Main Icon

باب: اختیار کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2801

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُتَبَايِعَانِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالخِيَارِ عَلٰى صَاحِبِهِمَا لَمْ يَتَّفَرَقَا إِلَّا بَيع الْخِيَارِ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: «إِذَا تَبَايَعَ الْمُتَبَايِعَانِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالخِيَارِ مِنْ بَيْعِهِمَا لَمْ يَتَفَرَّقَا أَوْ يَكُونَ بَيْعُهُمَا عَنْ خِيَارٍ فَإِذَا كانَ بَيْعُهُمَا عَنْ خِيَارٍ فَقَدْ وَجَبَ»وَفَى رِوَايَةٍ لِلتِّرْمِذِيِّ: «الْبَيِّعَانِ بِالخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا أَوْ يَخْتَارَا» . وَفِي الْمُتَّفَقِ عَلَيْهِ: " أَوْ يَقُولَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهٖ : اخْتَرْ «بَدَلَ» أَوْ يَخْتَارَا "

عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «المتبايعان كل واحد منهما بالخيار على صاحبهما لم يتفرقا إلا بيع الخيار»(متفق عليه)وفي رواية لمسلم: «إذا تبايع المتبايعان فكل واحد منهما بالخيار من بيعهما لم يتفرقا أو يكون بيعهما عن خيار فإذا كان بيعهما عن خيار فقد وجب»وفى رواية للترمذي: «البيعان بالخيار ما لم يتفرقا أو يختارا» . وفي المتفق عليه: " أو يقول أحدهما لصاحبه : اختر «بدل» أو يختارا "

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے خرید و فروخت کرنے والے دونوں میں سے ہر ایک کو اپنے ساتھی پر اختیار ہے ۱؎جب تک وہ الگ نہ ہوں ۲؎سواء خیار والی بیع کے ۳؎(مسلم،بخاری)اور مسلم کی ایک روایت میں یوں ہے کہ جب تاجر و خریدار تجارتی کاروبار کریں تو اس بیع میں ہر ایک مختار ہے جب تک جدا نہ ہوں ۴؎یا ان کی بیع ہی اختیار کی ہوجب بیع اختیار کی ہے تو اختیار لازم ہو گیا ۵؎اور ترمذی کی روایت میں ہے کہ خریدار اور بائع مختار ہیں ۶؎جب تک الگ نہ ہوں یا اختیار رکھیں اور مسلم،بخاری کی روایت میں بجائے اختیار کے یوں ہے کہ ان میں سے ایک دوسرے سے کہہ دے تو اختیار رکھ ۷؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی خرید و فروخت کرنے والوں میں سے ایک نے ایجاب کردیا تو دوسرے کو قبول کرنے نہ کرنے کا اختیار ہے اور دوسرے کے قبول سے پہلے ایجاب کرنے والا اپنا ایجاب ختم کرسکتا ہے۔
۲
؎ہمارے امام اعظم کے ہاں یہاں علیحدگی سے مراد جسمانی علیحدگی نہیں بلکہ کلام کی علیحدگی وجدائی مراد ہے کہ ایک کہے میں نے بیچ دی دوسرا کہے میں نے قبول کرلی جسمًا خواہ وہاں ہی بیٹھے رہیں یا علیحدہ ہوجائیں جب باتوں کا ہیر پھیر ہوگیا بیع پوری ہوگئی،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَ اِنْ یَّتَفَرَّقَا یُغْنِ اللّٰهُ كُلًّا مِّنْ سَعَتِهٖؕ"اگر خاوند بیوی الگ ہوجائیں تو اللّٰه اپنے فضل سے ہر ایک کو دوسرے سے بے نیاز کردے گا،یہاں زوجین کی جسمانی علیحدگی مراد نہیں بلکہ نکاح سے علیحدگی یعنی طلاق مراد ہے،نیز جب نکاح،کرایہ صرف ایجاب و قبول سے ہی منعقد ہوجاتے ہیں وہاں خیار مجلس نہیں ہوتا تو بیع بھی ایک عقد ہی ہے وہ بھی صرف ایجاب و قبول سے ہوجانی چاہیے۔امام شافعی اس تفرقہ سے مراد تفرقہ ابدان لیتے ہیں اور اس لفظ سے خیار مجلس ثابت کرتے ہیں یعنی تاجرو خریدار جب تک اپنی جگہ سے ہٹ نہ جائیں انہیں بیع رکھنے نہ رکھنے کا اختیار ہے مگر مذہب حنفی قوی ہے کیونکہ متبایعان دونوں عاقدوں کا نام ہے،عقد قول سے ہوتا ہے تو جدائی بھی قولی چاہیے نہ کہ بدنی۔
۳
؎اس جگہ خیار سے مراد شرط ہے یعنی ایجاب قبول کے بعد دونوں پر بیع لازم ہوجاتی ہے لیکن اگر کسی نے اپنے لیے واپسی کے اختیار کی شرط لگالی تو اسے تین دن تک واپسی کا حق رہے گا،مثلًا خریدار کہہ دے کہ میں قبول کرتا ہوں مگر تین روز تک مجھے چیز واپس کردینے کا حق ہے کہ اگر میرا دل نہ چاہا تو واپس کردوں گا،اب اگرچہ ایجاب و قبول ہوچکا مگرخریدار کو اس مدت میں واپسی کا حق ہے اس کا نام خیار شرط ہے۔
۴
؎یعنی جب دونوں میں سے ایک نے کہہ دیا کہ میں فروخت کرتا ہوں یا خریدتا ہوں تو دوسرے کو قبول کرنے نہ کرنے کا حق ہے اس حق کا نام خیار عقد ہے۔
۵
؎کہ اب دوسرے شخص کو اس کے خیار باطل کرنے کا حق نہ رہا،یہ خود اختیار باطل کرے یا نہ کرے۔وجبکا فاعل خیار ہے نہ کہ بیع اور اگر بیع ہی فاعل ہو تو معنی یہ ہوں گے کہ خیار شرط کی بیع میں دوسرے فریق پر بیع لازم ہوجائے گی اختیار اسے رہے گا جس نے اپنے لیے اختیار رکھا ہے۔
۶
؎بیعانسے مراد وہ ہیں جو بیع کرنا چاہتے ہوں یا بیع کررہے ہوں،وہ مراد نہیں ہیں جو بیع کرچکے ہیں جیسے عاقدین انہیں کہتے ہیں جو عقد کررہے ہوں نہ انہیں جو عقد کرچکے،یہ خوب خیال رکھیے اس لفظ سے دھوکا ہوتا ہے اس لفظ سے شوافع خیار مجلس ثابت کرتے ہیں،وہ معنی یہ کرتے ہیں کہ جو بیع شراء کرچکے وہ مختار ہیں۔
۷
؎یہ جملہاویختارکی تفسیر ہے کیونکہ خیار شرط دونوں عاقدوں کے لیے نہیں ہو سکتا بلکہ ایک کو اختیار ہوگا دوسرے پر بیع لازم ہوگی جیسا کہ پہلےوجبسے معلوم ہوچکا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2801