Main Icon

فیصلوں اورگواہیوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3773

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا فِيْ دابَّةِ، وَلَيْسَ لَهُمَا بَيِّنةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِيْنِ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ.

وعن أبي هريرة: أن رجلين اختصما في دابة، وليس لهما بينة فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "استهما على اليمين". رواه أبو داود، وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ دو شخصوں نے ایک جانور میں جھگڑا کیا اور ان کے پاس گواہ نہ تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے دونوں سے فرمایا قسم پر قرعہ ڈالو ۱؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎اس کا وہ ہی مطلب ہے جو فصل اول کی آخری حدیث کے ماتحت بیان ہوا کہ دو شخصوں نے ایسی چیز کا دعویٰ کیا جو کسی تیسرے شخص کے قبضہ میں تھی اور وہ اس کا مدعی نہ تھا بلکہ کہتا تھا کہ مجھے خبر نہیں کہ اس کا مالک کون ہے اور ان دونوں مدعیوں کے پاس گواہ نہ تھے تب حضور انور نے بذریعہ قرعہ ایک سے قسم لی کیونکہ وہ دوسرے کے حق کا انکاری تھا اور بعد قسم اسے وہ شے دے دی،یہ حدیث حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تائید کرتی ہے کہ ان کا مذہب ایسے واقعہ کے متعلق یہ ہی ہے،امام شافعی کے ہاں ایسی حالت میں وہ چیز اس تیسرے کے پاس ہی چھوڑ دی جائے گی اور امام اعظم کے ہاں دونوں مدعیوں میں آدھی آدھی تقسیم ہوگی لہذا ہمارے ہاں یہ حدیث منسوخ ہے اس کی ناسخ وہ حدیث ہے جو ابھی گزری جس میں تقسیم کا ذکر ہے۔واﷲ اعلم!

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3773