Main Icon

باب:مرتدین اور فسادیوں کے قتل کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3542

قصاص کابیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَانْطَلَقَ بِحَاجَتِهِ فَرَأَيْنَا حُمَّرَةً مَعَهَا فَرْخَانِ، فَأَخَذْنَا فَرْخَيْهَا، فَجَاءَتِ الْحُمَّرَةُ، فَجَعَلَتْ تَفْرُشُ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "مَنْ فَجَّعَ هَذِهِ بِوَلَدِهَا؟ رُدُّوا وَلَدَهَا إِلَيْهَا" وَرَأَى قَرْيَةَ نَمْلٍ قَدْ حَرَّقْنَاهَا قَالَ: "مَنْ حَرَّقَ هَذِهِ؟ " فَقُلْنَا: نَحْنُ قَالَ: "إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ يُعَذِّبَ بِالنَّارِ إِلَّا ربُّ النَّار". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن عبد الرحمن بن عبد الله عن أبيه قال: كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر، فانطلق بحاجته فرأينا حمرة معها فرخان، فأخذنا فرخيها، فجاءت الحمرة، فجعلت تفرش، فجاء النبي صلى الله عليه وسلم فقال: "من فجع هذه بولدها؟ ردوا ولدها إليها" ورأى قرية نمل قد حرقناها قال: "من حرق هذه؟ " فقلنا: نحن قال: "إنه لا ينبغي أن يعذب بالنار إلا رب النار". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالرحمان ابن عبداسے ۱؎وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں ہم رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے حضور قضا حاجت کے لیے تشریف لے گئے ۲؎ہم نے ایک لالی دیکھی جس کے ساتھ دو چوزے تھے ہم نے اس کے چوزے پکڑ لیے ۳؎کہ لالی آئی تو وہ بچھی جانے لگی ۴؎پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لائے فرمایا اسے کس نے غمگین کیا اس کے بچوں کی وجہ سے اس کے بچے اسے لوٹا دو ۵؎اور ایک چیونٹیوں کا جنگل دیکھا جسے ہم نے جلادیا تھا ۶؎فرمایا یہ کس نے جلایا ہم نے عرض کیا ہم نے فرمایا یہ لائق نہیں کہ آگ کے رب کے سواء کوئی اور آگ سے عذاب دے ۷؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ عبدالرحمن ابن عبداابن مسعود ہیں۔(اشعہ)مرقات نے عبدالرحمان ابن عبداابن بحار فرمایا،آپ تابعی ہیں،عبدالرحمن کی ملاقات اپنے والد سے نہیں ہوئی کیونکہ ان کے والد آپ کے لڑکپن ہی میں فوت ہوگئے تھے،عبدالرحمن ۹۹ھ؁ ∞ میں سلیمان ابن عبدالملک کے زمانہ میں فوت ہوئے۔
۲
؎استنجاء کے لیے جنگل میں تشریف لے گئے لوگوں سے بہت دور۔
۳
؎لالی کی غیر موجودگی میں اس کے بچے پکڑ لیے جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔
۴
؎اس طرح کہ زمین کے قریب آکر پر پھیلا کر گرنے لگی اپنے بچوں کے فراق میں یا ہمارے سروں پر بچھی جانے لگی اسے پتہ چل گیا کہ میرے بچے ان کے پاس ہیں۔
۵
؎ظاہر یہ ہے کہ یہ امر وجوبی ہے کیونکہ بلافائدہ شکاری جانور کے بچے پکڑ کر اس کی ماں کو دکھ دینا منع ہے مگر مرقات نے فرمایا کہ یہ حکم استحبابی ہے شکاری جانور کے بچوں کا شکار جائز ہے۔فقیر کہتا ہے کہ بلا ضرورت شکار ممنوع ہے ہاں ضرورتًا جائز،ضرورت سے مراد گوشت کھانا یا ان کا ضرر دفع کرنا۔
۶
؎کہ ایک جگہ چیونٹیاں بہت تھیں ہم نے اس جگہ آگ بچھادی جس سے وہ جگہ ہی جل گئی۔
۷
؎اس سے معلوم ہوا کہ ہر وقت سب کو حضور کے فیض کی ضرورت ہے،دیکھو کچھ دیر کے لیے حضور غائب ہوئے تھے کہ ان حضرات سے دو غلطیاں ہوگئیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3542