Main Icon

فیصلوں اورگواہیوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3772

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ مُوْسَى الأَشْعَرِيِّ أَنَّ رَجُلَيْنِ ادَّعَيَا بَعِيْرًا عَلٰى عَهْدِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا شَاهِدَيْنِ، فَقَسَّمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ، وَفِيْ رِوَايَةٍ لَهٗ وَللنَّسَائِيِّ وَابْنِ مَاجَهْ: أَنَّ رَجُلَيْنِ ادَّعَيَا بَعِيْرًا لَيْسَتْ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنةٌ، فَجَعَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا.

وعن أبي موسى الأشعري أن رجلين ادعيا بعيرا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فبعث كل واحد منهما شاهدين، فقسمه النبي صلى الله عليه وسلم بينهما نصفين. رواه أبو داود، وفي رواية له وللنسائي وابن ماجه: أن رجلين ادعيا بعيرا ليست لواحد منهما بينة، فجعله النبي صلى الله عليه وسلم بينهما.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے کہ دو شخصوں نے رسولصلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں ایک اونٹ کا دعویٰ کیا پھر ان میں سے ہر ایک نے دو گواہ قائم کردیئے ۱؎تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ان دونوں کے درمیان آدھا آدھا بانٹ دیا ۲؎(ابوداؤد)اور ابوداؤد کی دوسری روایت اور نسائی اور ابن ماجہ کی روایت میں ہے کہ دوشخصوں نے ایک اونٹ کا دعویٰ کیا جن میں سے کسی کے پاس گواہ نہ تھے۳؎تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے وہ اونٹ ان دونوں کے درمیان کردیا ۴؎

شرح حدیث

۱∞؎چونکہ ان میں سے ہر ایک مدعی تھا کوئی اس اونٹ کا قابض نہ تھا لہذا ان میں سے کوئی مدعیٰ علیہ نہ تھا اس لیے حضور انور نے دونوں کی گواہی قبول فرمائی لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ گواہ صرف مدعی سے لیے جاتے ہیں دونوں سے کیوں لیے گئے، ہوسکتا ہے کہ دونوں ہی پہلے سے قابض ہوں مگر احتمال اولیٰ قوی ہے کہ اونٹ کسی تیسرے کے قبضہ میں تھا جو نہ اس کا مدعی تھا نہ اسے مالک کی خبرتھی۔
۲
؎اس طرح کہ دونوں کو اس کا مالک مان لیا کہ یا تو یہ دونوں اس اونٹ سے مشترکہ کام لیں یا اس کی قیمت دونوں نصف تقسیم کرلیں۔یہ مطلب نہیں کہ ذبح کرکے دونوں میں تقسیم فرمادیا،ایسے مقدمات میں یہ ہی فیصلہ ہونا چاہیے،یہ جب ہے جب کہ کسی کی گواہی خاص علامت سے قوت نہ پاتی ہو ورنہ علامت والے کی گواہی کو قوت ہوگی اور اس کے حق میں فیصلہ ہوگا۔
۳
؎شاید یہ دوسرا واقعہ ہے،پہلا واقعہ کوئی اور تھا ممکن ہے کہ وہ ہی واقعہ ہو جو ابوداؤد کے حوالے سے مذکور ہوا اور گواہ نہ ہونے کے معنے یہ ہیں کہ دونوں کے پاس گواہ تھے جو تعارض کی وجہ سے ساقط ہوگئے لہذا دونوں کے پاس گواہی مقبول نہ رہی،مرقات نے اخیری توجیہ کو ترجیح دی۔
۴
؎اس کا مطلب بھی وہ ہی ہے جو ابھی عرض کیا گیا کہ جانور کو مشترک قرار دیا گیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3772