Main Icon

باب:مرتدین اور فسادیوں کے قتل کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3554

قصاص کابیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي غَالِبٍ رَأَى أَبُو أُمَامَةَ رُؤُوسًا مَنْصُوبَةً عَلَى دَرجَ دِمَشْقَ فَقَالَ أَبُو أُمَامَةَ: "كِلَابُ النَّارِ، شَرُّ قَتْلَى تَحْتَ أَدِيم السَّمَاءِ،خَيْرُ قَتْلَى مَنْ قَتَلُوهُ" ثُمَّ قَرَأَ: يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ الآية قِيلَ لِأَبِي أُمَامَةَ: أَنْتَ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ: لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ إِلَّا مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ أوْ ثَلَاثًا حَتَّى عَدَّ سَبْعًا مَا حَدَّثْتُكُمُوهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

وعن أبي غالب رأى أبو أمامة رؤوسا منصوبة على درج دمشق فقال أبو أمامة: "كلاب النار، شر قتلى تحت أديم السماء،خير قتلى من قتلوه" ثم قرأ: يوم تبيض وجوه وتسود وجوه الآية قيل لأبي أمامة: أنت سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم ؟ قال: لو لم أسمعه إلا مرة أو مرتين أو ثلاثا حتى عد سبعا ما حدثتكموه. رواه الترمذي وابن ماجه، وقال الترمذي: هذا حديث حسن.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو غالب سے ۱؎کہ حضرت ابو امامہ نے ۲؎کچھ سر دمشق کے راستہ پر لٹکے دیکھے ۳؎تو ابو امامہ نے فرمایا کہ دوزخ کے کتے ہیں ۴؎آسمان کی وسعت کے نیچے بدتر مقتولین ہیں بہترین مقتول وہ ہیں جس کو یہ قتل کریں ۵؎پھر پڑھا کچھ منہ اس دن سفید ہوں گے اور کچھ منہ سیاہ،پوری آیت ۶؎ابوامامہ سے پوچھا گیا آپ نے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم سے سنا ہے فرمایا اگر میں نے حضور کو ایک بار یا دو بار تین بار حتی کہ سات بار گِنا فرماتے نہ سنا ہوتا تو میں تم سے روایت نہ کرتا ۷؎(ترمذی،ابن ماجہ)ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ تابعی ہیں،بصری باھلی ہیں،آپ کا نام حزور ہے ،آپ کو عبدالرحمن حضرمی نے آزاد کیا،بعض محدثین نے آپ کو ضعیف کہا بعض نے قوی کہا۔
۲
؎آپ مشہور صحابی ہیں،اولًا مصر میں پھر حمص میں رہے،وہاں ہی انتقال فرمایا،شام کے آخری صحابی آپ ہیں یعنی سب سے آخر،وہاں ہی آپ کی وفات ہوئی۔
۳
؎یہ سر خارجیوں کے تھے جو غالبًا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جماعت کے ہاتھوں جہنم رسید ہوئے،یہ حضرت علی،امام حسنین،فاطمہ زہراء،عثمان غنی،امیرمعاویہ کے بدترین دشمن ہیں۔
۴
؎یعنی یہ خارجی دوزخ میں کتوں کی شکل میں جائیں گے یا وہ دوزخیوں کے نزدیک بھی وہاں کتوں کی طرح ذلیل و خوار ہوں گے،پہلے معنے زیادہ مناسب ہیں۔(مرقات)
۵
؎یعنی جو غازی انہیں مارے وہ بہترین غازی ہے اور جو شہید ان کے ہاتھوں شہید ہو وہ بہترین شہید اور یہ خود بدترین مقتولین۔
۶
؎اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابو امامہ کے نزدیک خارجی لوگ مرتد خارجی از اسلام اور کفار ہیں بعض نے انہیں بدعتی گمراہ اہل ھوا فرمایا۔(مرقات)
۷
؎یعنی ابو غالب نے حضرت ابو امامہ سے پوچھا کہ آپ کا یہ ارشاد اپنا ہے یا حضورانور صلی اللہ علیہ و سلم سے سنا ہے کہ خوارج دوزخ کے کتے وغیرہ ہیں تو آپ نے فرمایا کہ دوسری احادیث تو میں نے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے دو ایک بار سنی ہوں گی مگر یہ فرمان عالی خوارج کے متعلق سات بار سنا ہے تب میں یہ روایت کررہا ہوں۔معلوم ہوتا ہے کہ بارگاہ رسالت میں ان مردودوں کی برائیاں اکثر بیان ہوتی تھیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3554