Main Icon

باب:مرتدین اور فسادیوں کے قتل کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3538

قصاص کابیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ حَمَلَ أَحَدُهُمَا عَلَى أَخِيهِ السِّلَاحَ، فَهُمَا فِي جُرْفِ جَهَنَّمَ فَإِذَا قَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ دَخَلَاهَا جَمِيعًا" وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ: قَالَ: "إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفهِمَا، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ" قُلْتُ: هَذَا الْقَاتِلُ، فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ؟ قَالَ: "إِنَّهُ كَانَ حَرِيصًا عَلَى قَتْلِ صَاحِبِهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي بكرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "إذا التقى المسلمان حمل أحدهما على أخيه السلاح، فهما في جرف جهنم فإذا قتل أحدهما صاحبه دخلاها جميعا" وفي رواية عنه: قال: "إذا التقى المسلمان بسيفهما، فالقاتل والمقتول في النار" قلت: هذا القاتل، فما بال المقتول؟ قال: "إنه كان حريصا على قتل صاحبه". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوبکرہ سے ۱؎وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا جب دو مسلمان ملیں کہ ان میں سے ایک اپنے بھائی پر ہتھیار اٹھائے ۲؎تو وہ دونوں دوزخ کے کنارہ میں ہوتے ہیں۳؎پھر جب ان میں سے ایک اپنے صاحب کو قتل کردیتا ہے تو وہ دونوں دوزخ میں داخل ہوجاتے ہیں۴؎انہیں سے دوسری روایت میں ہے فرمایا کہ جب دو مسلمان اپنی تلواروں سے مل پڑتے ہیں تو قاتل و مقتول دوزخ میں جاتے ہیں ۵؎میں نے عرض کیا یہ تو قاتل ہے تو مقتول کا کیا ہے فرمایا وہ اپنے صاحب کے قتل پر حریص تھا ۶؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کے حالات بیان ہوچکے ہیں کہ آپ کا نام نقیع ابن حارث ہے، آپ غزوہ طائف میں ایمان لائے،آپ اس غزوہ میں گرفتار ہوگئے تھے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے آپ کو آزاد فرما دیا۔(مرقات)
۲
؎قتل یا زخمی کرنے کے ارادے سے،پہلے معنی زیادہ قوی ہیں۔ہتھیار سے مراد عام ہتھیار ہے تلوار ہو یا نیزہ یا پستول و بندوق۔خیال رہے کہاحدسے مرادکل واحدہے یعنی ہر ایک دوسرے کے مقابل ہتھیار اٹھائے۔
۳
؎یعنی دوزخ کے قریب ہوتے ہیں کہ قتل ہوں یا کریں اور دوزخ میں جائیں۔
۴
؎یہ جب ہے جب کہ دونوں باطل پر ہوں اور اگر ان میں سے کوئی حق پر ہو تو باطل والا دوزخی ہے نہ کہ حق والا جیسے ڈاکو یا چور کے مقابلہ میں۔
۵
؎یہ جب ہے جب کہ دونوں ایک دوسرے کے قتل کا ارادہ کریں اگر ان میں سے ایک مدافع ہو کہ دفاعًا دوسرے کو قتل کرے تو حملہ آور دوزخی ہوگا نہ کہ یہ دفاع کرنے والا۔
۶
؎یعنی یہ بھی ارادۂ قتل سے ہی آیا تھا۔اس سے معلوم ہوا کہ ارادۂ گناہ بھی گناہ ہے،ہاں خیال گناہ گناہ نہیں لہذا یہ حدیث دوسری احادیث اور آیات قرآنیہ کے خلاف نہیں،چورچوری کرنے نکلا مگر اتفاقًا نہ کرسکا گنہگارہوگیا،فقہاء فرماتے ہیں کہ ارادۂ کفر بھی کفر ہے۔
۷
؎یہ حدیث ابوداؤدونسائی نے حضرت ابوبکرہ سے اور ابن ماجہ نے حضرت ابو موسیٰ سے روایت کی۔ (مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3538