Main Icon

فیصلوں اورگواہیوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3782

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيْهِ، عَنْ جَدِّهٖ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا تَجُوْزُ شَهَادَةُ خَائِنٍ، وَلَا خَائِنَةٍ، وَلَا زَانٍ، وَلَا زَانِيَةٍ، وَلَا ذِيْ غِمْرٍ عَلٰى أَخِيْهِ". وَرَدَّ شَهَادَةَ الْقَانِعِ لِأَهْلِ الْبَيَتْ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "لا تجوز شهادة خائن، ولا خائنة، ولا زان، ولا زانية، ولا ذي غمر على أخيه". ورد شهادة القانع لأهل البيت. رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا نہ تو خیانتی مرد کی گواہی جائز ہے نہ خیانتی عورت کی ۱؎اور نہ زانی مردکی نہ زانیہ عورت کی ۲؎نہ کینے والے کی اپنے بھائی کے خلاف۳؎اور رد فرمائی اس کی گواہی جوکسی کے گھر سے گزارہ کرے اسی گھروالوں کے لیے۴؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎اس کی شرح ابھی گزرگئی کہ حق یہ ہے کہ اس سے مراد ہر فاسق اور فاسِقہ ہے۔
۲
؎کیونکہ زانی فاسق ہے اور فاسق کی گواہی قبول نہیں توبہ کے بعد قبول ہے کہ اب فاسق نہیں رہا۔
۳
؎یعنی دشمن کی گواہی دشمن کے خلاف قبول نہیں خواہ وہ دشمن سگا بھائی ہو یا دینی بھائی نسبًا اجنبی لفظاخیہدونوں کو شامل
ہے۔مرقات نے فرمایا کہ یہاں دنیاوی عداوتیں مراد ہیں،دینی اختلاف کی صورت میں مسلمان کی گواہی کافر کے خلاف قبول ہے یوں ہی اگر اسلام کی مختلف جماعتوں کے لوگ ایک دوسرے کے خلاف گواہی دیں۔
۴
؎اس کی شرح اور وجہ ابھی اوپر مذکور ہوئی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3782