Main Icon

باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4724

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: جَاءَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهٗ جُلُوسٌ فَقَالَ: مَا لِي أَرَاكُمْ عِزِيْنَ؟ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن جابر بن سمرة قال: جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم وأصحابه جلوس فقال: ما لي أراكم عزين؟ . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے فرماتے ہیں تشریف لائے رسول الله صلی الله علیہ وسلم حالانکہ آپ کے صحابہ بیٹھے تھے ۱∞؎تو فرمایا کیا ہے مجھے میں تم کو متفرق دیکھتا ہوں۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی مسجد نبوی شریف میں حضرات صحابہ متفرق بیٹھے تھے دو چار اس طرف اور چار چھ اس دوسری طرف۔
۲
؎یہ فرمان عالی اظہار ناراضی کے لیے ہے۔عزینبنا ہےعزۃسے بمعنی علیحدگی اور متفرق ہونا،رب تعالیٰ فرماتاہے:"عَنِ الْیَمِیۡنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ عِزِیۡنَ"۔مقصد یہ ہے کہ مسجد یا مجلس میں مسلمان اکٹھے بیٹھا کریں الگ الگ ٹولیاں بنا کر نہ بیٹھیں کہ اس میں کفار سے مشابہت ہے،نیز قالب کا اثر قلب پر پڑتا ہے اگر مسلمان آپس میں ایک دوسرے سے الگ تھلگ بیٹھیں گے تو ان کے دل بھی الگ ہوجائیں گے اگر مل کر بیٹھیں گے تو دل بھی مل جائیں گے۔خیال رہے کہ نماز کی انتظار میں مسجد میں مسلمان صف بستہ بیٹھیں کہ فرشتے بارگاہِ الٰہی میں صف بستہ ہی حاضر ہوتے ہیں اور ذکر کی مجلس میں حلقہ باندھ کر بیٹھے کہ جنت میں مسلمان حلقوں سے بیٹھا کریں گے،رب فرماتا ہے:"عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیۡنَ"حضور انور صلی الله علیہ وسلم کے ہر فرمان میں ہزار ہا حکمتیں ہوتی ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4724