Main Icon

باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2972

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَفَعَ إِلٰى يَهُودِ خَيْبَرَ نَخْلَ خَيْبَرَ وَأَرْضَهَا عَلٰى أَنْ يَعْتَمِلُوهَا مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَلِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَطْرُ ثَمَرِهَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي رِوَايَةِ الْبُخَارِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطٰى خَيْبَرَ الْيَهُودَ أَنْ يَعْمَلُوهَا وَيَزْرَعُوهَا وَلَهُمْ شَطْرُ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا.

عن عبد الله بن عمر: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم دفع إلى يهود خيبر نخل خيبر وأرضها على أن يعتملوها من أموالهم ولرسول الله صلى الله عليه وسلم شطر ثمرها. رواه مسلم وفي رواية البخاري: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أعطى خيبر اليهود أن يعملوها ويزرعوها ولهم شطر ما يخرج منها.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللّٰهابن عمر سے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے خیبرکے یہود کو خیبر کے کھجور کے باغ اور وہاں کی زمین اس شرط پر دی کہ اس میں اپنے مالوں سے کام کریں ۱؎اور اس کے آدھے پھل رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کے لیے ہوں ۲؎(مسلم)اور بخاری کی روایت میں یوں ہے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے خیبر یہود کو اس شرط پر دیا کہ کام کاج کریں اسے جوتیں بوئیں اور پیداوار کا آدھا ان کا ہوگا ۳؎

شرح حدیث

۱∞؎جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے خیبر فتح فرمایا اور وہاں سے یہود کو نکالنا چاہا تو انہوں نے عاجزی سے عرض کیا کہ ہمیں یہیں رہنے دیں اور جو چاہیں شرط لگالیں،حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ہم جب تک چاہیں گے تمہیں رکھیں گے اس شرط پر کہ یہاں کی تمام زمین ہماری ہوگی،باغبانی اور کاشتکاری کی محنت تم کرو گے اس کا سامان بھی تمہارا ہوگا،ہل بیل چرسہ وغیرہ جو کچھ پیداواری ہوگی وہ آدھی تمہاری آدھی ہماری۔چنانچہ زمانہ نبوی وعہد صدیقی میں ایسا ہی رہا،شروع خلافت فاروقی میں تو اس پر عمل رہا مگر بعد میں آپ نے ان یہود کو اریحہ اور شام کی طرف نکال دیا۔ خیال رہے کہ یہودی بڑے موذی و غدار تھے، مدینہ منورہ کے نکالے ہوئے بنی نضیر بھی یہیں آبسے تھے، غزوہ خندق انہی کہ حرکتوں سے واقع ہوا اللّٰہ نے بچالیا ورنہ یہ تو ختم کرچکے تھے یہ تو حضور کی وسعت قلبی تھی جو انہیں اتنی رعایتیں عطافرمائیں، آجکل کی سی کوئی حکومت ہوتی تو دنیا سے ایسے غداروں کا بیج مٹادیتی ۔
۲
؎اور آدھے یہود کے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر مزارعت وغیرہ میں ایک فریق کے حصے کا ہی ذکر کیا جائے دوسرے سے خاموشی رہے تب بھی جائز ہے کیونکہ دوسرے کا حصہ خود بخود معلوم ہوجاتا ہے اور یہاں حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم اور تمام وہ مسلمان مراد ہیں جن کا خیبر میں حصہ تھا،ذکر صرف نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کا ہے مگر مراد امت بھی ہے۔
۳
؎دیاسے مراد ہے قبضہ میں دیا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خیبر کا کچھ حصہ صلح سے اور کچھ جنگ سے قبضہ میں آیا اسی لیے وہاں کے یہود غلام نہ بنائے گئے،یہ حدیث ان بزرگوں کی دلیل ہے جو مزارعت و مساقات دونوں کو جائز کہتے ہیں،یہ حضرات فرماتے ہیں کہ جن احادیث میں مخابرہ سے منع کیا گیا وہاں وہ صورت مراد ہے کہ اجرت کے لیے کسی خاص حصے کی پیداوار مقرر ہو کہ اس حصے کی پیداوار تیری ہوگی باقی میری لہذا احادیث میں تعارض نہیں،امام اعظم فرماتے ہیں کہ خیبر کا یہ معاملہ مساقات یا مزارعت نہ تھا بلکہ بطور جزیہ تھا اور آدھا ان کو دینا بطور عطیہ،اس کی مکمل بحث یہاں مرقات میں دیکھئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2972