Main Icon

فیصلوں اورگواہیوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3758

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَوْ يُعْطَى النَّاسُ بِدَعْوَاهُمْ، لَادَّعَى ناسٌ دِمَاءَ رِجَالٍ وَأَمْوَالَهُمْ، وَلَكِنَّ الْيَمِيْنَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ، وَفِيْ "شَرْحِهٖ" لِلنَّوَوِيِّ أَنَّه قَالَ: وَجَاءَ فِيْ رِوَايَةِ الْبَيْهَقِيِّ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ، أَوْ صحِيْحٍ، زِيَادَةٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرْفُوْعًا: "لَكِنَّ الْبَيِّنَةَ عَلَى الْمُدَّعِيْ وَالْيَمِيْنَ عَلٰى مَنْ أَنْكَرَ".

عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "لو يعطى الناس بدعواهم، لادعى ناس دماء رجال وأموالهم، ولكن اليمين على المدعى عليه". رواه مسلم، وفي "شرحه" للنووي أنه قال: وجاء في رواية البيهقي بإسناد حسن، أو صحيح، زيادة عن ابن عباس مرفوعا: "لكن البينة على المدعي واليمين على من أنكر".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا اگر لوگوں کو ان کے دعوؤں پر دے دیا جائے ۱؎تو لوگ انسانوں کے خونوں ان کے مالوں کا دعویٰ کردیں ۲؎لیکن قسم مدعیٰ علیہ پر ہے ۳؎(مسلم)اور نووی شرح مسلم میں ہے انہوں نے فرمایا کہ بیہقی کی روایت میں حسن یا صحیح اسناد سے بروایت ابن عباس مرفوعًا یہ زیادتی منقول ہے کہ لیکن گواہ مدعی پر ہے اور قسم انکاری پر۴؎

شرح حدیث

۱∞؎اگر بفرض محال قانون اسلام یہ ہوجائے کہ ہر ایک کے دعویٰ پر بغیر گواہی اور بغیر اقرار مدعیٰ علیہ فیصلہ ہوجایا کرے۔
۲
؎یعنی ہر ایک کہہ دیا کرے کہ فلاں پر میرا اتنا قرض ہے اور فلاں نے میرے عزیز کو قتل کردیا ہے اس کاقصاص یا دیت دلوائی جائے اس پر ملک کا نظام ہی بگڑ جائے۔
۳
؎یہ فرمان عالی مجمل ہے۔مقصد یہ ہے کہ اگر مدعی کے پاس گواہی موجود نہ ہو اور مدعیٰ علیہ اس کے دعویٰ کا اقراری نہ ہو انکاری ہو اور مدعی اس سے قسم کا مطالبہ کرے تو قسم مدعیٰ علیہ پر ہے،یہ تینوں قیدیں خیال میں رہنی چاہئیں۔چونکہ مدعی پر گواہی پیش کرنے کا وجوب بالکل ظاہر تھا اس لیے اس کا ذکر نہ فرمایا۔(اشعہ) اگر قاضی نے مدعی کے مطالبہ کے بغیر مدعیٰ علیہ سے قسم لے لی تو مدعی پھر قسم کا مطالبہ کرسکتا ہے۔اس قانون سے حدود یعنی شرعی مقررہ سزائیں اور لعان وغیرہ علیٰحدہ ہیں کہ ان میں گواہی وقسم اس طرح نہیں،اس کی تفصیل کتب فقہ میں ہے۔
۴
؎یعنی شیخ محی الدین نووی نے بحوالہ مذکورہ مدعی پر گواہی لازم ہونے کا ذکر بھی فرمایا۔خیال رہے کہبینۃیا تو بنا ہےبینونۃبمعنی جدائی سے یا بیان سے بمعنی ظہور،چونکہ گواہی شرعی حق و باطل کو جدا جدا کردیتی ہے یا اس سے چھپی چیز ظاہر ہوجاتی ہے اس لیے اسےبینہکہتے ہیں۔(مغرب،مرقات)خیال رہے کہ مدعی کے ذمہ گواہی اور مدعیٰ علیہ پر قسم ہونا عظیم الشان قاعدہ ہے اور یہ حدیث معنیً متواتر ہے جیسے حدیثانما الاعمال بالنیاتمتواتر ہے،مدعی پر قسم نہیں مدعیٰ علیہ پر گواہی نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3758