Main Icon

باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2980

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرَ قَالَ: مَا بِالمَدِينَةِ أَهْلُ بَيْتِ هِجْرَةٍ إِلَّا يَزْرَعُونَ عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَزَارَعَ عَلِيٌّ وَسَعْدُ بْنُ مَالِكٍ وَعَبْدُ اللّٰهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَالقَاسِمُ وَعُرْوَةُ وآلُ أَبِي بَكْرٍ وآلُ عُمَرَ وآلُ عَلِيٍّ وَابْنُ سِيرِينَ وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ الْأَسْوَدِ: كُنْتُ أُشَارِكُ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ يَزِيدَ فِي الزَّرْعِ وَعَامَلَ عُمَرُ النَّاسَ عَلٰى : إِنْ جَاءَ عُمَرُ بِالبَذْرِ مِنْ عِنْدِهٖ فَلَهُ الشّطْرُ، وَإِنْ جَاؤُوا بِالْبَذْرِ فَلَهُمْ كَذَا رَوَاهُ البُخَارِيُّ

عن قيس بن مسلم عن أبي جعفر قال: ما بالمدينة أهل بيت هجرة إلا يزرعون على الثلث والربع وزارع علي وسعد بن مالك وعبد الله بن مسعود وعمر بن عبد العزيز والقاسم وعروة وآل أبي بكر وآل عمر وآل علي وابن سيرين وقال عبد الرحمن بن الأسود: كنت أشارك عبد الرحمن بن يزيد في الزرع وعامل عمر الناس على : إن جاء عمر بالبذر من عنده فله الشطر، وإن جاؤوا بالبذر فلهم كذا رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت قیس ابن مسلم سے وہ حضرت ابوجعفر سے راوی ۱؎فرماتے ہیں مدینہ میں ایسا کوئی گھر والا مہاجر نہیں جو تہائی یا چوتھائی پر کھیتی نہ کرتا ہو اور حضرت علی اور سعد ابن مالک، عبداللّٰهابن مسعود،عمر ابن عبدالعزیز، قاسم،عروہ اور ابوبکر و عمر و علی کی اولاد نے اور ابن سیرین نے کھیتیاں کرائیں ۲؎اور عبدالرحمن ابن اسود کہتے ہیں کہ میں عبدالرحمن ابن یزیدکے ساتھ کھیتی میں شرکت کرلیتا تھا ۳؎اور حضرت عمر نے لوگوں سے اس شرط پر معاملہ کیاتھا کہ اگر عمر اپنے پاس سے بیچ دیں تو انہیں آدھی پیداوار اور اگر وہ لوگ بیچ دیں تو انہیں اتنی پیداوار ۴؎(بخاری)۵؎

شرح حدیث

۱∞؎قیس ابن مسلم جدلی کوفی تابعی ہیں، ۱۲۰ھ؁∞ میں وفات پائی،اشعہ نے فرمایا کہ ان کا مذہب مرجیہ تھا۔واللّٰهاعلم!امام ابوجعفر کا نام محمد باقر ہے،ان کے صاحبزادے امام جعفر صادق ہیں،آپ امام زین العابدین کے فرزند ہیں، تابعی ہیں،حضرت جابر ابن عبداللّٰهسے روایات لی ہیں،آپ سے آپ کے فرزند امام جعفر صادق راوی۔
۲
؎قاسم محمد ابن ابو بکر صدیق کے فرزند ہیں جو مدینہ منورہ کے مشہور سات فقہاء سے ہیں،یوں ہی عروہ ابن زبیر ابن عوام جو اکابر تابعین سے ہیں،آل عمرو غیرہم ثقہ تابعین سے ہیں،یہ سب اپنی زمین میں مزارعت کراتے یا کرتے تھے کہ بعض زمین کے مالک تھے،دوسروں سے کاشت کراتے تھے،بعض دوسروں کی زمین میں خود کاشت کرتے تھے۔معلوم ہوا کہ نہ تو کھیتی باڑی کرنا منع نہ کرانا۔جن احادیث میں اس کی ممانعت ہے وہاں وجہ کچھ اور ہے جو پہلے عرض کی جاچکی وہاں مطالعہ فرمایئے۔
۳
؎عبدالرحمن ابن اسود قرشی زہری ثقہ تابعین مدینہ سے ہیں اور عبدالرحمن ابن یزید اسلمی مدنی تابعی ہیں اگرچہ ضعیف ہیں،ان دونوں کا مزارعت کرنا کرانا علامت جواز ہے۔
۴
؎یعنی زمین تو حضرت فاروق اعظم کی ہے اگر بیج بھی آپ ہی دیں،مزارع صرف محنت کریں تو ان کا اتنا حصہ اور اگر بیج بھی مزارع کا ہو تو اتنا حصہ کچھ زائد۔ معلوم ہوا کہ مزارعت بہرحال جائز ہے خواہ بیج زمین والے کا ہو یا مزارع کا مگر پیداوار کے حصہ پر مزارعت ہو نہ کہ کسی خاص جگہ کی پیداوار۔
۵
؎بخاری نے یہ تمام احادیث و آثار تعلیقًا یعنی بغیر اسناد روایت فرمائیں،بہتر تھا کہ مصنف یوں فرماتےرواہ البخاریتعلیقًا تاکہ طریقہ روایت واضح ہوجاتا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2980