Main Icon

باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4730

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ عمْرِو بْنِ الشَّرِيْدِ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جَالِسٌ هٰكَذَا وَقَدْ وَضَعْتُ يَدِيَ الْيُسْرٰى خَلْفَ ظَهْرِي وَاتَّكَأْتُ عَلَى أَلْيَةِ يَدِي فَقَالَ: أَتَقْعُدُ قَعْدَةَ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

عن عمرو بن الشريد عن أبيه قال: مر بي رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا جالس هكذا وقد وضعت يدي اليسرى خلف ظهري واتكأت على ألية يدي فقال: أتقعد قعدة المغضوب عليهم . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو ابن شرید سے ۱∞؎اور وہ اپنے والد سے روایت فرماتے ہیں مجھ پر رسول الله صلی الله علیہ وسلم گزرے جب کہ میں اس طرح بیٹھا تھا کہ میں نے اپنا بایاں ہاتھ اپنے پیٹھ کے پیچھے رکھا ہوا تھا اور میں نے اپنے ہاتھ کی سیرین پر ٹیک لگائی ہوئی تھی ۲؎تو فرمایا تم ان لوگوں کی بیٹھک بیٹھتے ہو جن پر غضب کیا گیا ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎عمرو ابن شرید تابعی ہیں،ان کے والد شرید صحابی ہیں،عمرو طائف کے رہنے والے ہیں،ثقہ ہیں،ان کی ملاقات اپنے والد سے اور حضرت عبدالله ابن عباس سے ہے ان دو بزرگوں کے علاوہ اور چند صحابہ سے بھی ہے۔ (اشعہ)۲؎الیۃسرین یعنی چوتڑ کو کہتے ہیں مگر یہاں اس سے مراد ہتھیلی کا وہ گوشت ہے جو انگوٹھے کی جڑ سے آخری کنارہ تک ہے۔
۳
؎یعنی اس طرح یہود بیٹھا کرتے ہیں اور یہود پر الله کا غضب ہے تو یہ بیٹھک الله تعالیٰ کو ناپسند ہے تم مؤمن انعام والے بندے ہو تم ان سے تشبیہ کیوں کرتے ہو۔خیال رہے کہ ایک ہاتھ پیٹھ پر رکھنا دوسرے ہاتھ پر ٹیک لگانا مطلقًا ممنوع ہے خواہ داہنا ہاتھ پیٹھ پر بایاں زمین پر یا برعکس(اشعہ)بلکہ دونوں یا ایک ہاتھ کوکھ پر رکھنا یا پیٹھ سے لگانا ہی ممنوع ہے یوں ہی دونوں ہاتھ پیٹھ کے پیچھے کھڑے کرنا ان پر ٹیک لگانا ممنوع ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4730