Main Icon

باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4707

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفَنَاءِ الْكَعْبَةِ مُحْتَبِيًا بِيَدَيْهِ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

عن ابن عمر قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم بفناء الكعبة محتبيا بيديه. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو کعبہ کی صحن میں اکڑوں بیٹھے اپنے ہاتھوں پر ٹیک لگائے دیکھا ۱∞؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎گھر کے سامنے کی کھلی جگہ جس پر چھت نہ ہو فنا کہلاتی ہے جسے اردو میں صحن یا آنگن کہتے ہیں۔احتباءیہ ہے کہ دونوں پنڈلیاں کھڑی ہوں،پاؤں کے تلوے زمین سے لگے ہوں،چوتڑ زمین پر ہوں اور دونوں ہاتھ پنڈلیوں پر رکھے ہوں،ان کا حلقہ کیے ہوئے یہ اکڑوں بیٹھنے کی ایک قسم ہے،اس بیٹھک میں اظہار عجزو انکسار ہے یہ بیٹھک سنت ہے۔(مرقات)کہ حضور انور صلی الله علیہ وسلم اس طرح بھی بیٹھے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4707