Main Icon

باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4711

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ يَتَبَخْتَرُ فِي بُرْدَيْنِ وَقَدْ أَعْجَبَتْهٗ نَفْسُهٗ خُسِفَ بِهٖ الْأَرْضُ فَهُوَ یَتَجَلْجَلُ فِيهَا إِلٰى يَوْم الْقِيَامَةِ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: بينما رجل يتبختر في بردين وقد أعجبته نفسه خسف به الأرض فهو یتجلجل فيها إلى يوم القيامة . (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ ایک شخص دو چادروں میں اکڑ کر چل رہاتھا ۱∞؎اسے اپنا نفس بڑا پسند آیا تھا اسے زمین میں دھنسا دیا گیا تو وہ اس میں قیامت تک دھنستا چلا جارہا ہے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎شاید یہ شخص قارون تھا یا کوئی ملک فارس کا کافر،بعض نے فرمایا کہ یہ واقعہ قریب قیامت حضور صلی الله علیہ وسلم کے ایک امتی سے ہوگا اس صورت میںیتبختربمعنی مستقبل ہوگا اوراعجبت خسفتمام افعال بمعنی مستقبل ہوں گے۔والله اعلم!اس سے معلوم ہوا کہ تکبروغرور کی چال چلنا بھی ممنوع بلکہ باعث عذاب ہے،مسلمان کی چال میں بھی تواضع چاہیے، رب تعالیٰ اپنے مقبول بندوں کی صفت یوں فرماتاہے: "الَّذِیۡنَ یَمْشُوۡنَ عَلَی الْاَرْضِ ھَوْنًا"ہمارے بندے وہ ہیں جو تواضع سے چلتے ہیں۔آج کل بعض لوگ چشمہ لگائے ننگے سر ہاتھ میں بیت گھماتے چلتے ہیں یہ متکبرانہ چال ہے اس سے بچو۔
۲
؎یتجلجلبنا ہےجلجلۃسے اس کے معنی ہیں وہ حرکت جس کی آوازہو۔مقصد یہ ہے کہ تکبر کا انجام ذلت و خواری ہے عجز کا انجام سرداری ہے۔شعر
عجز کار انبیاء و اولیاء است عاجزی محبوب درگاہ خدا است
خاک میں عجز ہے آگ میں تکبر،تو باغ خاک میں ہی لگتے ہیں نہ کہ آگ میں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4711