Main Icon

فیصلوں اورگواہیوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3783

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا تَجُوْزُ شَهَادَةُ بَدَوِيٍّ عَلٰى صَاحِبِ قَرْيَةٍ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ.

وعن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "لا تجوز شهادة بدوي على صاحب قرية". رواه أبو داود، وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ رسولصلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں جنگلی(دیہاتی) آدمی کی گواہی بستی والے کے خلاف جائز نہیں ۱؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎امام مالک رحمۃعلیہ اس حدیث کے ظاہر پرعمل فرماتے ہیں ان کے ہاں دیہاتی کی گواہی شہری آدمی کے خلاف مطلقًا قبول نہیں، دوسرے امام اس کی وجہ بیان فرماتے ہیں کہ اکثر دیہاتی لوگ احکام شرعیہ سے بے خبر ہوتے ہیں،ا نہیں گواہ بننے،گواہی دینے کے مسائل معلوم نہیں ہوتے ان پر بھول چوک غالب ہے،اگر کسی دیہاتی میں یہ خرابیاں نہ ہوں تو اس کی گواہی قبول ہے،بعض نے فرمایا کہ اس حدیث میںلایجوزبمعنیلایحسنہے یعنی دیہاتی کی گواہی شہری کے خلاف اچھی نہیں کیونکہ دیہاتی کو بوقت ضرورت گواہ بننے یا گواہی دینے کے لیے بلانا مشکل ہوتا ہے مگر یہ حکم جب تھا جب کہ اسباب سفر کم تھے اب نقل و حرکت میں دشواری نہیں۔بہرحال یہ حدیث یا منسوخ ہے یا کچھ قیود سے مقید اور جو وجوہ گواہی قبول نہ ہونے کے عرض کیے گئے وہ مجروح ہیں کیونکہ اگر ان وجوہ سے شہری کے خلاف گواہی جائز یا بہتر نہیں تو شہری کے موافق گواہی کیوں جائز ہے یہ وجوہ تو جب بھی موجود ہیں،غرضکہ سواءامام مالک کے اور کسی امام کے ہاں اس حدیث پر عمل نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3783