Main Icon

فیصلوں اورگواہیوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3766

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ الشُّهَدَاءِ؟ الَّذِيْ يَأْتِيْ بِشَهَادتِهٖ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلهَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن زيد بن خالد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ألا أخبركم بخير الشهداء؟ الذي يأتي بشهادته قبل أن يسألها". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت زید ابن خالد سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کیا میں تم کو بہترین گواہوں کی خبر نہ دوں ۲؎وہ گواہ ہے جو طلب کیے جانے سے پہلے گواہی دے دے ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎آپ صحابی ہیں،جہنی ہیں،آپ کی وفات ۷۸ھ؁ ∞ میں ہوئی،پچاسی سال عمر پائی،عبدالملک کے زمانہ میں آپ کی وفات ہوئی۔(اشعہ)
۲
؎شہداءجمع ہےشاھدکی بھی شہید کی بھی یہاں شاہد کی جمع ہے۔
۳
؎اس فرمان عالی کے کئی مطلب ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ کسی کے پاس کسی مدعی کے حق کی گواہی ہے اور مدعی کو اس کی خبر نہیں اگر یہ گواہی نہ دے تو اس کا حق مارا جائے تب اس پر لازم ہے کہ خود مدعی کو خبر دے دے کہ میں تیرے حق کا عینی گواہ ہوں تاکہ اس کا حق نہ مارا جائے،یہ گواہی امانت ہے جس کا چھپانا خیانت ہے۔دوسرے یہ کہ حقوق شرعیہ کی گواہی دینا واجب ہے اگرچہ اس کا دعویٰ نہ ہو جیسے طلاق،عتاق، وقف،عام وصیت کہ ان جیسی چیزوں کی گواہی قاضی کے ہاں ضرور دے اگرچہ اسے طلب نہ کیا گیا ہو،ان دونوں گواہیوں کے متعلق رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ اَقِیۡمُوا الشَّہَادَۃَ لِلّٰہِ"۔چونکہ ان گواہیوں سے حق انسانی اور حقوق شرعیہ وابستہ ہیں لہذا ضرور ادا کرے طلب کا انتظار نہ کرے،رمضان و عید کے چاند کی گواہی ضرور دے،جس حدیث میں بغیرگواہ بنائے گواہی دینے کی برائی ہےیشھدون ولا یستشھدونوہاں جھوٹی گواہی نااہل گواہی مراد ہے۔(لمعات،مرقات و اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3766