- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- تجارتوں کا بیان
- حدیث نمبر 2801
باب: اختیار کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2801
تجارتوں کا بیان - جلد 4
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُتَبَايِعَانِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالخِيَارِ عَلٰى صَاحِبِهِمَا لَمْ يَتَّفَرَقَا إِلَّا بَيع الْخِيَارِ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: «إِذَا تَبَايَعَ الْمُتَبَايِعَانِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالخِيَارِ مِنْ بَيْعِهِمَا لَمْ يَتَفَرَّقَا أَوْ يَكُونَ بَيْعُهُمَا عَنْ خِيَارٍ فَإِذَا كانَ بَيْعُهُمَا عَنْ خِيَارٍ فَقَدْ وَجَبَ»وَفَى رِوَايَةٍ لِلتِّرْمِذِيِّ: «الْبَيِّعَانِ بِالخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا أَوْ يَخْتَارَا» . وَفِي الْمُتَّفَقِ عَلَيْهِ: " أَوْ يَقُولَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهٖ : اخْتَرْ «بَدَلَ» أَوْ يَخْتَارَا "
عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «المتبايعان كل واحد منهما بالخيار على صاحبهما لم يتفرقا إلا بيع الخيار»(متفق عليه)وفي رواية لمسلم: «إذا تبايع المتبايعان فكل واحد منهما بالخيار من بيعهما لم يتفرقا أو يكون بيعهما عن خيار فإذا كان بيعهما عن خيار فقد وجب»وفى رواية للترمذي: «البيعان بالخيار ما لم يتفرقا أو يختارا» . وفي المتفق عليه: " أو يقول أحدهما لصاحبه : اختر «بدل» أو يختارا "
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے خرید و فروخت کرنے والے دونوں میں سے ہر ایک کو اپنے ساتھی پر اختیار ہے ۱؎جب تک وہ الگ نہ ہوں ۲؎سواء خیار والی بیع کے ۳؎(مسلم،بخاری)اور مسلم کی ایک روایت میں یوں ہے کہ جب تاجر و خریدار تجارتی کاروبار کریں تو اس بیع میں ہر ایک مختار ہے جب تک جدا نہ ہوں ۴؎یا ان کی بیع ہی اختیار کی ہوجب بیع اختیار کی ہے تو اختیار لازم ہو گیا ۵؎اور ترمذی کی روایت میں ہے کہ خریدار اور بائع مختار ہیں ۶؎جب تک الگ نہ ہوں یا اختیار رکھیں اور مسلم،بخاری کی روایت میں بجائے اختیار کے یوں ہے کہ ان میں سے ایک دوسرے سے کہہ دے تو اختیار رکھ ۷؎
شرح حدیث
۱∞؎یعنی خرید و فروخت کرنے والوں میں سے ایک نے ایجاب کردیا تو دوسرے کو قبول کرنے نہ کرنے کا اختیار ہے اور دوسرے کے قبول سے پہلے ایجاب کرنے والا اپنا ایجاب ختم کرسکتا ہے۔
۲؎ہمارے امام اعظم کے ہاں یہاں علیحدگی سے مراد جسمانی علیحدگی نہیں بلکہ کلام کی علیحدگی وجدائی مراد ہے کہ ایک کہے میں نے بیچ دی دوسرا کہے میں نے قبول کرلی جسمًا خواہ وہاں ہی بیٹھے رہیں یا علیحدہ ہوجائیں جب باتوں کا ہیر پھیر ہوگیا بیع پوری ہوگئی،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَ اِنْ یَّتَفَرَّقَا یُغْنِ اللّٰهُ كُلًّا مِّنْ سَعَتِهٖؕ"اگر خاوند بیوی الگ ہوجائیں تو اللّٰه اپنے فضل سے ہر ایک کو دوسرے سے بے نیاز کردے گا،یہاں زوجین کی جسمانی علیحدگی مراد نہیں بلکہ نکاح سے علیحدگی یعنی طلاق مراد ہے،نیز جب نکاح،کرایہ صرف ایجاب و قبول سے ہی منعقد ہوجاتے ہیں وہاں خیار مجلس نہیں ہوتا تو بیع بھی ایک عقد ہی ہے وہ بھی صرف ایجاب و قبول سے ہوجانی چاہیے۔امام شافعی اس تفرقہ سے مراد تفرقہ ابدان لیتے ہیں اور اس لفظ سے خیار مجلس ثابت کرتے ہیں یعنی تاجرو خریدار جب تک اپنی جگہ سے ہٹ نہ جائیں انہیں بیع رکھنے نہ رکھنے کا اختیار ہے مگر مذہب حنفی قوی ہے کیونکہ متبایعان دونوں عاقدوں کا نام ہے،عقد قول سے ہوتا ہے تو جدائی بھی قولی چاہیے نہ کہ بدنی۔
۳؎اس جگہ خیار سے مراد شرط ہے یعنی ایجاب قبول کے بعد دونوں پر بیع لازم ہوجاتی ہے لیکن اگر کسی نے اپنے لیے واپسی کے اختیار کی شرط لگالی تو اسے تین دن تک واپسی کا حق رہے گا،مثلًا خریدار کہہ دے کہ میں قبول کرتا ہوں مگر تین روز تک مجھے چیز واپس کردینے کا حق ہے کہ اگر میرا دل نہ چاہا تو واپس کردوں گا،اب اگرچہ ایجاب و قبول ہوچکا مگرخریدار کو اس مدت میں واپسی کا حق ہے اس کا نام خیار شرط ہے۔
۴؎یعنی جب دونوں میں سے ایک نے کہہ دیا کہ میں فروخت کرتا ہوں یا خریدتا ہوں تو دوسرے کو قبول کرنے نہ کرنے کا حق ہے اس حق کا نام خیار عقد ہے۔
۵؎کہ اب دوسرے شخص کو اس کے خیار باطل کرنے کا حق نہ رہا،یہ خود اختیار باطل کرے یا نہ کرے۔وجبکا فاعل خیار ہے نہ کہ بیع اور اگر بیع ہی فاعل ہو تو معنی یہ ہوں گے کہ خیار شرط کی بیع میں دوسرے فریق پر بیع لازم ہوجائے گی اختیار اسے رہے گا جس نے اپنے لیے اختیار رکھا ہے۔
۶؎بیعانسے مراد وہ ہیں جو بیع کرنا چاہتے ہوں یا بیع کررہے ہوں،وہ مراد نہیں ہیں جو بیع کرچکے ہیں جیسے عاقدین انہیں کہتے ہیں جو عقد کررہے ہوں نہ انہیں جو عقد کرچکے،یہ خوب خیال رکھیے اس لفظ سے دھوکا ہوتا ہے اس لفظ سے شوافع خیار مجلس ثابت کرتے ہیں،وہ معنی یہ کرتے ہیں کہ جو بیع شراء کرچکے وہ مختار ہیں۔
۷؎یہ جملہاویختارکی تفسیر ہے کیونکہ خیار شرط دونوں عاقدوں کے لیے نہیں ہو سکتا بلکہ ایک کو اختیار ہوگا دوسرے پر بیع لازم ہوگی جیسا کہ پہلےوجبسے معلوم ہوچکا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2801