Main Icon

فیصلوں اورگواہیوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3767

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِيْ، ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ، ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ، ثُمَّ يَجيءُ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِيْنَهٗ، وَيَمِيْنُهُ شَهَادتَهٗ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن ابن مسعود قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "خير الناس قرني، ثم الذين يلونهم، ثم الذين يلونهم، ثم يجيء قوم تسبق شهادة أحدهم يمينه، ويمينه شهادته". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے بہترین لوگ میرے ہم زمانہ ہیں ۱؎پھر وہ جو ان سے متصل ہوں گے پھر وہ جو ان سے ملے ہوں گے۲؎پھر ایسی قوم آئے گی جن میں ہر ایک کی گواہی اسی کی قسم پر پہل کرے گی اور اس کی قسم اس کی گواہی پر۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎قرنکے لغوی معنی ہیں ملنا،اسی سے ہے اقتران زمانہ اور اہل زمانہ اورگروہ کوقرناس لیے کہتے ہیں کہ ہم زمانہ اور ایک گروہ کے لوگ ملے ہوئے ہوتے ہیں اس میں گفتگو ہے کہ قرن یعنی زمانہ کس مدت کا نام ہے،تیس سال،چالیس سال،ساٹھ سال،ستر سال اسی۸۰ سال،سو سال آخری قول زیادہ قوی ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک بچہ کے سر پر ہاتھ پھیرکر فرمایاعشی قرناتم ایک زمانہ تک جیتے رہو تو وہ سو برس جیا۔(مرقات)بعض اہلفرماتے ہیں کہ حضرات خلفاءراشدین کا زمانہ حضور انور کا زمانہ ہے،قمیں صدیق کی طرفرمیں حضرت عمر کی طرفنمیں حضرت عثمان کی طرف اوریمیں حضرت علی کی طرف اشارہ ہے۔بعض نے فرمایا کہ حضور کے صحابہ حضور کے قرن ہیں،بعض نے فرمایا کہ جو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی حیات ظاہری شریف میں زندہ تھا وہ حضور کا ہم زمانہ ہے۔(از مرقات واشعہ مع زیادت)خیال رہے کہ زمانہ نبی اور ہے زمانہ نبوت کچھ اور،حضور کا زمانہ نبوت تا قیامت ابدالاباد تک ہے۔جس زمانہ میں لوگ حضور کو دیکھ کر صحابی بنتے تھے وہ زمانہ محدود ہے ورنہ آج بھی زمانہ حضور کا ہے اور ہمیشہ زمانہ حضور کا ہی رہے گا۔
لطیفہ: ایک صاحب نے بدعت کی تعریف کی کہ بدعت وہ ہے کہ جو حضور کے زمانہ کے بعد ایجاد ہوتو ایک عاشق دل شاد نے کہا آج کس کا زمانہ ہے،آج بھی انہیں کا رواج انہیں کا زمانہ ہے،ہم آج کلمہ پڑھتے ہیں محمد رسول
( صلی اللہ علیہ و سلم)،محمدکے رسول ہیں اگر یہ زمانہ ان کا نہیں تو"ہیں" کسے کہہ رہے ہو جو ہمارے رسول بھی زندہ ہیں ان کی رسالت بھی قائم دائم ہے۔
۲
؎یعنی تابعین اور تبع تابعین۔خیال رہے کہ صحابی وہ مؤمن انسان ہیں جنہوں نے حضور انور کو ایک نگاہ دیکھا یا ایک آن کے لیے صحبت پائی مگر تابعی وہ لوگ جنہوں نے صحابی کی مستقل صحبت پائی ہو،ایسے ہی تبع تابعین وہ جنہوں نے تابعی کی صحبت پائی ان کا فیض حاصل کیا ہو لہذا امام ابوحنیفہ تابعی ہیں مگر یزید تابعی نہیں کہ اگرچہ وہ صحابی کا بیٹا ہے مگر فیض صحابہ حاصل نہ کرسکا۔اسی لیے یہاں مرقات نےیلونھمکے معنے کیےای یقربونھم فی الخیر کالتابعینجو صحابہ سے خیر میں قریب ہوں۔
۳
؎یعنی جھوٹی گواہی اور جھوٹی قسموں پر دلیر ہوں گے پرواہ نہ کریں گے کہ اپنی گواہی کی قسم سے ثابت کریں یا جھوٹی قسم کو جھوٹی گواہی سے ثابت کریں دونوں پر حریص ہوں گے۔اس حدیث کی بنا پرحضرت امام مالک فرماتے ہیں کہ جو گواہ قسم کھاکر گواہی دے یا برعکس تو اس کی گواہی رد ہے مگر جمہور آئمہ فرماتے ہیں کہ گواہی رد نہ ہوگی،اس کی تحقیق مرقات شرح مشکوۃ میں ملاحظہ فرمایئے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ زمانہ صحابہ تمام زمانوں سے افضل ہے،پھر جس قدر زمانہ حضور سے دور ہوجائے گا خیریت کم ہوجاتی جائے گی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3767