Main Icon

باب: فخر اور تعصب کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4893

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ النَّاسِ أَكْرَمُ؟ قَالَ: أَكْرَمُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ أَتْقٰهُمْ . قَالُوا: لَيْسَ عَنْ هٰذَا نَسْأَلُكَ. قَالَ: فَأَكْرَمُ النَّاسِ يُوسُفُ نَبِيُّ اللّٰهِ ابْنُ نَبِيِّ اللّٰهِ ابْنِ خَلِيلِ اللّٰهِ . قَالُوا: لَيْسَ عَنْ هٰذَا نَسْأَلك. قَالَ: فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُوْنِي؟ قَالُوْا: نَعَمْ. قَالَ: فَخِيَارُكُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُكُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقُهُوا". (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن أبي هريرة قال: سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم: أي الناس أكرم؟ قال: أكرمهم عند الله أتقهم . قالوا: ليس عن هذا نسألك. قال: فأكرم الناس يوسف نبي الله ابن نبي الله ابن خليل الله . قالوا: ليس عن هذا نسألك. قال: فعن معادن العرب تسألوني؟ قالوا: نعم. قال: فخياركم في الجاهلية خياركم في الإسلام إذا فقهوا". (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں کون زیادہ عزت والا ہے ۱∞؎فرمایا سب میں عزت والا الله کے نزدیک ان میں بڑا پرہیزگار ہے ۲؎بولے اس کے متعلق ہم نہیں پوچھتے فرمایا تو لوگوں میں بڑے اشرف یوسف ہیں الله کے نبی اورنبی اللہ کے بیٹے وہ خلیل الله کے بیٹے۳؎وہ بولے ہم اس کے متعلق آپ سے نہیں پوچھتے فرمایا تو کیا عرب کے قبیلوں کے متعلق تم مجھ سے پوچھتے ہو۴؎بولے ہاں فرمایا تم میں سے جو جاہلیت میں بہتر تھے وہ اسلام میں بھی بہترین ہیں جب کہ عالم ہوجاویں ۵؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎الله کے نزدیک یا دنیا و آخرت میں کون محترم ہے۔
۲
؎چنانچہ قرآن کریم فرماتاہے:"اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنۡدَ اللّٰهِ اَتْقٰىکُمْ"۔خیال رہے کہ انسان کیلئے تقویٰ ذاتی شرافت وعزت ہے اسے حسب کہتے ہیں اور عالی خاندان عارضی عزت ہے اسے نسب کہتے ہیں مبارک ہے وہ جو حسب و نسب دونوں میں اعلیٰ ہو۔
۳
؎یعنی یوسف علیہ السلام حسب و نسب دونوں میں بہت اعلیٰ ہیں کہ خود بھی نبی ہیں یہ ان کی حسبی عظمت ہے ان کے تین پشت میں نبوت ہے کہ والد نبی دادا پردادا نبی یہ ان کی نسبی شرافت ہے یہ ان کی خصوصیت ہے جیسے حضرات صحابہ میں ابو بکر صدیق کہ حسبی اشرف بھی ہیں کہ صدیق ہیں نسبی اشرف بھی کہ آپ کی چار پشتوں میں صحابیت ہے خود صحابی ماں باپ اولاد صحابی پوتے نواسے صحابی یہ آپ کی خصوصیت ہے۔حضرت یوسف علیہ السلام میں نبوت،علم،عالی نسبی جود و سخا،عدل دین دنیا کی ریاست جمع ہیں۔
۴
؎معادنجمع ہےمعدنکی بمعنی کان،قبیلہ کو معدن کہتے ہیں کہ وہ ایک جماعت کی کان ہوتا ہے یعنی کیا تم مجھ سے عرب کے قبائل کے متعلق پوچھتے ہو کہ کونسا قبیلہ اشرف ہے۔
۵
؎یعنی اسلام لانے سے اعلیٰ خاندانی آدمی کی شرافت گھٹ نہیں جاتی بلکہ بڑھ جاتی ہے اور اگر وہ عالم باعمل بھی ہوجاوے تو صرف خاندانی مسلمان سے افضل ہوگا۔خلاصہ یہ ہے کہ جو زمانہ کفر میں اپنی قوم میں اعلیٰ و افضل ہو وہ مسلمان ہوکر بھی اعلیٰ و افضل ہی رہے گا اسے نو مسلم یا دیندار سمجھ کر ذلیل نہ سمجھا جاوے گا۔اگر وہ عالم باعمل بھی ہوجاوے تو اس کی شرافت کو اور چار چاند لگ جاویں گے مثلًا آج کوئی بڑا عزت والا پادری یا پنڈت مسلمان ہوجاوے تو اسے نو مسلم یا دیندار کہہ کر حقیر نہ جانو اس کی عزت و احترام باقی رکھو اور اگر وہ عالم ہوجاوے تو اس کا بہت احترام کرو یہاں فقہ سے مراد عالم باعمل ہے،پھر بھی مطلب وہ ہی ہوا کہ شرافت علم و تقویٰ پر ہے غرضکہ حسب ونسب دونوں کی شرافت کا اجتماع رب کی رحمت ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4893