Main Icon

باب:مرتدین اور فسادیوں کے قتل کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3533

قصاص کابیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: أُتِيَ عَلِيٌّ بِزَنادِقَةٍ،فَأَحْرَقَهُمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ: لَوْ كُنْتُ أَنَا لَمْ أُحْرِقْهُمْ لِنَهْي رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللّٰهِ" وَلَقتلْتُهُمْ لِقَوْلِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

عن عكرمة قال: أتي علي بزنادقة،فأحرقهم، فبلغ ذلك ابن عباس فقال: لو كنت أنا لم أحرقهم لنهي رسول الله صلى الله عليه وسلم : "لا تعذبوا بعذاب الله" ولقتلتهم لقول رسول الله صلى الله عليه وسلم : "من بدل دينه فاقتلوه". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عکرمہ سے فرماتے ہیں کہ جناب علی کے پاس کچھ بد دین لائے گئے ۱؎آپ نے انہیں جلادیا ۲؎تویہ خبرحضرت ابن عباس کو پہنچی تو آپ نے فرمایا اگر میں ہوتا۳؎تو انہیں نہ جلاتا حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے منع فرمانے کی وجہ سے کہ فرمایا کسی کو اکا عذاب نہ دو ۴؎میں انہیں قتل کرتا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کے فرمان کی وجہ سے کہ جو اپنا دین بدل دے اسے قتل کردو ۵؎(بخاری)۶؎

شرح حدیث

۱∞؎زنادقہزندیقکی جمع ہے،زندیق ملحدوبے دین کو کہتے ہیں۔مجوس جو کہتے تھے کہ زند کتاب آسمانی ہے ان کے لیے یہ لفظ وضع ہوا،پھر ہر بے دین کو زندیق کہنے لگے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں قوم سائبہ کے لوگ عبداابن سبا کے مطیع ہوگئے جو حضرت علی کو خدا کہنے لگے دیگر صحابی پر تبرا کرنے لگے،وہ حضرت علی کی کچہری میں پکڑ کر لائے گئے،رفض کی اصل یہاں سے قائم ہوئی،اب بھی روافض میں ایک فرقہ نصیری ہے جو جناب علی کو خدا کہتي ہے،ہم نے مرثیوں میں یہ شعر سنا ہے۔شعر
دکھادو یا علی جلوہ نصیری کے خدا تم ہو یہ آنکھیں طالب دیدار ہیں حاجت روا تم ہو
دیکھو لمعات،مرقات،اشعۃ اللمعات۔
۲
؎اس طرح کہ پہلے حضرت علی نے انہیں توبہ کا حکم دیا مگر انہوں نے انکار کیا آپ نے خندق کھودوا کر اس میں آگ جلوائی پھر جلتی آگ میں ان زندوں کو ڈال دیا جس سے وہ جل کر راکھ ہوگئے۔ (مرقات،اشعہ،لمعات)
۳
؎یعنی اگر بجائے علی مرتضٰی کے میں خلیفہ ہوتا یا اس وقت حضرت علی کے پاس میں موجود ہوتا پہلے معنے زیادہ قوی ہیں کیونکہ فرما رہے ہیں میں نہ جلاتا یہ نہ فرمایا کہ میں نہ جلانے دیتا۔
۴
؎معلوم ہوا کہ مرتد کی سزا صرف قتل ہے،کسی جاندار کو زندہ نہ جلایا جائے بعض لوگ جوں،کھٹمل، بھڑکو زندہ آگ میں ڈال دیتے ہیں وہ اس سے عبرت پکڑیں۔
۵
؎فی زمانہ بعض لوگ قتل مرتد کے انکاری ہیں حالانکہ قتل مرتد قرآن کریم سے بھی ثابت ہے فرمایا:"فَاقْتُلُوۡۤا اَنۡفُسَکُمْ"نیز حکومت کا باغی لائق قتل ہے تو حکومت الہیہ کا باغی بھی قابل قتل ہونا چاہیے، مرتد ربانی حکومت کا باغي ہے۔خیال رہے کہ یہاںدینہسے مراد اسلام ہے کیونکہ انسان کا اصلی اور روحانی دین اسلام ہی ہے، دوسرے دین تو دنیا میں آکر بری صحبتوں سے ملتے ہیں۔مطلب یہ ہے کہ جو اپنا دین یعنی اسلام ترک کرکے دوسرا دین اختیار کرے اسے قتل کردو،شائد حضرت علی کو یہ روایت پہنچی نہ تھی،بعض روایات میں ہے کہ جب حضرت علی کو حضرت ابن عباس کے اس فرمان کی خبر ہوئی تو آپ نے فرمایا انہوں نے سچ کہا، دیکھو مرقات و اشعۃ اللمعات۔
۶
؎اس حدیث کو ترمذی،ابن ماجہ،ابوداؤد،نسائی اور احمد نے بھی روایت کیا۔خیال رہے کہ مرتدہ عورت کو قتل نہ کیا جائے گا بلکہ اسے قید کیا جائے گا حتی کہ توبہ کرے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3533