Main Icon

فیصلوں اورگواہیوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3768

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَضَ عَلٰى قَوْمٍ الْيَمِيْنَ، فَأَسْرَعُوْا، فَأَمْرَ أَنْ يُسْهَمَ بَيْنَهُمْ فِي الْيَمِيْنِ أَيُّهُمْ يَحْلِفُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

وعن أبي هريرة: أن النبي صلى الله عليه وسلم عرض على قوم اليمين، فأسرعوا، فأمر أن يسهم بينهم في اليمين أيهم يحلف. رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک قوم پر قسم پیش فرمائی تو انہوں نے جلد بازی کی تو حضور نے حکم دیا کہ قسم میں ان کے درمیان قرعہ ڈالاجائے کہ کون قسم کھائے ۱؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث کے ظاہری معنی یہ ہیں کہ ایک شخص نے کسی جماعت کے خلاف دعویٰ کیا اس کے پاس گواہ نہیں تھے،قسم اس جماعت پر آئی ان میں سے ہر شخص نے پہلے قسم کھانے کی کوشش کی تب قرعہ ڈالا مگر شارحین فرماتے ہیں کہ اس کی صورت یہ ہے کہ دو شخصوں نے کسی چیز کا دعویٰ کیا جو کسی تیسرے کے قبضہ میں ہے،وہ قابض کہتا ہے کہ مجھے پتہ نہیں ان میں سے کس کی ہے ان دونوں مدعیوں کے پاس گواہی نہیں یا دونوں کے پاس گواہی ہے،حضرت علی فرماتے ہیں کہ اس صورت میں قرعہ اندازی کرکے جسکے نام پر قرعہ آئے اس سے قسم لی جائے اسی کو دے دی جائے،امام شافعی کے ہاں اس تیسرے کے قبضہ میں چھوڑ دی جائے،امام اعظم فرماتے ہیں کہ ان دونوں کو نصف دے دی جائے۔واﷲ اعلم!(لمعات،اشعہ،مرقات)قرعہ یا قسم ان پر نہ ہوگی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3768