وشقاوت کی خبر ہے۔چوتھے یہ کہ مسلمان کو زبان سے کلمہ طیبہ پڑھنا ضروری ہے صرف عقیدے پر کفایت نہ کرے،زبان سے اقرا ر بھی کرے۔پانچویں یہ کہ اس قسم کی احادیث عوام تک بغیر شرح نہ پہنچائی جاویں،اسی لئے حضور (صلی اللہ علیہ وسلم )نے قید لگادی کہ جو تمہیں اس باغ کے پیچھے مسلمان ملے صرف اسے بشارت دو۔
۱۶؎یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا ظہور ہے کہ فرمایا تھا جو تمہیں اس باغ کے پیچھے ملے،ملاقات حضرت عمر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی تفسیر ہے۔
۱۷؎یہاں تھوڑا مضمون پوشیدہ ہے،یعنی مجھ سے فرمایا لوٹ چلو،میں نہ مانا،تب آپ نے مجھے مارا کیونکہ بغیر کچھ کہے سنے مارنا عقل کے خلاف ہے۔(مرقاۃ)اور ظاہر یہ ہے کہ یہاں مارنا مقصود نہ تھا بلکہ آگے جانے سے روکنا اور منہ پھیر کر مجبورًا واپس کرنا تھا۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کمزور تھے۔اس تھوڑی سی حرکت دینے سے گر پڑے اور اگر مارا ہی ہو تب بھی حَرج نہیں کہ جناب عمر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے لیے مثل استاد یا کم از کم بڑے بھائی کی طرح تھے۔
۱۸؎خیال رہے کہ اس فرمان میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی مخالفت نہیں،مقصد یہ ہے کہ اے ابوہریرہ!تم تعمیل کرچکے ہو،میں تمہیں مل گیا تم نے مجھے فرمان سنا دیا۔حدیث اپنے انتہا کو پہنچ گئی،اس کی عام اشاعت کی ضرورت نہیں۔خیال رہے کہ حدیث کا مبداء نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور حدیث کا منتہی مجتہدہیں۔عوام براہ راست حدیث رسول پر عمل نہ کریں بلکہ مجتہد سے سمجھ کر عمل کریں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"لَعَلِمَہُ الَّذِیۡنَ یَسْتَنۡۢبِطُوۡنَہٗ"حدیث و قرآن طب روحانی کی دوائیں ہیں۔کسی طبیب روحانی کے مشورہ سے استعمال کرو ورنہ مارے جاؤ گے۔یہ حدیث تقلید آئمہ کی قوی دلیل ہے۔
۱۹؎یعنی میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی پناہ لی جیسے بچہ مادر مہربان کی۔خیال رہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہاں آکر روئے وہاں نہ روئے تھے کیونکہ مظلوم فریا درس کو دیکھ کر رویا کرتا ہے۔
۲۰؎یہ عرب کا محاورہ ہے جیسے کہا جاتا ہے کہ فلاں پر قرض سوار ہوگیایعنی غالب آگیا۔
۲۱؎یعنی اس کام کے لیے یہاں سے آگے نہ بڑھو خواہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واپس چلو یا اور کام کیلئے جاؤ۔
۲۲؎ابوہریرہ( رضی اللہ عنہ) کو واپس کرنے پر نہ کہ انہیں مارنے پر،جیسا کہ اگلے مضمون سے معلوم ہورہا ہے۔اس فرمان سےمعلوم ہوتا ہے کہ شکایات وغیرہ میں اکثر ایک کی خبر معتبر ہےکیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوہریرہ سے گواہی مانگی اور نہ جناب عمر سے اقرار کرایا صرف لوٹا نے کی وجہ پوچھی۔
۲۳؎یہ عرض معروض بارگاہ نبوی کے آداب میں سے ہے نہ کہ حضرت ابوہریرہ پر بدگمانی کی بنا پر کیونکہ سارے صحابہ عادل ہیں،ان کی خبریں معتبر،جب شاہی کارندے کے کسی کام پر بادشاہ سے عرض معروض کرنا ہو تو پہلے بادشاہ سے تصدیق کرلینی ادب دربار ہے۔
۲۴؎خیال رہے کہ اس جگہ ایک چیز کا ذکر نہیں آیا یعنی اس باغ کے پیچھے معلوم ہوتا ہے کہ جناب عمر راز دار پیغمبر ہیں دلی رازوں سے خبردار ہیں۔
۲۵؎یعنی آیندہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو عام لوگوں سے یہ کلام کرنے کی اجازت نہ دیں اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ایک مشورہ کی پیش کش ہے نہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے سرتابی۔رب فرماتا ہے "وَشَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْرِ"اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر عتاب نہ کیا بلکہ آپ کا مشورہ قبول کرلیا۔اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ جناب عمر کی عقل و دانائی حضور سے زیادہ ہے۔اس حدیث کا راز کچھ اور ہی ہے جو ہم پہلے عرض کرچکے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم اپنے موقع پر پہنچ چکا،تعمیل ارشاد ہوچکی۔
۲۶؎یعنی وہ نو مسلم لوگ جو ابھی تک منشاء کلام سمجھنے کے لائق نہیں ہیں وہ ظاہر الفاظ سُن کر اعمال ہی چھوڑ بیٹھیں گے اور سمجھیں گے کہ نجات کے لئے صرف کلمہ پڑھ لینا کافی ہے،اس لئے موجودہ زمانے کے اہل حدیث حضرات کو عبرت پکڑنی چاہئیے جو ہر حدیث پر بلا سوچے سمجھے عمل کرنے کے مدعی ہیں۔آیات قرآنیہ پر بھی اندھا دھند گرنا حرام ہے،رب فرماتاہے:"وَالَّذِیۡنَ اِذَا ذُکِّرُوۡابِاٰیٰتِ رَبِّہِمْ لَمْ یَخِرُّوۡاعَلَیۡہَاصُمًّا وَّعُمْیَانًا"۔
۲۷؎یعنی تمہاری رائے منظور ہے،بہت درست ہے۔خیال رہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر سے جناب حضرت ابوہریرہ کا نہ قصاص دلوایا نہ ان سے معافی دلوائی۔کیونکہ حضرت عمر مجتہدہیں۔اور ا بوہریرہ (رضی اللہ عنہ) محض محدّث،مجتہد استاد ہیں،محدث شاگرد،استاد پر شاگرد کا قصاص لازم نہیں اگرچہ غلطی سے سزادیدے۔دیکھو موسیٰ علیہ السلام نے خطاءً ہارون علیہ السلام کے بال پکڑ کر کھینچے مگر رب نے ان سے قصاص نہ دلوایا (قرآن حکیم) ہماری اس شرح سے حسب ذیل سوالات اٹھ گئے۔
(۱)حضرت ابوہریرہ کو باغ کا دروازہ نظر کیوں نہ آیا نالی کیوں نظر آئی(۲)آپ دوسرے کے باغ یا مکان میں بلا اجازت کیوں گئے(۳) آپ نے پہلے سلام کیوں نہ کیا(۴)حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو نعلین شریف کیوں عطا فرمائیں(۵)حضرت عمر نے اشاعت حدیث سےجناب ابوہریرہ کو کیوں روکا(۶)انہیں مارا کیوں(۷)حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت ابوہریرہ )رضی اللہ عنہ (کی تصدیق کیوں کرائی(۸)حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس فرمان کے اشاعت نہ کرنے کی رائے کیوں دی(۹)حضور نے ان کی رائے قبول کیوں کرلی(۱۰)حضرت عمر (رضی اللہ عنہ )سے اس مار کا بدلہ کیوں نہ لیا گیا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 39