- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- حاکم اور قاضی بننے کا بیان
- حدیث نمبر 3781
فیصلوں اورگواہیوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3781
حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَا تَجُوْزُ شَهَادَةُ خَائِنٍ، وَلَا خَائِنَةٍ، وَلَا مَجْلودٍ حَدًّا، وَلَا ذِيْ غِمْرٍ عَلٰى أَخِيْهِ، وَلَا ظَنِيْنٍ فِيْ وَلَاءٍ وَلَا قَرَابَةٍ، وَلَا الْقَانِعِ مَعَ أَهْلِ الْبَيْتِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ وَيَزِيْدُ بْنُ زِيَادٍ الدِّمَشْقِيُّ الرَّاوِيْ مُنْكَرُ الْحَدِيْثِ.
وعن عائشة قالت: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "لا تجوز شهادة خائن، ولا خائنة، ولا مجلود حدا، ولا ذي غمر على أخيه، ولا ظنين في ولاء ولا قرابة، ولا القانع مع أهل البيت". رواه الترمذي، وقال: هذا حديث غريب ويزيد بن زياد الدمشقي الراوي منكر الحديث.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ نہیں جائز ہے گواہی خیانت کرنے والے کی اور نہ خیانت کرنے والی کی ۱؎اور نہ سزا کوڑے مارے ہوئے کی۲؎اور نہ کینہ والے کی اپنے بھائی کے خلاف۳؎اور نہ ولاءونسب میں تہمت والے کی۴؎اور نہ کسی گھر والوں کے خرچہ پر گزارہ کرنے والے کی ۵؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور یزید ابن زیاد دمشقی راوی منکر الحدیث ہے ۶؎
شرح حدیث
۱∞؎خیانت ضد ہے امانت کی،کسی کا مال ناحق دبا لینا،خیانت کی بہت صورتیں ہیں یہاں یا تو خیانت سے یہ مال مار لینا مراد ہے یا اس سے ہرفسق و بدکاری مراد۔گناہ کبیرہ کرنا یا گناہ صغیرہ پر اڑ جانا اسے کرتے رہنا فسق ہے اور ہر فسق خیانت ہے کہ اس میں حق اللہ اور حق شرع کا مارنا ہے اس لیے ہر فاسق خائن ہے،مرقات نے یہاں خائن کے یہ ہی معنی کیے یعنی فاسق،اشعۃ اللمعات نے بھی اسی معنی کو ترجیح دی۔مطلب یہ ہے کہ فاسق معلن کی گواہی قاضی کے ہاں قبول نہیں قرآن کریم فرماتاہے:"وَ اَشْہِدُوۡا ذَوَیۡ عَدْلٍ مِّنۡکُمْ"اپنے میں سے دو عادلوں و پرہیزگاروں کو گواہ بناؤ اسی لیے فقہاء فرماتے ہیں کہ شرابی،زانی،چور،داڑھی منڈے وغیرہم فسّاق کی گواہی قبول نہیں اس حکم کا ماخذ یہ ہی حدیث اور یہ ہی آیت ہے۔
۲؎خیال رہے کہ کوڑوں کی سزا کنوارے زانی کو بھی دی جاتی ہے(سو کوڑے)اور شرابی کو بھی(اسی۸۰ کوڑے) اور پارسا عورت کو زنا کی تہمت لگانے والے کو بھی(اسی۸۰ کوڑے)مگر یہاں مراد یہ تیسرا شخص ہے تہمت کی سزا والا کیونکہ مردود الشہادت صرف یہ ہی شخص ہے نہ کہ پہلے دو،اس پر ساری امت کا اجماع بھی ہے قرآن کریم کی تصریح بھی،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَةً وَّ لَا تَقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًاۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَۙ(۴) اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا"مگر ہمارے امام اعظم کے ہاں قاذف (تہمت لگانے والا) کی گواہی توبہ کے بعد بھی قبول نہیں ہمیشہ مردود الشہادۃ رہے گا،مگر امام شافعی کے ہاں بعد توبہ اس کی گواہی قبول ہوگی،وہ فرماتے ہیںالا الذین تابواکا تعلقلا تقبلواسے ہے اور ہمارے ہاں اس کا تعلقفاسقونسے ہے یعنی یہ قاذفین فاسق ہیں سواء توبہ کرنے والوں کے،نیز امام شافعی کے ہاں قاذف تہمت لگاتے ہی مردود الشہادت ہے مگر ہمارے ہاں کوڑے لگنے کے بعد یعنی ہمارے ہاں گواہی رد ہونا تہمت کی سزا کا تتمہ ہے،یہ حدیث ان دونوں مسئلوں میں امام اعظم کی دلیل ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے مَجلود یعنی کوڑے لگائے ہوئے کی گواہی مردود قرار دی اور ہمیشہ کے لیے مردود قرار دی توبہ کرے یا نہ کرے۔(مرقات و کتب فقہ)چونکہ اس جملہ کی تائید قرآن کریم سے ہورہی ہے لہذا حدیث کا یہ جزءقوی ہے۔
۳؎بھائی سے مراد وہ ہے جس کے خلاف گواہی دے رہا ہے اسلامی بھائی چارہ مراد ہے یعنی کینہ پرور اور دشمن کی گواہی دشمن کے خلاف قبول نہیں اگرچہ وہ اس کا سگا بھائی ہی کیوں نہ ہو کیونکہ یہ بوجہ دشمنی اسے نقصان پہنچانے کے لیے اس کے خلاف جھوٹی گواہی دے گا اس لیے احتیاطًا یہ لازم کردیا گیا۔
۴؎یعنی جو غلام اپنے کو مولیٰ کے سوائے کسی اور کا آزاد کردہ غلام بتاکر اپنی ولاء اس سے ثابت کرے یوں ہی جو شخص اپنے کو دوسرے خاندان سے منسوب کرے ان کی گواہی قبول نہیں۔آج کل لوگوں کو بناوٹی سید بننے کا بہت شوق ہے ایسے مصنوعی سیدوں کی گواہی مردود ہے یہ فرمان عالی بہت جامع ہے۔عربی میںقانعکہتے ہے سائل کو اورمقنعکہتے ہیں صابر کو جو تھوڑے کھانے پر قناعت کرے،یہاں وہ شخص مراد ہے جو کسی کے گھر رہ کر اس کی عطاء پرگزارہ کررہا ہو،چونکہ اس گھر والے کے حق میں گواہی کا نفع خود اس کو بھی پہنچے گا کہ اس کو جو مال ملے گا اس مال سے اس کو کھانا ملے گا اس لیے گواہی قبول نہیں جو گواہی خود گواہ کو نفع بخش ہو وہ قبول نہیں جیسے باپ کی گواہی اولاد کے حق میں،زوجین کی گواہی ایک دوسرے کے حق میں کہ کوئی قبول نہیں یوں قرض خواہ کی گواہی اپنے مقروض کے حق میں قبول نہیں۔
۵؎اس میں خادم تابع لے پالک سب داخل ہیں جوکسی کی روٹی پرگزارہ کرتا ہو اس کی گواہی اس گھر والوں کے حق میں قبول نہیں کہ یہ شخص اپنی پرورش کے لیے اس کے حق میں گواہی دے گا۔
۶؎اگرچہ یہ حدیث غریب ہے مگر اس کے بعض اجزاء کی تائید قرآن مجید سے ہورہی ہے اور بعض اجزاء کی تائید دیگر احادیث سے،نیز آئمہ دین کا اسی پر عمل ہے ان وجوہ سے یہ قوی ہوگئی۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3781