Main Icon

باب : ایمان کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 35

ایمان کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَلَّمَا خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَالَ: «لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهٗ وَلَا دِيْنَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ

وعن أنس قال: قلما خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا قال: «لا إيمان لمن لا أمانة له ولا دين لمن لا عهد له» . رواه البيهقي في شعب الإيمان

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے کہ یہ بہت کم تھا کہ حضور ہمیں اس کے بغیروعظ فرمائیں کہ جو امین نہیں اس کا ایمان نہیں جو پابند وعدہ نہیں اس کا دین نہیں ۱؎یہ حدیث بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کی۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی امانت داری اور پابندی وعدہ کے بغیر ایمان اور دین کامل نہیں،امانت میں مال،زر،لوگوں کی عزت وآبروریزی حتی کہ عورت کی اپنی عفّت سب داخل ہیں،بلکہ سارے اعمال صالحہ بھی الله کی امانتیں ہیں۔حضور سے عشق و محبّت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امانت ہے،رب فرماتا ہے۔"اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ"الخ۔عہد میں میثاق کے دن رب سے عہد،بیعت کے وقت شیخ سے عہد،نکاح کے وقت خاوند یا بیوی سے عہد،جو جائزوعدہ دوست سے کیا جائے یہ سب داخل ہیں۔ان سب کا پورا کرنا لازم و ناجائز و عدہ توڑنا ضروری اگر کسی سے زنا،چوری،حرام خوری یا کفر کا وعدہ کیا تو اسے ہرگز پورا نہ کرے کہ یہ رب کے عہد کے مقابلے میں ہے۔ الله رسول سے وعدہ کیا ہے ان سے بچنے کا اسے پورا کرے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 35