Main Icon

فیصلوں اورگواہیوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3759

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ حَلَفَ عَلٰى يَمِيْنِ صَبْرٍ وَهُوَ فِيْهَا فَاجِرٌ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، لَقِيَ اللّٰهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ"، فَأَنْزَلَ اللّٰهُ تَصْدِيْقَ ذٰلِكَ: إِنَّ الَّذِيْنَ يَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيْلًا إِلى آخِرِ الآيَةِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن ابن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من حلف على يمين صبر وهو فيها فاجر يقتطع بها مال امرئ مسلم، لقي الله يوم القيامة وهو عليه غضبان"، فأنزل الله تصديق ذلك: إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا إلى آخر الآية. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے جو لزومی قسم پر حلف اٹھائے ۱؎حالانکہ وہ اس میں جھوٹا ہو تاکہ کسی مسلمان آدمی کا مال مارے ۲؎تو وہ قیامت کے دنسے اس حالت میں ملے گا۳؎کہ وہ اس پر ناراض ہوگاتونے اس کی تصدیق اتاری کہ بے شک جو لوگکے عہد کے اور اپنی قسموں کے بدلہ تھوڑی قیمت خرید لیتے ہیں۴؎الخ(مسلم،بخاری)۵؎

شرح حدیث

۱∞؎حلفکے معنے ہیں یمین و قسم،صبر بمعنی روکنا،جو قسم مدعی کے دعویٰ کو روک دے،اسے جاری نہ ہونے دے وہ یمین صبر ہے یعنی دعوے کو روک دینی والی قسم ۔ بعض نے فرمایا کہ جھوٹی قسم یمین ہے۔(لمعات )بعض کے نزدیک مضبوط قسم یمین صبر ہے جس قسم سے مدعی ترک دعویٰ پر مجبور ہوجائے جیسے عرب میں نماز عصر کے بعد کی قسم یا حضور کے منبروروضہ مطہرہ کے پاس قسم یا ہمارے ہاں قرآن مجید کو ہاتھ لگاکر یا سر پر رکھ کر قسم یا اپنے جوان بیٹے کا بازو پکڑ کر قسم۔
۲
؎یعنی پختہ قسم کھائے جھوٹی کھائے اور عمدًا کھائے دوسرے کو نقصان پہنچانے کے لیے کھائے جیسے مال مارنا وغیرہ۔
۳
؎یعنی قیامت کے دن ظہور فضل خداوندی کے وقت جب رب تعالٰی بڑے بڑے گنہگاروں پر رحم فرمادے گا اس جھوٹے پر رحم نہ کرے گا بلکہ اسے رحمت و محبت کی نظر سے دیکھے گا بھی نہیں۔
۴
؎اس آیت کریمہ کی شرح وتفسیر ہماری تفسیر میں ملاحظہ کیجئے یہاں اتنا سمجھ لیجئے کہ تجارت میں قیمت غیر مقصود ہوتی ہے اسی لیے سکہ بدل جانے سے بیع ختم نہیں ہوتی اور چیز بدل جانے سے بیع ختم ہوجاتی ہے،قیمت چیز حاصل کرنے کا ذریعہ ہے جیسے روپیہ ذریعہ ہے غلہ وغیرہ حاصل کرنے کا اگر اس سے چیز نہ ملے تو روپیہ بیکار ہے جیسے کھوٹا روپیہ یا وہ روپیہ جس کا چلن جاتا رہا،دنیا قیمت ہے آخرت اصل چیز اور پھر دنیا قیمت بھی ہے تھوڑی "قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌۚ"۔جو دنیا کے عوض دین بربادکرتا ہے وہ بے وقوف ہے کہ مقصود کے عوض غیر مقصود کو لیتا ہے اور بہت کے عوض تھوڑے کا گاہک بنتا ہے۔
۵
؎اس حدیث کو احمد اور باقی چار صحاح نے اشعث ابن قیس اور ابن مسعود سے مرفوعًا روایت فرمایا رضی اللہ عنہم اجمعین۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3759